سلطنت حسین رضی اللّٰہ عنہ 203

سلطنت حسین رضی اللّٰہ عنہ

اشکوں کی جھولی میں یاد آرہا ہے کہ حسین رضی اللّٰہ عنہ کتنا حسین ہے۔ حسینؓ کی زندگی کا ہر لمحہ اس کی وسیع سلطنت کی گواہی دے رہا ہے۔ حسینؓ کی زیست کا ہر پہلو بتا رہا ہے حسینؓ کی سلطنت بہت حسیں ہے۔ سلطانیاں بخشنے والے حسینؓ کی سلطنت صرف زمین پر نہیں، آسماں بھی اس کی سلطنت کا حصہ ہیں۔ سردارِ بہشت کی سلطنت کو بیان کرنا شروع کروں تو لفظ ختم ہو جائینگے، سلطنت کی وسعت بیان نہیں ہو گی۔ زمیں پر سلطنت حسینؓ کا آغاز آغوشِ رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوتا ہے، اسی خوبصورت سلطنت میں جبرائیل قاصد بن کر آتا ہے، زمیں والے حسینؓ کی آمد سے پہلے اس حسیں نام سے واقف نہیں تھے، یہ نام آسمانوں کی عطا ہے۔ مدینے کی گلیوں کی تاریخ گواہی دیتی ہے کہ اس مٹی نے جن دو شہزادوں کے قدموں کے بوسے لئے ان میں سے ایک حسینؓ ہے۔

مدینے کے لوگ ان شہزادوں کا دیدار ذوق و شوق سے کرتے رہے،اصحاب نبیؐ کی آنکھوں نے دیکھا کس طرح مسجد نبویؐ میں با جماعت نماز کی ادائیگی کے دوران سرکارِدوعالم محمد ِمصطفیٰ ﷺ نے سجدے طویل کئے۔ مسجد نبویؐ میں ادا کئےگئے سجدوں کی طوالت کی وجہ حسینؓ ہیں۔ تاریخ بولتی ہے کہ حسینؓ، نبی کی پشت پر سوار ہوتے تو سجدے طویل ہو جاتے۔ تاریخ نے صرف یہ مناظر نہیں دیکھے بلکہ ان دو شہزادوں کو نبی کے کاندھوں پر سوار بھی دیکھا۔ زمین و آسماں کی نگاہوں نے پنج تن پاک کو چادر تطہیر میں دیکھا۔ تاجدارِ دو جہاں محمد مصطفیٰ ﷺنے شانِ اہل ِبیت میں سینکڑوں احادیث بیان فرمائیں۔ مدینےکےدو خوبصورت شہزادوں کیلئے جنت سے ملبوسات اور کھانے آتے رہے، شہزادوں کی ماں کی کوئی نماز قضا نہیں، شہزادوں کے باپ نے بیت اللّٰہ میں جنم لیا اور پھر اپنی تلوار سے دشمنان اسلام کو چیر کے رکھ دیا۔ یہ پورا گھرانہ ہمیشہ دشمنانِ حق کی نگاہوں میں کھٹکتا رہا، ان کی زندگیوں کی داستانیں یہی بتاتی ہیں کہ یہ حق کیلئے لڑتے رہے، جانیں قربان کرتے رہے، انہوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کر کے حق کے پرچم کو سر نگوں نہیں ہونے دیا۔ صدیوں سے باطل کے ارادے جمع ہوتے رہے جس کی انتہا کربلا میں نظر آئی۔

جہاں بہت سے لوگوں نے انصاف سے کام نہیں لیا وہاں بد قسمتی سے مؤرخ بھی تاریخ سے انصاف نہیں کر سکا بلکہ یوں کہئے کہ مورخین نے اہلِ بیت سے متعلق حقائق کو چھپایا۔ تاریخ ہمیں یہ تو بتاتی ہے کہ حسینؓ کو نبیؐ کی آغوش میں تو کبھی نبیؐ کے کاندھوں پر دیکھا گیا، نبیؐ کے طویل سجدوں کا ذکر بھی ملتا ہے مگر مورخین ناجانے حسینؓ کے بچپن سے لے کر شہادت تک کے درمیانی سفر کو بیان کرنا کیوں بھول گئے۔ تاریخ میں حسینؓ کے بچپن کے واقعات ملتے ہیں یا پھر شہادت کا تذکرہ ملتا ہے۔ مورخین نے جہاں یہ ناانصافی اہل ِبیت سے کی وہاں ان کے جانثاروں کو بھی نہ بخشا گیا۔ وصال نبی کے بعد مؤرخ حضرت سلمان فارسیؓ، حضرت ابوذرؓ، حضرت مقدادؓ، حضرت جابر بن عبداللّٰہ ؓ، حضرت بلالِ حبشیؓ، حضرت عمار یاسرؓ اور حضرت ابوایوب انصاری رضوان اللّٰہ عنہم سمیت جانثارانِ اہل ِبیت کا تذکرہ کرنا ہی بھول گئے۔ اس ظلم کو کیسے بیان کیا جائے کہ وصال نبی کے بعد آل نبی کے کسی فرد کی وفات طبعی نہیں ہوئی۔

چلو مورخین نے جو کیا سو کیا، اس سے حسینؓ کا رتبہ نہ کم ہوا ہے نہ ہو سکے گا۔ حسینؓ کی سلطنت زمین و آسمان میں پھیلی ہوئی ہے۔ دنیا کا کوئی کونہ ایسا نہیں جہاں حسین ؓ کے نام لیوا نہ ہوں اور یاد رکھو کائنات میں کوئی لمحہ ایسا نہیں جس میں اللّٰہ تعالیٰ محمد و آل محمد پر درود نہ بھیج رہا ہو۔ یہ کام فرشتے اور انسان بھی کرتے ہیں۔ حسینؓ مدینے سے چلا، کسی لشکر کے ساتھ نہیں اپنے اہل و عیال کے ساتھ، مکہ پہنچ کر نئی سازشوں کا علم ہوا تو حسین ؓنے مکہ کی پاکیزگی کا احساس کرتے ہوئے کوفہ کی طرف مسافت شروع کی۔ مکہ سے کربلا قریباً ساڑھے سترہ سو کلومیٹر ہے۔ 8 ذوالحج 60 ہجری بمطابق 10 ستمبر 680 عیسوی کو حسین مکہ سے عازم سفر ہوئے۔ اس سفر میں حسین چودہ مقامات پر رکے، حسینؓ کا قافلہ بالآخر کربلا پہنچ گیا، یہیں دین حق کیلئے بہادری کے ساتھ سب سے بڑی قربانی دی گئی، یہیں صبر و رضا کی اعلیٰ مثالیں قائم ہوئیں، یہیں سجدہ شبیری ادا ہوا، کربلا میں سب کچھ عروج پر ملتا ہے، قربانی ہو کہ صبر، ظلم ہو یا جبر، انسانیت کی معراج ہو یا توہین، کربلا سے شام تک قرآن معجزے دکھاتا رہا۔ دربارِ یزید میں علیؓ کی بیٹی نے دین حق کیلئے یادگار خطبہ دیا۔ نیزے پر قرآن پڑھنے والے حسینؓ کی سلطنت زمین و آسمان پر پھیلی ہوئی ہے جبکہ دشمنان حسینؓ کی قبریں کہیں پستیوں میں غرق ہو چکی ہیں۔

’’مناقب اہل ِبیت رسول‘‘ کے نام سے سید محمد ضیاء محی الدین گیلانی کی کتاب میں بہت کچھ لکھ دیا گیا ہے، یہ کتاب پڑھنے کے قابل ہے۔ بقول محسن نقوی

نہ پوچھ میرا حسین کیا ہے

حسین سلطان دین و ایماں

حسین افکار کا سکندر

حسین سے آدمی کا رتبہ

خدا کی بخشش ہی خیمہ زن ہے

حسین کی سلطنت کے اندر

بشکریہ ڈان ںیوز