قبلہ اول کا مقدمہ 457

قبلہ اول کا مقدمہ

حماس کی جانب سے شروع کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی وجہ سے مثبت ,منفی دونوں طرح کے تبصرے سامنے آرہے ہیں بعض کمزور عقائد حلقوں کی جانب سے حماس کو قصور وار ٹھہرایاجا رہا ہے؛ اور اس کی جانب سے کی گئی پہل کو غیردانشمندانہ اقدام قرار دیا جا رہا ہے؛ جن لوگوں کی جانب سے اس قسم کی باتیں کی جا رہی ہیں انہیں سامراجی قوتوں سے ملکوں کی آزادی کی تاریخ کا صحیح اندازہ نہیں ہے؛ غلامی سے آزادی کے لیے جتنی جنگیں لڑی گئی ہیں ہرجنگ میں آزادی کی خاطر قوموں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں؛ جب تک وہاں کی زمین مجاہدین کے خون سے لالہ زار نہ ہوئی انہیں آزادی نہیں ملی؛ قوموں کو آزادی کی بڑی قیمت چکانی پڑتی ہے؛ اس کی ایک مثال خود ہمارا ملک ہے؛ ہم نے انگریزوں سے ملک کو آزاد کرانے میں کچھ کم قربانیاں نہیں دی؛ سیکڑوں قائدین نے قید و بند کی صعوبتیں کاٹیں اور ظلم و جبر کی ایک المناک داستان رقم ہوئی؛ تب جا کر ملک آزاد ہوا؛ فلسطین کا قضیہ ایک ملک کا قضیہ نہیں بلکہ اس سے مسلمانوں کا عقیدہ جڑا ہوا ہے؛ یہ دراصل قبلہ اول کی آزادی کا مسئلہ ہے؛ یہ اس مقدس مقام کا قضیہ ہے جہاں سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج سے سرفراز کیا گیا تھا؛ مسجد اقصی کی بازیابی امت مسلمہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے؛ جس طرح مسجد حرام اور مسجد نبوی کو حرم کا درجہ حاصل ہے اسی طرح مسجد اقصی تیسرے حرم کا درجہ رکھتی ہے- فلسطینی مسلمان جانتے ہیں کہ مسجد اقصی کے لیے بہنے والا ان کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا؛ اس کے علاوہ ظالم دشمن تشدد اور طاقت ہی کی زبان سمجھتا ہے فلسطینیوں نے گزشتہ 70 سالوں میں بارہا امن کی کوششوں کو آزمایا جس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا؛ آخر وہ کب تک بے فیض مذاکرات میں وقت ضائع کرتے؛ غزہ کے مسلمان جانتے ہیں کہ ان کے لیے بس ایک ہی راستہ رہ گیا ہے؛ اور وہ راہ خدا میں شہادت ہے؛ فلسطینی مائیں اپنے بچوں کی بچپن ہی سے ذہن سازی کرتی ہیں کہ انہیں اقصی پر قربان ہونا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے حالیہ بدترین تشدد کے دوران جسے نسل کشی سے تعبیر کیا جائے تو کوئی مبالغہ نہ ہوگا غزہ کے باشندوں کے جذبہ ایمانی اور استقامت میں ذرہ برابر کمی نہیں آئی؛ صہیونی دشمن نے غزہ کو بڑی جیل میں تبدیل کر رکھا ہے؛ وہ اپنے سے کچھ نہیں کر سکتے؛ ان کے لیے سارے راستے بند ہیں؛ ایسے میں ” تنگ آمد بجنگ آمد ” کے مصداق اگر وہ سر سے کفن باندھ کر دشمن سے بھڑ جاتے ہیں تو اس میں کیا غلط ہے؟ حماس کے اسرائیل پر حملے کے نتیجے میں ہزاروں جانیں چلی گئیں؛ اور اسرائیل نے بچوں اور بوڑھوں کو بھی نہیں بخشا؛ غزہ کو ایک ڈراؤنے ویرانے میں تبدیل کر دیا گیا ہے ؛ یہ سب کچھ ہوا لیکن مجموعی طور پر پوری دنیا پر اس کے جو مثبت اثرات مرتب ہوئے انہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا؛ طوفان الاقصی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ فلسطین کا قضیہ ایک بار پھر عالمی سطح پر زندہ ہو گیا؛ عالمی برادری نے قضیہ فلسطین کو طاق نسیاں کے حوالے کر دیا تھا؛ اس حملے نے ساری دنیا کو فلسطین کی طرف متوجہ کیا؛ اس کا دوسرا بڑا اثر عرب اور مسلم ممالک پر پڑا؛ بیشتر عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے قریب پہنچ چکے تھے؛ خود سعودی عرب کے مذاکرات آخری مرحلے میں پہنچ چکے تھے؛ حماس کی کاروائی نے سب پر پانی پھیر دیا؛ اس کا تیسرا بڑا فائدہ یہ ہوا کہ دنیا بھر کے لوگوں پر اسرائیل کی درندگی واشگاف ہو گئی؛ چنانچہ بیشتر یورپی ممالک کے عوام اسرائیل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے؛ پہلی مرتبہ بلا تفریق مذہب عوام کی اتنی بڑی تعداد فلسطینیوں کی تائید میں نکل آئ؛ نیز دنیا والوں پر یہ بھی واضح ہو گیا کہ اسرائیل انسانیت دشمن ہے اور وہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے ؛ لوگ جان گئے کہ اسرائیل میں انسانیت کی ہلکی سی رمق بھی باقی نہیں ہے؛ حماس کے اس حملے کا ایک اثر یہ ہوا کہ دنیا والوں کے سامنے اسلام کی انسانیت نوازی اور یرغمالوں کے ساتھ غیر معمولی انسانی سلوک اور حماس کے مجاہدین کے اعلی اخلاق آ گئے؛چنانچہ حماس سے رہائی پا کر لوٹنے والے اسرائیلی یرغمالیوں نے حماس کے حسن سلوک کی خوب تعریف کی؛ تاریخ میں پہلی بار اسرائیل میں اس وقت ہر گھر ہوٹل اور ہر محفل میں ایک ہی موضوع سخن ہے اور وہ حماس کے جانبازوں کا قیدیوں کے ساتھ مافوق الخیال اور ناقابل یقین حسن سلوک۔ سب حیران ہیں کہ یہ کیسی مخلوق ہے جس نے دشمن کے قیدیوں کو اس طرح رکھا کہ خود بھوکے رہے اور انہیں ہر چیز مہیا کی؛ ان کا ایسے خیال رکھا جیسے نیک اولاد اپنے بوڑھے والدین کا رکھتی ہے؛ تمام قیدیوں کو ایک جگہ رکھا گیا؛ جہاں وہ آپس میں گپ شپ کرتے رہے؛ شعر و شاعری کی محفلیں بھی سجتی رہیں؛ مکمل دوستانہ ماحول مہیا کیا گیا؛ انہیں ذرا بھی احساس ہونے نہیں دیا کہ وہ قید میں ہیں؛ انہیں اطمینان دلانے کے لیے اپنے قائد اعلی کی ان سے ملاقات کرائی؛ جس نے کہا کہ تم غزہ کے سب سے محفوظ مقام پر ہو؛ جہاں تمہیں کوئی گزند نہیں پہنچ سکتی؛ اب تو رہا ہونے والوں کے اہل خانہ نے بھی اچھے تاثرات کا اظہار کیا- رہا ہونے والے اسرائیلیوں کے اہل خانہ نے فلسطینی پرچم اٹھا کر حماس کے جان بازوں کے حق میں ریلی بھی نکالی؛ صہیونی ریاست میں پہلی بار ایسا ہوا؛ جسے خود ناقابل یقین قرار دیا جا رہا ہے؛ اس ریلی میں پہلی بار یہ بھی دیکھا گیا کہ اسرائیلی شہری اپنی ہی فوج کو ملعون قرار دے رہے ہیں کہ تم ہماری حفاظت میں مکمل طور پر ناکام رہے؛ فوج نے اس ریلی کو روکنے کی کوشش کی اور فلسطینی پرچم شرکاء سے چھین لیے؛ اگرچہ مین سٹریم میڈیا نے اسے نہیں دکھایا لیکن سوشل میڈیا میں یہ مناظر سامنےآئے؛ دعوتی نقطہ نظر سے یہ ایک بہترین صورتحال ہے؛ دنیا بھر میں حماس اور مسلمانوں کے تعلق سے مثبت میسج گیا؛ یہ اور اس طرح کے متعدد مثبت فوائد اس حملے سے امت مسلمہ کو حاصل ہوئے ہیں- آپریشن طوفان الاقصی کے مثبت اثرات نے مسلم رہنماؤں کا عکس سب کے سامنے ظاہر کردیا ہے- اسرائیلی حکومت اور اسرائیلی عوام اتنے حواس باختہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئے، اسرائیلی حکومت کی ساری کارروائیاں اس کی بدحواسی پر دلالت کرتی ہیں، یہ بدحواسی جنون کی حد تک پہنچ چکی ہے۔ اسرائیلی قبضے کے بعد سے کسی جنگ میں دشمن کی اتنی تعداد نہیں ماری گئی، جتنی اس جنگ میں ماری گئی، ان کی تعداد اب تین ہزار سےزیادہ ہوچکی ہے، جن میں ایک بڑی تعداد اس کے فوجیوں کی ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں دشمن کبھی فلسطینیوں کے قبضے میں نہیں آئے، یعنی تین سو سے زیادہ یہودیوں کو گرفتار کرنے میں حماس کے مجاہدین کامیاب ہوئے، جن میں اکثریت فوجیوں کی اور بڑے بڑے عہدیداروں کی ہے جن میں بڑے بڑے فوجی جنرل بھی شامل ہیں۔ حماس کے حملے سے گھبرا کر نوآبادکاریہودی بڑی تعداد میں اپنے اپنے ملکوں میں جہاں سے آئے تھے واپس جارہے ہیں، بعض حکومتیں مستقبل کے خطرے سے خود ان کو واپس بلارہی ہیں۔ اب تک تقریباً نو لاکھ نوآبادکار اسرائیل سے رخت سفر باندھ چکے ہیں۔ پہلی دفعہ یہ بات جگ ظاہر ہوئی کہ یورپ وامریکہ اوردنیا کے دوسرے حصوں میں آباد یہودی صہیونی عزائم کے خلاف ہیں۔ اس سے بڑھ کر یہ حقیقت پہلی مرتبہ عالم آشکاراہوئی کہ اسرائیلی عوام اپنی حکومت کے ساتھ نہیں ہیں، وہ وزیراعظم سے سخت نالاں اور ان کو ہٹانے کے درپے ہیں۔ موساد کا بھرم کھل گیا۔ خفیہ معلومات کے حصول میں اس کی چوکسی اور چابک دستی کا جو ہوّا کھڑا کیا گیا تھا وہ ختم ہوگیا، اس کا جو رعب دلوں میں بٹھایا گیا تھا وہ ہوا ہوگیا، حماس کے نوجوان اس کے مرکزتک پہنچ گئے اور اس کے کئی ٹھکانوں کو تباہ کرکے ان کی گہری سازشوں کو ناکام بنادیا۔ صہیونی فوج جس کے ناقابل شکست ہونے کا ڈھنڈورا پیٹا گیا تھا اس کی حقیقت معلوم ہوگئی۔ اسرائیلی فوجی طاقت دنیا کی چوتھی سب سے بڑی طاقت کے طورپرتسلیم کی جاتی تھی مگر اب- اسرائیل کی اقتصادی چولیں پوری طرح ہل گئی ہیں، پچاس دنوں سے پورا اسرائیل بند ہے، اسی سے اس کے نقصان کا اندازہ کیا جاسکتا ہے، یعنی کارخانے، فیکٹریاں، کاروباری مراکز، سیاحتی مقامات سب بند،تمام ایرپورٹس بند۔ جتنا بارودی مواد غزہ پر اب تک گرایا گیا ہے، تین سو ارب ڈالر کے قریب اس کا خرچہ ہے، اس کے ٹینک اور گاڑیاں جو تباہ ہوئی ہیں، اس کا نقصان بھی اربوں سے کم نہیں، مرکزی بینک نے جو اربوں کے اثاثے بیچ دیے ہیں وہ اس پر مستزاد ہے اقتصادی ماہرین کے تجزیے کے مطابق سوا دو ارب ڈالر کا یومیہ نقصان ہے۔ آج تک اسرئیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی وہ ہوانھیں چلی جو پوری تیزی کے ساتھ دنیا بھر میں چل رہی ہے، اس سے اسرائیل کو جو نقصان ہو رہا ہے، اس کا صحیح اندازہ ابھی تک نہیں ہوسکا ہے، اس لیے کہ یہ رجحان بڑھتا ہی جارہا ہے، خدا کرے کہ یہ وقتی نہ ہو، بلکہ اس کو دوام حاصل ہو، تاکہ اسرائیل کو پھر سنبھلنے کا موقع نہ ملے۔ دس لاکھ یہودی گھربارچھوڑ کر رفیوجی بننے پر مجبور ہوئے، اس سے پہلے کبھی یہ صورت حال پیش نہیں آئی۔ پوری دنیا میں اسرائیل سے نفرت اور اسرائیلی مظالم کی مذمت پر مظاہرے جو اس وقت سامنے آرہے ہیں، اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا، چند بے شرم بے غیرت اور ننگ انسانیت ممالک کو چھوڑ کر پوری دنیا اسرائیل پر لعنت کررہی ہے۔ مغرب کے ’’انسانی حقوق‘‘ کی حقیقت طشت ازبام ہوگئی اور سب کو پتا چلا کہ اس سے مراد ان کے اپنے لوگ ہیں، مسلمانوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں، گویا وہ انسان ہی نہیں، ان کے چھوٹے چھوٹے بچوں کی چیخیں ہی نہیں بلکہ ان کے جلے اور کٹے جسم کے ٹکڑے بھی ان کو اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکتے! اقوام متحدہ کی بے بسی سامنے آگئی، اور سب جان گئے کہ اس کے نزدیک یہودی مفاد سب سے مقدم ہے، اور یہودکی منشا کے خلاف وہ حرکت نہیں کرسکتی، جب کہ اس تنظیم کے قیام کا پس منظر جاننے والے ان باتوں سے پہلے سے ہی واقف تھے، مگر اب اس کی حقیقت اس طرح واشگاف ہوچکی ہے کہ ذرا بھی مسلم حکومتوں میں غیرت ہے تو اس کی طرف بنظر امید دیکھنے کی غلطی کبھی نہیں کریں گے۔ سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ۲۰۱۹ء میں فلسطینیوں کو نہتہ اور واجبی حقوق سے دستبردار کرنے کے لیے ’’سنچری ڈیل‘‘ کے نام سے نہایت گہری سازش رچی تھی، اس کی ہوانکل گئی، اور امریکہ نے اسرائیل کواس کے ذریعے جو نہایت حسین خواب دکھایا تھا وہ خواب بکھر کر رہ گیا۔ عربی اور اسلامی ممالک تیزی سے اسرائیل کے ساتھ جو تعلقات بڑھا رہے تھے اور بہت خطرہ تھا کہ سنچری ڈیل کا منصوبہ پورا ہوجائے، اس پر بریک لگ گیا۔ کسی سفیر کو واپس بھیجنا عالمی سطح پر اس ملک کے موقف کے خلاف شدیداحتجاج سمجھا جاتا ہے، اس وقت متعدد ملکوں نے اسرائیل کے سفیروں کو واپس بھیج کر بڑے پیمانے پر اسرائیل کے خلاف احتجاج درج کیا، ایسا اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ کے نام سے تینوں ابراہیمی مذاہب (یہودیت، عیسائیت اوراسلام) کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے اور متحد کرکے ’’وحدت ادیان‘‘ کا جو ایک نیا بیج بویا گیا تھا وہ وہیں سڑگیا۔ غزہ کے لوگوں کو سینا میں ڈھکیلنے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا اور اس پر عمل درآمد کا وقت قریب تھا، اگرطوفان اقصی کی یہ کارروائی نہ ہوتی تو پھر کسی بھی قسم کی مزاحمت کا بھی بظاہر کامیاب ہونا آسان نہ تھا۔ مسجد اقصی کی زمانی اور مکانی تقسیم کا منصوبہ بھی بنایا جا چکاتھا، یعنی مسلمانوں کی نمازوں کے علاوہ اوقات میں وہ اس کے مخصوص حصوں پر اپنی عبادت کریں گے، یعنی پھر پوری مسجد پر قبضہ کرکے اس کو ختم کردیں گے اور اس پر ہیکل سلیمانی تعمیر کریں گے اور بہت جلد ان سب کارروائیوں کو انجام دینا طے پاچکا تھا۔ اسرائیل کے اندرونی اختلافات سب کے سامنے آگئے، اور نتن یاہو کی عدم مقبولیت کا دوسروں کو پتا چل گیا، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ خود فلسطین کے غیر صہیونی یہودی بھی صہیونی منصوبوں کے خلاف اور فلسطینی کاز کے ساتھ ہیں۔ مغربی ممالک کے باشندوں کی نگاہوں میں ان کی حکومتوں کی قدر جاتی رہی، جس کا مستقبل قریب میں ان کو نقصان پہنچ سکتا ہے، نیز ان مظلوموں کے ساتھ عالمی بالخصوص مغربی عوام کی ہمدردی میں اس سے اضافہ ہوسکتا ہے۔ اسرائیلی جیلوں میں بند طرح طرح کی آزمایشوں سے گزرنے والے اور مصیبتوں پر مصیبتیں جھیلنے والے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی امید برآئی ہے۔ اسلامی تعلیمات میں شدت اور مسلمانوں میں تشدد کا جو ڈھنڈورا پیٹاگیاتھا، اور جو مسلسل پیٹا جاتارہا ہے، اب لوگ اس پر اس طرح کان نہیں دھریں گے۔ ہزاروں فلسطینی عوام جو کیمپوں میں یا دوسرے ملکوں میں پناہ گزیں کی حیثیت سے زندگی گزار رہے ہیں، وہ اپنے ملک لوٹنے او راپنے گھر واپس ہونے کے لیے کسی موقع کے انتظار میں تھے، ان کے دلوں میں بہتر مستقبل اور آزاد زندگی گزارنے کی امیدیں جاگ اٹھیں۔

بشکریہ اردو کالمز