ووٹر اور حکام ملکی رواں دواں لیکن آلودہ ابلاغی دھارے (کمیونیکیشن فلو) کے جائزے کے لئے پڑھو، سنو اور دیکھو، پھر سوچو اور سمجھ کر اپنے فیصلے اور دلجمعی سے ان (فیصلوں) کا اطلاق کرو۔ فیصلہ سازی اور اطلاق پر کسی کی اجارہ داری نہ بننے دو۔ ترقی یافتہ اور تیزی سے ترقی کرتے ممالک پھر محدود لیکن مسلسل ترقی کرتی اقوام کا اپنے اپنے درجے میں یہ شیوہ ہے۔ پسماندہ ممالک کی تعداد اب دنیا میں آٹے میں نمک کے برابر رہ گئی ہے۔ جہاں عوامی سیاسی شعور کم ترین درجے پر ہے۔گنتی کے چند ہی ممالک ایسے ہیں جو تیزی سے ترقی کرتے کرتے خود کردہ را علاج نیست (اپنے کئے کا کوئی علاج نہیں) کے زمرے میں آنے والے مسلسل بڑے بڑے قومی ڈیزاسٹر میں مبتلا ہو کر دائروں کے سفر میں تشویش مسلسل کا شکار ہیں جو مقروض و منگتے ممالک بن کر رہ گئے۔ ان کی گردن آئی ایم ایف کے بے رحم شکنجے میں رہتی ہے، کبھی قدرے ڈھیلی اور کبھی ٹائٹ کر دی جاتی ہے۔ یہا ں کے حکام ذرا سی ڈھیل کو اپنی بڑی کامیابی سمجھ کر عوام پر احسان عظیم جتاتے رہتے ہیں کہ دیکھو! ہم نے تمہاری گردن کی گرفت کم کرا دی، حالانکہ ایسانہیں ہوا، اصل میں تو وہ مملکت کے ڈیفالٹ (قرقی) ہونے سے بال بال بچنے پر یہ شور مچاتے ہیں، جبکہ عوام الناس کبھی کے کنگال ہو کر اپنے بل بوتے پر حاصل معیار زندگی کو کھوتے کبھی کے مفلوک و نیم مفلوج ہو چکے ہوتے ہیں۔
اب ان ممالک میں (وائے بدنصیبی) وطن عزیز، مصر، گھانا، کینیا اور سری لنکا شامل ہیں۔ یہ ان بارہ ممالک میں شامل ہیں جو اپنا پہلا اسٹیٹس کھو کر ڈیفالٹ ہوگئے یا ان پر اس کی تلوار لٹکی ہوئی ہے جو ترقی پذیر رہتے یا تیز تر ترقی کے مراحل میں بھی آئے لیکن بدتر انداز حکمرانی خصوصاً مالی کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال سے میرٹ کی حوصلہ شکنی اور کنبہ پروری اور بلا کی چاپلوسی سے پیدا ہونے والے طبقہ امرا کے حصار سے دو قانونی نظام کی لعنت مسلط کرنے میں کامیاب ہوئے۔ یاد رہے پاکستان 50 اور 60 کے عشروں میں ترقی پذیر ممالک سے تیزی سے ترقی کرتے ممالک کی فہرست میں آگیا تھا۔ لیکن آخر الذکر عشرے میں زرعی انقلاب اور تیز تر صنعتی ترقی کرتا، حکام اور عوام میں پارٹیسپٹری اپروچ کے فقدان کی وجہ سے دھڑام سے نیچے آ گرا۔ ہوتی اور ہوئی ترقی، ادارے اور عوامی خدمات کے بنے بنائے بخوبی چلتے ڈلیور کرتے سرکاری محکمے تطہیر کے عمل میں آگئے اور تیزی سے ان کا معیار گرتا گیا۔ رہی سہی کسر نیشنلائزیشن کی تباہ کن پالیسی نے نکال دی جو بھٹو حکومت کے کسی ماہر اقتصادیات نہیں بلکہ پیپلز پارٹی قائم کرنے والے ایک بانی انجینئر رکن کے ذہن کی مہلک ثابت ہوئی اختراع تھی جو بھٹو کی غریبوں، مزدوروں، کسانوں کی ہمدردی کا پکا یقین دلانے کے لئے اختیار تو کر بیٹھے لیکن فیصلہ مکمل آمرانہ نہیں بھی تو بھٹو کے اتفاق سے مکمل اجارہ دارانہ تھا، جس میں پارٹیسپٹری اپروچ (شراکت داری) دور دور تک نہ تھی۔ بلکہ سب کچھ اس کے ریورس ہوا۔ پاکستانی عوام کی حقیقی اور خود حکومت کی دعوے کی حد تک اپروچ جمہوری تھی، لیکن نیشنلائزیشن کی پالیسی متصادم نظام و مزاج کی اختیار کی گئی۔ کوئی ایک عشرے کے بعد بے نظیر نے جنگ لاہور کے فورم پر کھل کر اعتراف کیا کہ ہماری یہ پالیسی غلط تھی اور اب ہم سوشل ڈیموکریسی کا ٹریک اختیار کرکے ملک کو فلاحی بنا کر عوامی کی بنیادی ضرورتوں کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔
اس پر بے نظیرکی بھرپور تائید میں ناچیز راقم کا کالم جنگ آرکائیو میں محفوظ ہے۔ لیکن آنے والی حکومتوں کے اجارہ دارانہ مزاج کے باعث محترمہ کی اس کمٹمنٹ کے باوجود پاکستان اپنے قیام کے بنیادی مقاصد کے مطابق ’’فلاحی مملکت‘‘ تو کیا بنتا، آج بدترین ریاستی مالی سسٹم کے ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ اناڑی ہونے کے باوجود عمران حکومت نے اس اپروچ کو تبدیل کیا، نتائج آنے لگے تو سیاسی مہم جوئی سے اسے ختم کردیا گیا۔ کج بحثی کے لئے ادھر ادھر کے ’’دلائل‘‘ کے ڈھیر لگا کر اقتدار میں طویل عرصے تک باریاں لینے والے حکمراں اپنی کھال بچائے رکھنے کی چرب زبانی ہی کرتے رہے، لیکن بطور سیاست دان یہ آج مکمل داغدار ہوگئے کیونکہ یہ اب پارٹیسپٹری اپروچ کو دفن کرکے متفقہ آئین کی موجودگی کے باوجود امور سیاست پر اپنی مکمل اجارہ داری قائم کئے ہوئے ہیں، نتیجتاً یہ کھرب پتی ہوئے اور عوام کنگال اور دال روٹی کو ترس گئے۔ اب تو بھرم رکھنے والی قومی خزانے کی تجوریاں بھی خالی ہوگئیں اور مقروض عوام بن گئے، جس طرح پاکستان حکام اور ان کے جملہ معاون اولیگارکی (مافیا راج میں تبدیل ہوگئے) جو ادھار پر ادھار لے کر بغلیں بجا رہا ہے۔پاکستان میں اپنے تاریخی پس منظر کے ساتھ مارشل لائوں میں بھی عوام کے بڑے حصے کا عدم اطمینان اور ریاستی امور سے خود باہر رہنے کی بے چینی کا رویہ مسلمہ تاریخی سیاسی حقیقت ہے۔ اس کا واضح اظہار حکومتوں کے خلاف کسی نہ کسی درجے کی مخالفت و مزاحمت سے بھی ہوتا ہے۔ آج جو ہم تاریخ کے بدترین سیاسی و معاشی عدم استحکام میں مبتلا ہیں اس میں پارٹیسپٹری اپروچ کا مکمل مائنس ہونا اور پالیسی و فیصلہ سازی پر ہمارے پارٹیسپٹری نظام (آئین پاکستان 1973ء) سے مکمل متصادم ہو چکا ہے،نتیجتاً پاکستانی قومی بشمول ریاستی اداروں اور محکموں کے گہری تشویش کی حد تک منقسم ہو چکی ہے۔ پارٹیسپٹری اپروچ کے عمل میں ڈھلنے کے منظم انتظام مقامی (بلدیاتی) سطح سے صوبائی و قومی سطح تک عوامی شراکت داری بذریعہ شفاف، آزاد غیر جانبدار عمل (یعنی بمطابق آئین) ہی وہ واحد اور صراط مستقیم ہے جو جتنے بلند درجے پر اختیار کیا گیا عوام اتنے ہی مطمئن ہوں گے اور یقیناً اتنا ہی سیاسی و معاشی استحکام حاصل ہوگا۔ پاکستان اپنے دولخت ہونے تک مشرقی پاکستان کی مسلسل بےچینی اور پھر بالغ حق رائے دہی کے بڑے قانونی انتظام (الیکشن 1970ء ) سے محرومی کی انتہا (بشکل انکار نتائج) سے ہی دولخت ہوا۔ 1977ء کے الیکشن میں بھی آمرانہ ہتھکنڈوں سے عوام کی تشکیل حکومت کے آئینی حق میں بڑی رکاوٹیں ڈال کر مطلب کے نتائج حاصل کرنے پر ایک اور مارشل لا کی راہ نکلی۔ آج پھر قومی مرکزی ابلاغی دھارے کے ایک بڑے ذریعے مین اسٹریم میڈیاپر اجارہ داری اور فسطائی انتظامی اقدامات اور آئندہ الیکشن میں اس کی بدترین شکل اختیار ہونے کے خدشات و خطرات سے پاکستان دائروں کے اندر ہی گھٹا دبا رہتا معلوم دے رہا ہے۔ پارٹیسپٹری اپروچ ناچیز یا کسی کی رائے یا تجویز نہیں پارٹ آف کنفرمڈ اینڈ پریکٹسنگ نالج ہے۔ کراچی کے بلدیاتی انتخاب سے نومبر میں ہونے والے انتخابات تک گمان غالب یہ ہے کہ اسے سخت مجرمانہ حد تک نظر انداز کرکے کوئی اور بڑا قومی ڈیزاسٹر نہ کردیا جائے (میرے منہ میں خاک) لیکن سوچو، سمجھو اور جو مطلوب ہے وہ کرو جس جس نے کرنا ہے۔ وما علیناالالبلاغ۔