راستوں کی جدائی 235

راستوں کی جدائی

ہندو قیادت نے دستور بنانے کے لئے جو نہرو کمیٹی قائم کی، اُسے ابتدا ہی سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ آل پارٹیز کانفرنس کے دہلی اجلاس میں اِس مسئلے پر اختلاف پیدا ہوا کہ مکمل آزادی کے لئے آئین سازی کی جائے یا ڈومینن درجے کے لئے۔ نہرو رِپورٹ میں ڈومینن درجے کی سفارش کی گئی جس کی مولانا حسرت موہانی نے شدید مخالفت کی۔ دوسرا بڑا اِختلاف نہرو رِپورٹ کے اِس فیصلے پر ہوا کہ چونکہ مسلمان سندھ، پنجاب، سرحد اَور بلوچستان میں اکثریت میں ہیں اور بڑے طاقت ور ہیں، اِس لئے اِنہیں کسی خاص تحفظ کی ضرورت نہیں۔ اِس کے علاوہ نہرو کمیٹی نے جداگانہ انتخاب کو اَقلیتوں کے لئے مضر قرار دَیتے ہوئے مخلوط انتخابات کی سفارش کی حالانکہ جداگانہ طریقِ انتخاب میثاقِ لکھنؤ کی بنیاد پر 1919ء کے ایکٹ میں شامل کر لیا گیا تھا۔

اُس نے مسلمانوں کا یہ انتہائی معقول مطالبہ بھی بالکل نظرانداز کر دیا کہ اُنہیں بنگال اور پنجاب میں آبادی کے لحاظ سے نمائندگی دی جائے۔ یہ جائز مطالبہ مسترد کرنے کے ساتھ ساتھ ویٹج کا طریقِ کار ختم کرنے کی بھی سفارش کی گئی جو 1919ء کے ایکٹ کا حصّہ تھا۔ نہرو کمیٹی میں مسلمانوں کے نمائندے جناب شعیب قریشی نے مسلمانوں کے لئے پنجاب اور بنگال میں آبادی کے تناسب سے نشستیں محفوظ کرنے کی ضرورت پر زور دَیتے ہوئے کہا کہ اِن دونوں صوبوں میں مسلمانوں کی مالی اور تعلیمی پس ماندگی کے مقابلے میں ہندو برادری بڑی مالدار، منظم اور تجارت اور بینکنگ پر قابض ہے جس کے سبب مسلمانوں کی اکثریت غیرمؤثر ہو کے رہ گئی ہے۔ اِس بنا پر دونوں صوبوں میں آبادی کے تناسب سے مسلمانوں کے لئے معقول اکثریت کا تحفظ ازبس ضروری ہے، مگر نہرو کمیٹی نے اُن کی گزارشات پر کوئی توجہ نہیں دی۔

برطانوی ایسٹ انڈیا کمیٹی نے 1843ء میں سندھ پر قابض ہونے کے بعد اِسے بمبئی پریذیڈنسی کے ساتھ ملحق کر دیا تھا، حالانکہ دونوں کے درمیان کوئی بھی قدر مشترک نہیں تھی۔ اِس اقدام سے سندھ میں مسلمانوں کی اکثریت عملاً ختم ہو کے رہ گئی تھی، لہٰذا وُہ مدت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ سندھ کو علیحدہ کر کے اُن کا ایک الگ صوبہ بنا دیا جائے۔ اِس تحریک میں جناب ایوب کھوڑو قائدانہ کردار اَدا کرتے رہے۔ نہرو کمیٹی نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں اِس مسئلے کا تفصیلی جائزہ لیا اور مسلمانوں کے مطالبے کے بعض نکات تسلیم بھی کر لئے گئے، لیکن سفارش یہ کی کہ اِس کی پوری تحقیق ہونی چاہئے کہ آیا سندھ علیحدہ ہو کر اَپنی مالی ذمےداریاں اٹھا سکے گا اور اَقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دے سکے گا جو دستور کے تحت دوسرے صوبوں میں دی جا رہی ہے۔

مسلمانوں کی جانب سے یہ مطالبہ بھی ایک عرصے سے کیا جا رہا تھا کہ مرکزی اسمبلی میں اُن کی نمائندگی ایک تہائی ہونی چاہئے۔ نہرو کمیٹی نے یہ مطالبہ بھی اِس بنیاد پر مسترد کر دیا کہ مسلمان ہندوستان میں ایک چوتھائی سے بھی کم ہیں، اِس لئے اِنہیں ایک تہائی نمائندگی نہیں دی جا سکتی۔ جناب شعیب قریشی کمیٹی کو اِس سفارش کے خطرناک نتائج سے آگاہ کرتے اور حقائق پیش کرتے رہے، مگر کمیٹی ٹس سے مس نہ ہوئی۔

نہرو کمیٹی نے اگرچہ یہ سفارش کی کہ دوسرے صوبوں کی طرح سرحد اور بلوچستان میں بھی آئینی اصلاحات کی جائیں، مگر رپورٹ میں بلوچستان کا نام شامل کرنا بھول گئی۔ ایسا سہواً بھی ہو سکتا تھا اور نیت کی خرابی کے باعث بھی۔ نیت کی خرابی کی طرف اِس لئے دھیان جاتا ہے کہ اِس کمیٹی نے مسلمانوں سے انصاف کے تمام تقاضے پسِ پشت ڈال دیے تھے۔ اِس کی ذہنیت کا صحیح اندازہ اِس کی وحدانی طرزِ حکومت کی سفارش سے کیا جا سکتا ہے۔ ہندوستان کے معاملات سے دلچسپی رکھنے والے سبھی ماہرینِ سیاست اِس امر پر متفق تھے کہ ہندوستان میں کم سے کم اختیارات کے ساتھ وفاقی طرزِ حکومت رائج ہونا چاہئے جس میں صوبوں کو زیادہ سے زیادہ خودمختاری دستیاب ہو۔ مسلمانوں کے اِس مطالبے کے برعکس نہرو کمیٹی نے وحدانی طرزِ حکومت کی سفارش کر دی جو سیاسی کم نگاہی کی بدترین ٘مثال تھی۔ جب نہرو کمیٹی اپنی سفارشات مرتب کر رہی تھی، اُس وقت قائدِاعظم انگلستان میں تھے۔ وہ کمیٹی کی سفارشات کی آخری منظوری کے وقت ہندوستان آ گئے تھے اور ہندو مسلم اتحاد قائم رکھنے اور ایک متفقہ دستور کے مستحکم اصول طے کرنے میں کمال درجہ متانت اور فرض شناسی سے اپنا کردار اَدا کرتے رہے، مگر مہاسبھا اور اِسی قسم کے دوسرے عناصر نے مسلم زعما کے ساتھ جو اَہانت آمیز سلوک روا رَکھا، اُس نے تاریخ کے دھارے کو وہ رُخ دے دیا جو ہندوستان کی جغرافیائی، تہذیبی اور لسانی تقسیم کے اعتبار سے ایک فطری رخ تھا۔ فقط ایک شخص، ایک گروہ کی قدم قدم پر ہٹ دھرمی اور عاقبت نااندیشی ایک خون آلود سیاسی منظرنامے کو جنم دے رہی تھی۔

دسمبر 1928ء میں نہرو رِپورٹ پر غوروخوض کے لئے کلکتے میں کُل جماعتی قومی کنونشن منعقد ہوا جس میں قائدِاعظم نے تین اہم ترامیم پیش کیں۔ (1) مرکزی مجلسِ قانون ساز میں مسلمانوں کو ایک تہائی نمائندگی دی جائے۔ (2) دس برسوں تک پنجاب اور بنگال میں مسلمانوں کی آبادی کی بنیاد پر نمائندگی یقینی بنائی جائے۔ (3) باقی ماندہ اِختیارات صوبوں کو تفویض کئے جائیں۔ ڈاکٹر بی۔آر اَمبیدکر نے لکھا کہ اِن ترامیم سے واضح ہوتا تھا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں خلیج بہت زیادہ وَسیع نہیں تھی، مگر اِسے پاٹنے کی کوئی خواہش ہندو قیادت میں پائی نہیں جاتی تھی۔ بدقسمتی سے یہ تینوں ترامیم ہندو اَکثریت ووٹ سے مسترد کر دی گئیں۔

اِس موقع پر تقریر کرتے ہوئے قائدِاعظم نے یہ تاریخی الفاظ اداکئے کہ ’’کوئی بھی ملک اپنی اقلیتوں کو تحفظ کی ضمانت دیے بغیر نمائندہ اِدارے قائم نہیں کر سکتا۔‘‘ اُنہوں نے بڑی سلجھی ہوئی تقریر کی تھی، مگر مسٹر جیکر نے اپنی اشتعال انگیزی سے پوری فضا مکدر کر ڈالی تھی۔ اُس وقت قائدِاعظم نے فرمایا کہ ’’اِس سیاسی جنون کی ذمےداری صرف مسٹر گاندھی پر عائد ہوتی ہے۔‘‘ ڈاکٹر امبیدکر نے اِس پوری صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’کانگریس نے اِس جنونی سیاست میں وہ زریں موقع ضائع کر دیا جو اِتفاقِ رائے کی ایک نہایت مستحکم بنیاد بن سکتا تھا۔‘‘ تنگ نظر قیادت سے قائدِاعظم بہت مایوس ہوئے اور اُنہوں نے اپنے ایک دوست کو لکھا کہ ’’اب راستے جدا ہو گئے ہیں۔‘‘ (جاری ہے)

بشکریہ ہم سب