سانسوں کی مالا پر سمروں نسدن پی کا نام 1838

سانسوں کی مالا پر سمروں نسدن پی کا نام

سانسوں کی مالا پر سمروں نسدن پی کا نام 

اپنے من کی میں جانوں اور پی کے من کی رام 

 

آپ نے یہ غزل نصرت فتح علی خان  کی زبان سے سنی ہو گی اور اس سے خوب محظوظ بھی ہوئے ہوں گے۔۔ یہ دراصل ایک بھجن ہے جو "میرا بائی " نے کرشن  کے لئے نذرانہ عقیدت پیش کیا۔۔ میرا بائی (پیدائش: 1502ء — وفات: 1556ء) ہندو دھرم کے بھگوان کرشن کی بھکتی والے فرقے کی مقبول شاعرہ تھیں۔ ان کا جنم 1502ء یا 1498 میں جودھ پور کے کڑکی گاؤں میں ہوا تھا۔۔میرا اپنے کرشن کی محبوبہ تھی یعنی میرا کرشن کو اپنے شوہر مانتی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ اس دنیا میں کرشن کے سوائے کوئی مرد ہے ہی نہیں۔ وہ کرشن کی حیثیت کی دیوانی تھی۔ جبکہ کرشن  3228 قبل مسیح میں پیدا ہوئے اور ان کی وفات 3102 ق م مِیں ہوئی۔۔ اس لحاظ سے میرا بائی اور کرشن کے زمانوں میں کم وبیش 4000 سال کا فرق ہے۔ مگر میرا بائی ان کی محبت میں اتنی دیوانی ہوئیں کہ ان سے ملاپ اور ان کو پانے کے لئے بھوک اور پانی اور کھانے پینے سے کنارہ کش ہو گئیں کہ جب تک کرشن انہیں خود نہ کھلائیں وہ نہیں کھائیں گی۔۔ 15 ویں دن کرشن انسانی روپ میں ان سے ملے اور اپنے ہاتھ سے کھانا کھلا کر ان کا پندرہ دن کا روزہ افطار کرایا۔۔ تب سے ہندو مذہب میں کہا جاتا ہے کہ کرشن رادھا کے بھی تھے اور میرا کے بھی۔۔ 

اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام  سے 40 دن کا روزہ منسوب ہے

"یسوع مسیح نے بپتسمہ لینے کے بعد 40 دن تک روزہ رکھا تاکہ وہ زمین پر خدا کی مرضی کو پورا کر‌نے کے لیے خود کو تیار کر سکیں۔—‏لُوقا 4:‏1، 2‏۔‏" 

مسیحی تعلیمات کے مطابق عام طور پر تو روزہ چوبیس گھنٹے کا یعنی ایک شام سے لے کر اگلی شام تک ہوتا ہے۔ لیکن بعض لوگ شخصی ریاضت اور مَنتوں اور شکرگزاریوں کے لیے 36 گھنٹے، 48 گھنٹے، 72 گھنٹے یا اس سے زائد وقت بھی روزے کی حالت میں رہتے ہیں۔ بنیادی طور پر مسیحی روزے کا تعلق مخصوص وقت کو پورا کرنے سے نہیں بلکہ جتنا وقت آپ خداوند سے کمٹ کرتے ہیں اس کو دعائیہ روح میں گزارنے سے ہے، یہ وقت 24 گھنٹے سے کم بھی ہو سکتا ہے مگر جتنا ہو خدا کے لیے ہو۔

اسی طرح 3 دن کا روزہ یعنی 72 گھنٹے بغیر کچھ کھائے پیئے عیسائی پادیوں کے کچھ طبقات کو بپتسمہ( یعنی پاک کئے جانے) کے بعد رکھوایا  جاتا ہے تاکہ ان کی روح میں شفاء دینے کی تاثیر پیدا ہو۔۔ اور جن انسانوں نے خود کو پاک کرنا ہو ان کو 3 دن کا روزہ عیسائیت اور یہودیت میں رکھوایا جاتا ہے تاکہ روحوں کو طہارت حاصل ہو۔ 

اسی طرح موسی علیہ السلام  نے 40 دن کا روزہ رکھا ۔۔

"موسی نے اسرائیل کے گناہوں کی طرف سے 40 دن روزہ رکھی: دریافت 9: 9، 18، 25-29؛ 10:10."( عہد نامہ قدیم )

اسی طرح ایلیا ء نبی نے 40 دن کا روزہ رکھا۔۔

"ایلیاہ نے جیزبیل سے فرار ہونے کے بعد 40 دن روزہ رکھا: 1 بادشاہ 1: 7-" 

اسلام میں  صھابہ کرام اور صوفیاء  کرام ایک روزہ رکھا کرتے تھے یا "ہیں"  جسے "طے کا روزہ " کہا جاتا ہے۔۔ یہ قبیلہ بنو طے جسے حاتم طائی کا قبیلہ کہا جاتا ہے۔ سے منسوب ہے یہ 3 دن کم از کم اور 7 دن زیادہ سے زیادہ ہوتا تھا۔۔ یعنی ایک شام مغرب سے قبل کھانا کھا لیں اور پھر 3 ،5 یا 7 دن بعد مغرب پر اسے کھولیں۔۔ یہ روزہ روحانی مقاصد اور روحانی پرواز کے لئے آج تک اہل تصوف میں رائج ہے۔ اس کی شرعی حیثیت پر بہت بحث ہے مگر یہ عمل آج بھی کیا جاتا ہے۔۔ 

خاص طور پر مشہور واقعہ ہے کہ حضرت فرید الدین کو ان کے مرشد حضرت بختیار کاکی نے یہ روزہ رکھوایا اور 7 ویں دن ان کا یہ روزہ سنگریزے  کھا کر کھولا جو شکر بن چکے تھے اور آپ کا خطاب " گنج شکر " ہوا۔۔ 

اب یہ بتانا ضروری ہے کہ حضرت فرید الدین گنج شکر  13 ویں صدی عیسوی میں تھے۔ اور میرا بائی 16ویں عیسوی میں 15 دن کا روزہ شام ( کرشن ) کے لئے رکھتی ہیں۔۔ 

میں آج سے 25 سال قبل سے ایسی 6 شخصیات کو جانتا ہوں جن میں 5 مرد اور ایک خاتون ہیں ۔۔ اور اس بات پر حلف اٹھانے کو تیار ہوں کہ انہیں  اپنی آنکھوں سے 10 دن کا روزہ رکھتے دیکھا ہے۔ اور روزہ بھی یوں کہ ایک دن مغرب کی نماز سے قبل  کھانا کھا کر دسویں اور 11 ویں دن دوبارہ مغرب پر افطار ۔۔ اور یہ ایک بار نہیں کئی بار ہوتے دیکھا۔۔ 

اب سوال یہ ہے کہ سورہ دہر کی چند آیات جن پر شعیہ اور سنی مسالک کے اہل تفسیر کا اتفاق ہے کہ وہ حضرت علی ،حضرت فاطمہ امام حسن اور امام حسین کی شان میں اتری ہیں ۔۔ جبکہ اس پورے گھرانے نے تین دن مختلف وجوہات کی بنا پر روزہ رکھا۔۔ اسی وقت امام حسن اور حسین کم سن تھے۔ پھر بھی خانوادہ سیدہ  نے ان کی تربیت 3 دن کے روزہ سے فرمائی۔۔ 

کیا یہ امام حسین علیہ السلام  اور شہدائے کربلا اور ان کے بچوں پر تہمت نہ ہوگی کہ کہا جائے کہ ان کے بچے پیاس سے بلبلا  رہے تھے۔۔ اور تین دن امام حسین اور ان کے رفقاء کا پانی بند کر دیا گیا۔۔ اور کربلا کی پیاس کا نعرہ لگایا جائے۔۔ جبکہ آج امام حسین کے پائے مبارک کربلا کی جس مٹی پر پڑے اس خاک سے بھی کمتر لوگ 10 دن کا روزہ رکھیں اور اپنے معمولات میں کسی طرح کا فرق بھی نہ آنے دیں۔۔ اور ایک تو ایسے شخص کو گزشتہ 22 سال سے جانتا ہوں جس نے دنیا کا کوئی گناہ بھی نہیں چھوڑا  اور کوئی عبادت بھی نہیں چھوڑی۔مگر جب اس نے 10 دن کا روزہ رکھا تو پہلے 3 دن تو اسے کے گھر کے افراد کو علم بھی نہیں ہوا اور نہ ہی ہم دوست محسوس کر سکے کہ موصوف 4 دن سے طے کے روزہ سے ہیں۔۔ 

 

انبیاء اور ان کے گھرانوں کی تو یہ سنت بلکہ فرائض ہیں کہ 10 سے لیکر 40 دنوں کے روزے رکھیں۔۔ یہ تو ایک قدیم صحائف میں لکھا اہل بیت انبیاء  کے معمول کا حصہ تھے۔۔

اب آپ پر فرض ہے کہ یہ طے کر لیں کہ امام کربلا میں اپنی اولاد اور اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اپنے رب اور اپنے نانا کو راضی کر رہے تھے۔۔ پیاس ایک چھوٹا لفظ ہےاس کا پرچار کرنے والے نفس  پسند ہیں جو اتنے بڑے مقصد کی قربانی کو پیاس سے تشبیہ دیتے ہیں۔۔  میرا جی ایک ہندو راجستھانی کسی کے عشق میں 15 دن بھوکے رہے اور وہ مل جائے۔۔ حضرت فرید الدین سات روز بھوکے رہیں اور گنج شکر ہو جائیں ۔۔ صوفی بشیر احمد 11 دن بھوکے رہیں اور فیض بخش ہو جائیں۔۔ تو مقام امام اعلی مقام کیا ہو گا۔۔ 

اگر ابراہیم خلیل اللہ کے نومولود بیٹے ماں کی بے چینی کو دیکھ کر ایڑیوں سے زم زم نکال سکتے ہیں۔۔ تو حبیب اللہ کے بیٹے دریا کا رخ موڑ کر اسے تاقیامت کربلا میں بہنے پر مجبور کر سکتے تھے۔۔ مگر نانا کا وعدہ نبھانا تھا ۔۔ جس کی بنیاد تسلیم  و رضا تھی۔۔ 

 

جن کا جھولا فرشتے جھلاتے رہے

لوریاں دے کے نوری سلاتے رہے

جن پہ سفّاک خنجر چلاتے رہے

جن کو کاندھوں پہ آقابٹھاتے رہے

اس حسینؑ ابنِ حیدر پہ لاکھوں سلام

 

اسی لئے تو احمد رضا خاں بول اٹھے۔۔۔

 

ہوتے کہاں خلیل و بنا کعبہ و منیٰ

لَوْلَاک والے صاحبی سب تیرے گھر کی ہے

 

بشکریہ اردو کالمز