آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس میں شرکاء کو قومی سلامتی سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہا گیاکہ پڑوس میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان ہماری قومی سلامتی کیلئے خطرہ ہے، افغانستان کے اندر ان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں اور انہیں جدید ہتھیاروں کی دستیابی کے باعث ہماری سیکورٹی متاثر ہو رہی ہے۔
آرمی چیف نے حال ہی میں ایران کا جو دورہ کیا، اس میں بھی دہشت گردی کے اس مشترکہ خطرے کو اٹھایا گیا آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ آرمی چیف کی ایرانی عسکری قیادت سے ملاقاتوں میں سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے موثر تعاون پر اتفاق کیا گیا۔ پاک ایران فوجی سربراہان نے دہشت گردی کو مشترکہ خطرہ قرار دیتے ہوئے انٹیلی جنس شیئرنگ آپریشن کے ذریعے دہشت گردی کے خاتمے کا عزم کیا اور یہی بات ایرانی صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات کے دوران بھی کہی گئی۔ اس وقت پاکستان کو اپنی مشرقی سرحد پر اس نوع کے مسائل درپیش نہیں، جس نوع کی دہشت گردی شمال مغربی سرحد یا ڈیورنڈلائن کی جانب سے ہے ۔ابھی تازہ واردات پشاور کے علاقے حیات آباد کے قریب FCکی گاڑی پر خودکش حملےکی صورت میں ہوئی ہے جس میں دس اہلکار زخمی ہوگئے۔
اس سے قبل اسی مہینے بلوچستان کے علاقے تربت میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک میجر سمیت چھ اہلکار راہی ملک عدم ہوئے ضلع شیرانی میں دوسراسانحہ ہوا جہاں چوکی کی چھت پر سوئے اہلکاروں پر حملہ ہوا، پولیس اور ایف سی کے چار اہلکار اپنی جانیں گنوا بیٹھے اور TTPنے کھلے بندوں ان وارداتوں کی ذمہ داری قبول کی ۔افغانستان میں جب سےطالبان کی حکومت برسراقتدار آئی ہے اس نوع کے واقعات تسلسل سے پیش آرہے ہیں اور ایسے حملے زیادہ تر ہمارے عسکری جوانوں، ایف سی کے اہلکاروں یا عسکری تنصیبات پر سوچی سمجھی پلاننگ کے ساتھ کئے جا رہے ہیں۔
خدارا درویش کو یہ کہنے کی اجازت عنایت فرما دیں کہ پاکستان کےبعض حلقے آج بھی طالبان کی محبت سے سرشار ہیںبلکہ مسئلہ محض ان کا نہیں، کیا تیس مار خاں وزیر اعظم نےپورے قومی میڈیا کے سامنے نہیں کہا تھاکہ افغانستان میں طالبان کی فتح سے امریکی غلامی کی زنجیریں ٹوٹ گئی ہیں ؟کیا وہ پاکستان کا ہی وزیراعظم نہیں تھا جس نے اسمبلی کے فلور پر اسامہ بن لادن کو شہید کہا تھا۔کیا امریکی ہمارے اسی طرز عمل کی وجہ سے ہم سے دورنہیں ہوئے ؟ کیا ہمارے اندر یہ سوچ نہیں پائی جاتی تھی کہ طالبان کے آنے سے ہماری مغربی سرحد محفوظ ہو جائے گی حالانکہ وہ ڈیورنڈ لائن کو سرحد ماننے کیلئے تیار ہی نہیں؟
خدارا اس بات کو ازبر کر لیں کہ طالبان طالبان ہیں وہ ٹی ٹی پی ہوں یا ٹی ٹی اے، ان کا نظریہ حیات ایک ہے اور اپنے مشن کیلئے جان پر کھیل جانا ان کے ایمان کا تقاضا ہے۔ وہ اتنے حساس ہیں کہ وہ اپنے نوجوانوں کو بھی اگر کافروں سے تعاون کرتے دیکھیں تو انہیں بھی نہیں چھوڑتے ،اس سلسلے میں ایک تازہ رپورٹ قابل ملاحظہ ہے۔افغانستان میں امریکی فوج کے معاون اور مترجم کے طور پر خدمات انجام دینے والے افغان شہری کو واشنگٹن میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا ۔اکتیس سالہ نصرت احمد یار نے اپنی بالغ زندگی کا بیشتر حصہ افغانستان میں امریکی فوج کے ساتھ کام کرتے ہوئے گزارا وہ اگست 2021ء میں امریکی فوج کے انخلاء اور کابل پر طالبانی قبضے کے بعد اپنی بیوی اور چار بچوں کیلئے بہتر زندگی کی تلاش میں امریکہ چلا گیا۔امریکہ میں نصرت کو رائیڈشیئر ڈرائیور کے طور پر کام مل گیا اس طرح وہ اپنے اہلخانہ کی مدد کیلئے رقم افغانستان بھیجنے لگا۔وہ واشنگٹن کے مضافاتی علاقے میں رہتا تھا، گزشتہ رات وہ فکر روز گار میں گاڑی چلاتے ہوئے باہر نکلا تو اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
اپنی نوعیت کا یہ واحد سانحہ نہیں اس نوع کے سینکڑوں ہزاروں سانحات ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں جن لوگوں نے امریکیوں کے ساتھ مترجم یا ترجمان کے طور پر کام کیا تھا طالبان کے آنے پر وہ ملک سے بھاگ جانے کیلئے رو رہے تھے آخر کیوں؟ کتنے آرٹسٹ ہیں جنہیں طالبان نے موت کے گھات اتارا؟ان کا جرم کیا تھایہ کہ وہ غیر اسلامی و غیر شرعی کام کر رہے تھے؟
حافظ صاحب کا دکھ درد سر آنکھوں پر لیکن اگرمذہب کو سیاست میں استعمال لایاجائےگا تو پھر اس کے نتائج یہی نکلیں گے جن کا رونا آج ہم پوری دنیا میں رو رہے ہیں۔