پی۔ ایچ۔ ڈی ا سکالر ز کا نوحہ۔ 315

پی۔ ایچ۔ ڈی ا سکالر ز کا نوحہ۔

عالمی سطح  پر جامعات کی تعلیمی کارکردگی کو جانچنے کا ایک معیار مقرر ہے، عرف عام میں اسے ''رینکنگ'' کہتے ہیں، جس کاتعلق تحقیق سے ہے، جو طلبہ و طالبات سے نگران اساتذہ کی زیر نگرانی کروائی جاتی ہے، اس کے اطلاق سے سماجی اور دیگر مسائل کا حل نکالا جاتا ہے، ہمارے ہاں اس طرح کی روایت کبھی بھی پختہ نہیں رہی، رینکنگ کی صف میں شامل نہ ہونے کا جامعات کی انتظامیہ نے مقامی میڈیا کی وساطت سے''عوامی مقبولیت'' کا نیا حل نکالا ہے ، اسے وہ عالمی رینکنگ کا نعم البدل گردانتے ہیں۔ مگر تلخ حقیقت یہ ہے بہت سے سکالرز اپنے نگرانوں کی'' عنایات'' کی تاب نہ لانے کی پاداش میں تحقیق کی دوڑ ہی سے باہر کر دیئے جاتے ہیں، اس نالائقی کا سارا ملبہ بھی سکالرز پر ڈال دیا جاتا ہے،دلیل یہ دی جاتی ہے کہ پورے دنیا کا راہنما اصول یہ ہے کہ کبھی بھی سپروائزر کی ناراضگی مول نہ لیں ،ورنہ ''ڈاکٹر'' بننے کی حسرت دل ہی میں رہ جائے گی۔
راقم کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا،یہ2008 کی بد قسمت صبح تھی جب ہم نے ایک پیارے دوست سید محسن ارشد خاںبختیاوری کے ساتھ ان کے مشورہ سے بہاولپور کا رخت سفر باندھا اور جامعہ اسلامیہ بہاولپورشعبہ سیاسیات میں پی ایچ ڈی میں داخلہ لے لیا،کورس ورک کی تکمیل میں یہ اعزاز حاصل ہوا سب فیلوز میں سے امتیازی نمبر لئے، اب ریسرچ کا مرحلہ درپیش تھا، اس وقت ڈیپارٹمنٹ میں ڈاکٹر رضیہ مسرت تھیں وہ چیرپرسن کی کرسی پر بھی برا جمان تھیں، حکم صادر ہوا کہ جلد از جلد ریسرچ پرپولزل جمع کروائیں تاکہ بورڈ آف ایڈوانس اسٹیڈیز میں آپ کا کیس بھیجا جائے، مگر یہ مرحلہ2014 میں طے ہوا وہ بھی دوسری نگران محترمہ ڈاکٹر یاسمین روفی کی زیر نگرانی،اس دوران حیلے بہانوں سے ہمیں اپنے دوست اور دیگر کلاس فیلوز سمیت تحقیق کے عمل سے باہر کرنے کی دانستہ کاوش کی گئی، یوں چھ سال ہم مختلف الزامات کی زد میں رہے،بحیثت طالب علم  مودبانہ انداز میںمنت سماجت سے لے اعلی حکام تک اپنی بات پہچانے کی سنجیدہ کاوش کی، فارمیسی کے ہیڈ ڈاکٹر محمود جو برسر کی اضافی ذمہ داری انجام دے رہے تھے انھوں نے ایک روز سرکاری فون نمبر سے خوش خبری دی کہ آپ کی  درخواست پر ریسرچ ورک دوسری جامعہ میں منتقل کیا جارہا ہے، مگر یہ مرحلہ تاحال نہیں آیا،ہماری منت سماجت کا فائدہ یہ ہوا کہ شعبہ اردو کے استاد شفیق نے سابقہ چیر پرسن ڈاکٹر رضیہ مسرت سے ڈاکٹر مصور بخاری موجودہ چیرمین کی موجودگی میں معافی تلافی کروائی اور طے ہوا کہ بخاری محترم کی زیر نگرانی تحقیق کا عمل مگر نئے عنوان کے تحت مکمل کیا جائے گا، ان کی قدم بوسی کی ،کچھ ہدایات لے کر ہم دونوں دوست رخصت ہوئے ہفتہ کے بعد نئے ٹاپک پر synopsis جمع کروانے کا طے ہوا، ملتان روانگی سے قبل فون کیا تو ڈاکٹر مصور بخاری محترم نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ میڈم رضیہ مسرت سابق چیرپرسن نے آپ کی نگرانی سے مجھے منع کیا ہے،اب مزید گھوڑے دوڑائے، جماعت اسلامی کے راہنماء ممبر صوبائی اسمبلی ڈاکٹر سید وسیم اختر مرحوم کی خدمت میں حاضر ہوئے استدعا کی کہ ہمارا ریسرچ ورک پنجاب کی کسی بھی جامعہ میں منتقل کر دیا جائے، اس سے چیر پرسن صاف انکاری ہو گئیں، یہ نشست میڈم رضیہ کے بھائی کے گھر ماڈل ٹائون بہاولپور میں ہوئی وہ بھی  کسی شعبہ کے سربراہ تھے، طے ہوا کہ نئے عنوان اور نئی سپر وائزر کے ساتھ کام کرنے کی اجازت ہو گی، یوں نیا

 synopsis پیش کیا گیا، جس کی منظوری محترم پروفیسر ڈاکٹر ایاز محمد رانا سابق ڈین فیکلیٹی آف آرٹس بہاوالدین زکریا یونیورسٹی نے دی، راقم کی موجودگی میں انھوں نے محترم ڈاکٹرمصور بخاری سے کہا آپ اسے کام کیوں نہیں کروانا چاہتے جب کہ سکالر کرنا چاہتا ہے، کلاس ورک کی تکمیل کے سات سال بعد محترمہ ڈاکٹر یاسمین روفی کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کیریر میں2014 میں میرا کیس پہلی دفعہ بورڈآف ایڈوانس اسٹیڈیز میں گیا،ڈاکٹرریٹ کے لئے یونیورسٹی کی طے کردہ مدت میں اس وقت صرف سولہ ماہ باقی تھے  بورڈ کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ میں اس کا کوئی تذکرہ نہ تھا۔
تیسرے سمسٹر کا آغاز ہوا تو شعبہ کے ایڈمن نے فون پر مطلع کیا کہ اس کی فیس جمع کروائی جائے، قابل ذکر ہے کہ دوران تعلیم ہمیں کبھی بھی شعبہ کی طرف کوئی تحریری حکم نامہ کسی بھی ہدایت کی صورت میں جاری نہیں کیا جاتا تھا، دلچسپ یہ ہے کہ شعبہ کی ڈاکٹریل کمیٹی بھی تب جود میں آئی جب ہمارا ایشو زیر بحث آیا۔
جب فیس جمع کروانے گئے تو ایڈمن کی موجودگی میں چیرپرسن نے ہماری فیس جمع کرنے سے منع کر دیا گیا، بعد ازاں ہم نے یہ جرمانے کے ساتھ ادا کی ہے۔
شو مئی قسمت خدا خدا کر کے ہمارا ٹاپک ایڈوانس اسٹیڈی بورڈ سے منظور ہوا ،اس کے چند ماہ بعد ہی ہماری نئی سپر وائزر محترمہ ڈاکٹر یاسمین روفی پوسٹ ڈاکٹریٹ کے لئے سویڈین سدھا رگئیں، ہمیں شعبہ کی جانب سے سرکاری طور پر نہ تو مطلع کیا گیا نہ ہی انکی عدم موجودگی میں'' کو سپر وائزر'' مقرر کیا، تاہم میڈیم نے ای۔ میل سے رابطہ رکھنے کا حکم صادر فرمایا، یہ بھی فرمایا انکے خیال میں جب سپر وائزر اور مقالے کا عنوان تبدیل ہو تو مقالہ جمع کروانے کا دورانیہ کی مدت بڑھ جاتی ہے،دلچسپ امر یہ ہے کہ راقم نے جامعہ کی مقرر کردہ مدت میں ہی سافٹ فارم میں مکمل مقالہ برائے پی ایچ ڈی اپنی سپروائزر کو بیرون ملک بذریعہ ای۔میل بھجوا دیا انھوں نے بھی شفقت فرماتے ہوئے اس وقت کی چیر پرسن کو تحریری آگاہ کر دیا۔جب ہم جامعہ کی طے کردہ مدت کے روز مقالہ کی کاپی اور فیس جمع کروانے پہنچے تو ہم سے سوتیلے جیسا سلوک کیاگیا یہ کہہ کر مقالہ جمع کرنے سے انکار کردیا کہ آپ کی سپر وائزر بیرون ملک ہے ان کی عدم موجودگی میں یہ ممکن نہیں۔
ہم نے انصاف طلب کرنے کے لئے عدالت عالیہ کے در پر دستک دی، معزز جج نے عطار کے اس لونڈے کے پاس بھیج دیا جس کے سبب ہم بیمار تھے، وی سی محترم نے ذاتی شنوائی کی موقف سے اتفاق مگر یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ آپ کو ریلیف دینے کا مطلب بہت سے سکالزز کے لئے نیا در کھولنا ہے، انکے حکم کو پھر چیلنج کیا،دوسرے معزز جج نے ہماری بات سے اتفاق کیا مگر وہی سلوک کیا جو پہلے معزز جسٹس نے کیا، اتنا اضافہ کیا کہ آپ کا آڈر تعصب پر مبنی ہے حکم نامہ لکھ کر دوبارہ وائس چانسلر کے پاس ذاتی شنوائی کے لئے بھیج دیا، انھوں کمال مہارت سے  تمام تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پہلے وی سی کے فیصلے کے عین مطابق عدالت کو لکھ بھیجا۔ رعایت یہ دی کہ دوبارہ پی ایچ ڈی میں داخلہ لیں تو انھیں ڈگری ضرور دیں گے۔
تمام مواقع پر ہم نے دستاویزی ثبوت فراہم کئے اور کہا کہ غلطی جامعہ کی ہے اسکی سزا مجھے کیوں دی جارہی ہے، ایچ۔ ای۔ سی کا حکم نامہ نمبری
 HEC NO:1-3/AD-QA/HEC/NQAC{21}/2016/53 Dated 18-03-2016 پیش کیا اور دلیل دی کہ

   مقالہ جمع کروانے کے لئے زائد المعیاد مدت کیس حکم نامہ کا اطلاق ان سکالر ز پر ہے جو اس کے بعد داخلہ لیں گے ہماری رجسٹریشن2008 کی ہے، اس کے باوجود شنوائی نہ ہوئی۔  چانسلر، چیرمین ہائر ایجوکمیشن کی توجہ بذریعہ درخواست چاہی مگرندارد۔
باآلاخر میڈیا میں نوحہ لکھنے پر مجبور ہیں، قلم کار، اخبار نویس جو جامعہ اسلامیہ بہاولپور کی شان میںرطب اللسان ہیں ،انھیں متاثرین جامعہ کی حق گوئی کے لئے بھی اپنی آواز بلند کرنی چاہئے، یہ تو ایک مثال ہے ، ملک بھر کی جامعات سے متاثرین کو شمار کیا جائے یہ تعداد ہزاروں میں ہوسکتی ہے جو چیر پرسن یا سپر وائزر کی جھوٹی انا یا ضد اور انتظامیہ کی لاعملی کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں، اگر چانسلرزاور ایچ ای سی کی انتظامیہ خواب غفلت سے بیدار رہتی تو شائد یہ رسوائی ہمارا بھی مقدر نہ بنتی اور ہم یہ نوحہ رقم کرنے پر مجبور نہ ہوتے۔ 

بشکریہ اردو کالمز