قیصر مگسی کا سورج غروب ہوچکا  174

قیصر مگسی کا سورج غروب ہوچکا 

یہ حقیقت ہے کہ قیصر مگسی کا عوام نے عروج دیکھا اب زوال بھی نوشتہ دیوار بن چکا ہے،پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر اس نے ضمنی انتخابات میں جیت کر بھی عوام کے ساتھ ظلم کی داستانوں کو عروج دیا،ایسے افراد موجود ہیں جنہوں نے پاکستان بننے کے بعد چوبارہ میں اراضی خریدی مگر نواں کوٹ کے سردار نے انتظامیہ کے ذریعے ان لوگوں کو ان کی وراثتی اراضی چھوڑنے پر دباؤ ڈالا،کرنل شعیب امیر اعوان کے ٹکٹ پر نظریاتی لوگوں کا تبصرہ ہے کہ یہ ٹکٹ عمران خان نے میرٹ پر دیا ہے اور عوامی جذبات کے عین مطابق فیصلہ کیا ہے،
سردار قیصر عباس خان مگسی نے 2018کے الیکشن کے بعد حلقہ میں کسی سے رابطہ ہی نہیں رکھا 2018کے الیکشن میں جب انہیں ٹکٹ ملا تو اس سے قبل وہ ن لیگ کا اقتدار دو دفعہ انجوائے کرچکے تھے پی ٹی آئی کا یہ ٹکٹ رندھاوا برادران کو دیکر واپس لے لیا گیا اس کی ایک وجہ تو بشارت رندھاوا کی مارکیٹ کمیٹی کی چیئرمین شپ تھی جو چھوڑے ابھی دو سال کا عرصہ مکمل نہیں ہوا تھا دوسرا جنوبی صوبہ محاذ میں شمولیت کی بنا پر ٹکٹ قیصر خان مگسی کو ملا اس حلقہ میں   2018کے الیکشن میں لالہ طاہر رندھاوا نے 37774ووٹ حاصل کئے ان کے مد مقابل پی ٹی آئی کے امیدوار قیصر خان مگسی نے 27179اور ملک ریاض گرواں نے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر 25626ووٹ لئے  جہانگیر ترین کے توسط سے لالہ طاہر رندھاوا بزدار کی کشتی میں سوار ہوگئے اور تحریک عدم اعتماد تک ساڑھے تین سال تک بطور صوبائی پارلیمانی سیکریٹری اقتدار کوخوب  انجوائے کیا حمزہ شہباز کی حمایت کی بنا پر دیگر 19حلقوں کی طرح حلقہ پی پی 282میں بھی ضمنی الیکشن کا اعلان کردیا گیا پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے نوجوان نسل کی نمائندگی کرنل شعیب امیر ملک نے کی اور جب سائفر کا معاملہ سامنے آیا تو وہ ایک بڑا قافلہ لے کر شہر اقتدار پہنچے یہی نہیں اقتدار سے محرومی کے بعد بھی انہوں نے عمران خان کی طرف سے شہر شہر کال پر چوک اعظم میں پی ٹی آئی کی خوب نمائندگی کی اور دھرنے کی کال پر بھی وہ نوجوانوں کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے جب ضمنی الیکشن میں ٹکٹوں کا معاملہ آیا تو شعیب امیر کی بجائے قیصر خان مگسی کو ٹکٹ الاٹ کردیا گیا اس حلقہ میں ایک بار پھر ن لیگ کے امیدوار لالہ طاہر رندھاوا میدان میں آگئے مگر ملک شعیب امیر نے پارٹی قیادت کے فیصلے پر ضمنی الیکشن میں سردار قیصر خان مگسی کوق سپورٹ کیا اور ان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا اس بار پارٹی قیادت نے ورکروں کے فیصلے پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے ایک پارٹی ورکر کرنل ملک شعیب امیر اعوان کو اوکے کردیا  جس کا پس منظر کی چند وجوہات ہیں پہلی وجہ یہ ہے کہ 2018کے الیکشن کے بعد سردار قیصر عباس خان مگسی نے پی ٹی آئی کے ساتھ نہ تو کوئی تعلق رکھا اور نہ پی ٹی آئی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد کسی احتجاجی سرگرمی میں حسہ لیااور بلکہ 2018کے الیکشن کے ان کے روابط ن لیگ کے ساتھ رہے تاکہ ایک بار پھر ن لیگ جوائن کرکے اسی کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا جائے اس سلسلے میں انہوں نے محترمہ مریم نواز کے سمدھی میاں منیر سے بھی رابطہ کیا جس کی تصاویر موجود ہیں،یہی نہیں سردار قیصر عباس مگسی نے عطا تارڑ سے بھی رابطہ کیا مگر وہاں ڈیرہ غازیخان کے ڈویژنل صدر نے ان کی دال نہ گلنے دی  اب الیکشن میں پی ٹی آئی کے نظریاتی ورکرز کے اندر یہ رد عمل موجود ہے جن کی خواہش تھی کہ ٹکٹ کرنل شعیب امیر ملک کو ملے جس کی وجہ سے قیصر خان مگسی کے اقتدار کا سورج ایک لمبے عرصے کے بعد غروب ہورہا ہے،اس کے علاوہ نفرت کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ قیصر عباس مگسی نے ضمنی الیکشن کے بعد بھی اپنا سرداری رویہ نہ چھوڑا سردار کیلئے ورکروں کے اندر وہ جذبہ بھی موجود نہیں وہ جذبہ جو امیدوار کی الیکشن مہم میں اہم کردار ادا کرتا ہے لالہ طاہر رندھاوا اور بشارت رندھاوا کو بھی عوام نے اب پذیرائی دینے سے انکار کردیا ہے،کیونکہ لالہ طاہر رندھاوا نے ایک عام طبقہ سے ہونے کے باوجود عام طبقہ اور ووٹروں کو نفرت کے سوا کچھ نہیں دیا،انسان کے سر پر ایک بار قسمت دستک دیتی ہے اگر وہ دروازہ نہ کھولے تو شکست ہمیشہ کیلئے اس کا مقدر بن جاتی ہے بشارت رندھاوا اور لالہ طاہر رندھاوا کے اندر سے ن لیگ نہ نکل سکی جبکہ پنجاب میں ن لیگ کا سورج غروب ہوچکا ہے،اب لالہ طاہر رندھاوا اور بشارت رندھاوا کے پاس عوامی اعتماد نہیں،اپنا شہر اپنی قیادت کا نعرہ بھی ہوا ہوگیا،کرنل شعیب امیر اعوان کو ٹکٹ ملنے کی بنا پر ورکروں میں ایک جوش و خروش پایا جاتا ہے،ان کا کاررواں ایک بار پھر چل پڑا ہے جس میں دن بدن عوام کی کثیر تعداد شامل ہوتی جارہی ہے،چوک اعظم اور چوبارہ کی حد تک کرنل شعیب امیر اعوان نے سردار قیصر عباس مگسی اور رندھاوا برادران کا بوریا بستر گول کردیا ہے،بشارت رندھاوا اور لالہ طاہر رندھاوا کے ساتھ وہ دوست بھی نہیں رہے جنہوں نے ان کی جنگ کو اپنی جنگ سمجھ کر لڑا،صفدر خان نیازی بشارت رندھاوا کے ان دنوں کے ساتھ ہیں جب ان کے ساتھ کوئی چلنے کو تیار نہ تھا صفدر خان نے رندھاوا برادران کی خاطر انتقامی کارروائیوں کا سامنا کیا ان کا کاروبار تباہ ہوگیا اور جب اقتدار آیا تو رندھاوا برادران نے آنکھیں پھیر لیں،اسی طرح ڈاکٹر امتیاز سہیل ان افراد میں سے ہیں جنہوں نے رندھاوا برادران کیلئے ڈور ٹو ڈور مہم چلائی مگر رندھاوا برادران کی انکھوں پر اقتدار نے ایسی پٹی چڑھائی کہ وہ امتیاز سہیل جیسے دوستوں کو بھی بھلا بیٹھے،چوہدری خالد محمود ارائیں جس نے انتہائی مشکل حالات میں رندھاوا برادران اور سردار قیصرمگسی کا ساتھ دیا وہ بھی اب ان دونوں احباب سے اپنی راہیں جدا کرچکا ہے،سردار قیصر عباس خان مگسی ایک بار پھر ن لیگ کے سابق ایم این اے صاحبزادہ فیض الحسن کے در پر حاضری دے رہے ہیں اور ن لیگ کیلئے پر تول رہے ہیں مگر جب اقتدار کا سورج غروب ہوتا ہے تو عوام کی  نفرت کے سوا انسان کے پاس کچھ نہیں ہوتا، ن لیگی امیدوار لالہ طاہر رندھاوا پنی الیکشن مہم میں،اپنی تقریروں میں لوٹا کا تصور ختم کرنے میں کامیاب نظر نہیں آتے سابقہ  الیکشن میں انہیں ن لیگ کا ووٹ پڑا جو شاید اب نہ پڑے اس طرح اس حلقہ میں شروع ہی سے کرنل شعیب امیر اعوان کا پلڑہ بھاری نظر آتا ہے،

بشکریہ اردو کالمز