ستان کے عوام کثیر تعداد میں ووٹ ڈالنے گھروں سے باہر آئے تھے۔ تحریک انصاف سے اس کا انتخابی نشان ’چھین لیا گیا تھا‘۔ اس کے باوجود انھوں نے بیلٹ پیپر پر نہایت توجہ سے غور کرتے ہوئے تحریک انصاف کے نامزد کردہ ا میدوار کا نشان ڈھونڈ لیا اور اس پر مہر لگاکر گھرلوٹ آئے۔ 24فروری کی رات انتخابی نتائج کااعلان ہوا تو انھیں محسوس ہوا کہ تحریک انصاف کی محبت میں جو دیوانگی دکھائی گئی تھی وہ کسی کام نہیں آئی۔ تحریک انصاف واحد اکثریتی جماعت کی صورت یقینا ابھری۔ حکومت مگر اسے نصیب نہ ہوئی۔ مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کی مدد سے شہباز حکومت قائم کردی۔
مجھ ’بڈھے کھوسٹ‘ کو ’شاہین بچوں‘ نے یاد دلایا کہ تحریک انصاف نے اس کے ہاتھ سے ’چھینی‘ قومی اسمبلی کی پانچ اور میاں اظہر مرحوم کی رحلت کی وجہ سے خالی ہوئی نشستیں واپس لے بھی لیں تو شہباز حکومت اپنی جگہ قائم رہے گی۔ اس لیے اتوار کے روز ہونے والے ضمنی انتخابات میں حصہ لینا وقت اور وسائل کا قطعاً زیاں ہے۔ اس میں حصہ لینے کی ’پاداش‘ میں تحریک انصاف کے کئی نوجوان کارکنوں کو گرفتار کرکے کئی مقدمات میں الجھایا جاسکتا ہے۔ میرے لتے لیتے ہوئے مگر ’شاہین بچوں‘ نے اس سوال کا جواب فراہم نہیں کیا کہ اگر اتوار کے روز ہوئے ضمنی انتخابات میں حصہ لینا اتنا ہی ’مکروہ‘ فعل ہے تو عمر ایوب خان اس میں حصہ کیوں لے رہے ہیں۔
تحریک انصا ف کے طرز سیاست کے بارے میں ہزاروں تحفظات کے باوجود میں اصرار کروں گا کہ کسی سوچ یا نظریہ پر قائم ہوئی جماعت کو تمام تر مشکلات کے باوجود خود کو سیاسی عمل سے باہر نہیں رکھنا چاہیے۔ تاریخ کی بے شمار مثالوں کے ذکر سے آپ کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہ رہا۔ صرف ایک ملک پر توجہ دیتے ہیں اور وہ ہے ہمارا برادر ملک ترکیہ۔ وہاں کنعان ایورن کی فوجی آمریت کے دوران اسلام پسندوں نے ’سیکولر‘ سوچ کو للکارنے کے لیے 1984ء میں رفاہ پارٹی بنائی تھی۔ ترکیہ کے موجودہ صدر رجب طیب ایردوان اس کے استنبول کے لیے چیئرمین بنائے گئے۔ ان کو ایک شعر پڑھنے کی وجہ سے جیل میں ڈال دیا گیا۔ ان کے دیگر ساتھیوں کی ’باغیانہ روش‘ سے اکتاکر بالآخر رفاہ پارٹی پر پابندی لگادی گئی۔
اس جماعت نے مگر ہمت نہ ہاری۔ ’فضلیت‘ پارٹی کا روپ دھارکر سیاسی میدان میں اپنا وجود برقرار رکھا۔ بالآخر 1999ء کے عام انتخاب میں وہ 15.4فیصد ووٹ اور 111نشستیں جیت کر دوسری بڑی جماعت کے طورپر اتری۔ اس کے باوجود ترکیہ کی ’آئینی عدالت‘ نے (جی ہاں ویسی ہی ’آئینی عدالت‘ جو ہمارے ہاں حال ہی میں متعارف ہوئی ہے) اس پر ملک کے آئینی ڈھانچے کی مخالفت کی بنیاد پر پابندی لگادی۔ اسی جماعت نے مگر ایک ہی سال بعد نومبر2002ء میں اے کے پی کے نام سے انتخاب جیت لیے اور اس برس سے آج تک ایردوان بطور ’سلطان‘ ترکی کے حکمران ہیں۔ عرض صرف یہ کرنا ہے کہ سیاسی جماعتوں اور کارکنوں کے پاس اقتدار میں آنے کا واحد راستہ سیاسی عمل اور انتخابات ہیں۔ ان سے دوری آپ کا منزل تک پہنچنا تقریباً ناممکن بنادیتی ہے۔
256