ڈاکٹر کامران احمد نے اپنے ناول GODDESS OF THE INDUS میں انسانی روحانیات اور جنسیات کی روایات، جمالیات اور نفسیات کے حوالے سے جو سوالات اٹھائے ہیں وہ ہمیں کچھ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں اور یہی اس ناول کی کامیابی کا راز ہے۔
میں کامران احمد کے ناول کے چند ابواب کے چند اقتباسات کا ترجمہ اور تلخیص آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں تا کہ آپ بھی اس ادبی دیگ کے چند تخلیقی چاول چکھ سکیں اور آپ کے دل میں اس ناول کو پڑھنے کی تحریک پیدا ہو۔ میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ اس ناول سے محظوظ بھی ہوں گے اور مسحور بھی۔ میری طرح یہ آپ کو بھی کچھ سوچنے پر مجبور کرے گا۔
( 1 ) ۔
رقص شروع ہو چکا تھا لیکن سفید پتھروں کے مقدس دائرے میں صرف سات دیویاں محو رقص تھیں۔ ابھی دیگر عورتوں رقص کے دائرے میں شامل ہونے کا انتظار کر رہی تھیں۔ مرد اگر رقص کناں ہوتے بھی تو انہیں مقدس دائرے میں داخلے کی اجازت نہیں تھی۔ دیوی مہرانی نے چودھویں کے چاند کے روحانی رقص کی روایات، قوانین اور ضوابط سے مقدس بستی کے سب مردوں اور عورتوں کو باخبر کر رکھا تھا۔ مہرانی دیوی نے ایسی حدود متعین کر رکھی تھیں جن کو پار کرنے کی کسی میں ہمت اور جرات نہ تھی۔
صیام حالت استغراق میں تھا اور وہ اپنے ماحول سے بے خبر آنکھیں بند کیے ڈھولوں کی تھاپ پر اپنے بیٹے پانیا کو سینے سے لگائے رقص کر رہا تھا۔ وہ موسیقی کی دھن اور بیٹے کی دل کی دھڑکن میں اتنا محو ہو گیا کہ اس کا اپنے ماحول سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ وہ اپنے دھمال میں اتنا غرق ہوا کہ اس کا داخلی اور خارجی دونوں دنیاؤں سے رشتہ ٹوٹ گیا اور وہ موسیقی اور رقص کی دنیا میں کھو گیا۔
لوگ اسے حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ اس کا رقص انہیں بھی دروں بینی کی دعوت دے رہا تھا۔ بعض لوگ حیران تھے کہ ایک مرد کس طرح مقدس دائرے میں داخل ہو گیا ہے۔ صیام کے ممنوعہ دائرے میں داخل ہونے کے بعد چند دیویوں نے رقص کرنا بند کر دیا تھا۔ ان دیویوں میں ایک سسنا بھی تھی جس کی یہ ذمہ داری تھی کہ اس شام محفل میں شرکا سب مرد اور عورتیں روایات کا احترام کریں۔ سسنا نے محافظوں کی طرف دیکھا۔
عام حالات میں محافظ سسنا کے حکم کی تابعداری کرتے تھے لیکن اس شام وہ بھی صیام کے رقص سے اتنا محظوظ ہو رہے تھے کہ اسے مقدس دائرے سے نکالنے کے لیے اس مقدس دائرے میں داخل ہونے سے ہچکچا رہے تھے۔
ڈھول بجانے والوں نے جب صیام کو عالم بے خودی کے حال میں آتے دیکھا تو اپنی تھاپ جاری رکھی تا کہ صیام کا مرغ بسمل کی طرح روحانی رقص جاری رہے۔
جب محافظوں نے سسنا کی حکم کی پیروی نہ کی اور صیام کو مقدس دائرے سے باہر نہ نکالا تو اس کے لہجے میں غصے کی لہریں ابھرنے لگیں۔ وہ صیام کے قریب آئی لیکن اس کے عالم بے خودی کو دیکھ کر وہ بھی مبہوت ہو کر رک گئی۔
آخر صیام کی بیوی متنگا نے آگے بڑھ کر صیام کی گود سے اپنا بیٹا پانیا چھینا اور اسے دھکا دے کر مقدس دائرے سے باہر نکال پھینکا۔
صیام اپنے ماحول سے بے خبر اپنے عالم بے خودی میں زمین پر بیٹھ گیا۔ بیٹھتے وقت بھی اس کا ایک ہاتھ آسمان کی طرف تھا اور اس کی ہتھیلی کھلی تھی۔ اس نے اس وقت بھی سر کو جھکایا ہوا تھا جیسے وہ کسی کی عقیدت کے عالم استغراق میں ہو۔
صیام کا دوست جاون آگے بڑھا اور صیام کا بازو پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لے آیا۔ جانے سے پہلے اس نے متنگا کو زہر بھری نظروں سے دیکھا۔ (صفحہ 16 )
( 2 ) ۔
جب وبین نے صیام سے پوچھا کہ وہ دیویوں کے ممنوعہ مقدس دائرے میں کیوں داخل ہوا تو اس نے معذرت کرنے کی بجائے کہا
ویبن تم بخوبی جانتے ہو کہ میرے دل میں ایسی روایات کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے
(صفحہ 23 )
( 3 ) ۔
جب سسنا نے دیویوں کی محفل میں مشورہ دیا کہ صیام نے دیوی کی توہین کی ہے اور اس توہین کی سزا موت ہے تو دوسری دیویوں نے بھی اس کا ساتھ دیا۔
درشیکا سسنا کی باتوں سے بہت مرعوب ہوئی تھی لیکن وہ یہ بھی جانتی تھی کہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ اس مقدس بستی امبکشالہ میں اس سے پہلے نہ تو کسی نے دیوی کی توہین کی تھی اور نہ ہی کسی کو موت کی سزا دی گئی تھی۔
درشیکا اور سسنا نے موت کی سزا کے بعد یہ بھی فیصلہ کیا کہ اگر اس بستی میں کوئی موت کی سزا پر معترض ہو گا تو وہ کہیں گی کہ یہ سزا صیام کے اپنے اعمال کی سزا ہے۔ نہ وہ مقدس دائرے میں داخل ہوتا نہ دیوی کی توہین کرتا اور نہ ہی اسے سزائے موت ہوتی۔ (صفحہ 61، 64۔ )
( 4 ) ۔
صیام کو جب موت کی سزا سنا دی گئی تو وہ اپنی منہ بولی شیرانی ماں کی گود میں سر رکھ کر رویا۔ کہنے لگے
”ماں میرے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ میں اپنے بیٹے کو نہ بچا سکا اور وہ مر گیا۔ میں اس کا قاتل ہوں“
شیرانی ماں نے تسلی دیتے ہوئے کہا
”تم نے اپنے بیٹے کو قتل نہیں کیا۔ وہ ایک حادثے کا شکار ہو گیا تھا۔ تم معصوم ہو“
”نہیں میں معصوم نہیں ہوں۔ میں قاتل ہوں۔ میرے ہاتھ خون سے سرخ ہیں۔ میں اب زندہ نہیں رہنا چاہتا۔“
جب صیام کی شیرانی ماں نے موت کی سزا کے خلاف احتجاج کیا تو درشیکا نے موت کی سزا کی حمایت کی۔ اور کہا
”صیام نے دیوی کی ناموس پر حملہ کیا ہے۔ اس کی توہین کی ہے اور ایسی توہین کی سزا موت ہے“
آخر شیرانی کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور اس نے درشیکا سے کہا
”صیام نے دیوی کی توہین نہیں کی تم دیوی کے نام پر قتل کرنا چاہتی ہو تم صیام کو موت کی سزا دینے سے دیوی کی توہین کر رہی ہو“ (صفحہ 68 )
ختم شد
