جنوب مشرق ایشیاء میں 683 مربع کلومیٹر رکھنے والے چھوٹے ملک سنگا پور کے شہریوں کو یہ سہولت میسر ہے کہ دنیا کے227 ممالک میں سے 193 میں فری ویزہ کی بدولت جاسکتے ہیں، عالمی برادری میں اس ریاست کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، عالمی ریننگ میں اول پوزیشن سفری دستاویز'' پاسپورٹ'' کی بابت اس کے حصہ میں آئی ہے،اس نے یہ اعزاز جاپان سے چھینا ہے، بجا طور اس کے پیچھے سرکار کی پالیسیوں کا بڑا ہاتھ ہے، باالفاظ دیگر سنگاپور کے شہریوں کی راہ میں آنکھیں بچھانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے،اس دوڑ میںامریکہ، یورپی ممالک، اسرائیل،سعودی عرب، بھارت کو بھی اس نے پیچھے چھوڑ دیا ہے پاسپورٹ جیسی دستاویز کا تقابلی جائزہ سال کے آغاز میں عالمی سطح پر لیا جاتا ہے، ہر تین ماہ بعد اس کی درجہ بندی کو اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے، لندن کی معروف فرم ہینلے اس کے انڈکس کو مرتب کرتی ہے۔ سنگاپور مذہبی اعتبار سے بدھ مت ہیں مگر چینی نژاد لوگ ان پر حکومت کرتے ہیں، دیگر مذاہب کے لوگ بھی مقیم ہیں۔اس کا شمار سب سے کم بدعنوانی والے ممالک میں ہوتا ہے۔ دلچسپ یہ ہے کہ ساٹھ کی دہائی میں اس کا شمار ترقی پذیر ممالک میں ہوتا تھا، اس کی آمدنی پاکستان سے قدرے بہتر تھی لیکن جنوبی افریقہ، گھانا کے قریباً برابر تھی، اس کے بچے غذائی قلت کا شکار تھے، امن و امان کی صورت حال ابتر تھی، سٹریٹ کرائم عروج پر تھا کسی کی جان اور مال محفوظ نہ تھا،گینگ وارز کا راج تھا، قانون صرف کمزور کے لئے تھا،تیسری دینا کی ناکام ریاست کے طور پر شہرت رکھتی تھی، مگر آج یہ ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ وکٹری سٹینڈ پر موجود ہے، اس کی فی کس آمدنی تقریباً 70 ہزار امریکی ڈالر ہے۔ نصف صدی سے زائد مدت میں پورے سماج کی فیبرکس کو بدل ڈالنااور عوام الناس کی زندگی میں راحتیں لانا بڑا کارنامہ اور لائق تحسین ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سماجی ،معاشی ترقی کے پیچھے جدید سنگاپور کے بانی سمجھنے جانے والے لی کوآن ژی وزیر اعظم کا دماغ اور ہاتھ ہے،جنہوں نے جوہڑوں کے اوپر بلندو بالا عمارات تعمیر کی ہیں۔ترقی پذیر سے ترقی یافتہ بنانے کا سہرا '' ایم پی ایچ'' Meritocracy, Pragmatism, Honestyفارمولا کے سر ہے۔اسکی انتظامیہ نے انھیں تین نقاط پر پالیسی مرتب کی، جس میں اول الذکر میر ٹو کریسی دوئم ،پریگماٹزم جبکہ سوئم ایمانداری تھی۔ مذکورہ پالیسی سمجھوتہ نہ کرتے ہوئے میرٹو کریسی کے تحت ملک چلانے کے لئے بہترین افراد کا انتخاب میرٹ پر کیا ،کسی نااہل، رشتہ دار کو کوئی منصب نہ دیا ،وزارتیں ایسے ماہرین کو دی گئیں جو انھیں چلانے کی صلاحیت رکھتے تھے، اسی طرح پریگماٹزم کے تصور کو نافذ کرتے ہوئے قابل عمل پالیسیاں مرتب کی گئیں،سرمایہ دارانہ نظام،سوشل ازم سے بھی استعفادہ کیا گیا اوراچھی روایات یا قانون اس کا تعلق خواہ مشرق سے تھا یا مغرب سے اس پر من وعن عمل کیا، اور بدعنوانی کے لئے زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ کی ہے۔ روایت ہے کہ ڈپٹی منسٹر چھٹیوں منانے اپنے کاروباری دوست کے ساتھ گئے وآپسی پر انھیں اس لئے گرفتار کر لیا گیا کہ اس ٹور کے اخراجات تمھارے دوست نے اُ ٹھائے ہیں یہ بھی ایک طرح کی بدعنوانی ہے۔ تین ستون پر مبنی مذکورہ فارمولا ہی کا ثمر ہے کہ آج سنگا پور نے سفری دستاویز میں پانچ سال تک اول پوزیشن پر رہنے والے جاپان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، فی زمانہ کوئی بھی ترقی پذیر ملک اگرایم ایچ پی فارمولا پر عمل پیرا ہو کر ترقی یافتہ بن سکتا ہے۔ سفری دستاویز کی رینگنگ کا جو طریقہ وضع ہے اس کے مطابق زیادہ سے زیادہ ممالک کے لئے فری ویزہ یا ویزہ آن آرائیول کی سہولت ہونا ہے، اور ویزوں کا بڑی تعداد میں مسترد کیا جانا بھی کسی ملک کے پاسپورٹ کو کمزور کرتا ہے، اسی طرح سیکورٹی، معاشی حالات ،غیر قانونی شہریت اور عوام کی شہرت ،دوسرے ممالک سے سفارتی اور تجارتی تعلقات جیسے عوامل بھی کسی ملک کی سفری دستاویز کو عزت عطا کرتے ہیں۔ ہماری ریاست کے حصہ میں جو اعدادو شمار آئے ہیں اس کے مطابق ہمارا پاسپورٹ دنیا کا چوتھا بدترین پاسپورٹ ہے، عالمی رینکنگ میں شام، عراق اور افغانستان ہی ہم سے پیچھے ہیں اور ہمارا نمبر 101 ہے، عرصہ دراز سے یہ عالمی سطح پر پاسپورٹ کمزور چلا آرہا ہے، یہ دستاویز دراصل دنیا میں کسی ریاست کی حیثیت اور اوقات بتاتی ۔ کہا جاتا ہے کہ 70 کی دہائی میں اہل وطن دنیا کے بیشتر ممالک میں اتر سکتے تھے انھیں ویزہ اس ملک میں پہنچنے پر دیا جاتا تھا ،اب یہ سہولت صرف 33 ممالک تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔اس کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ دنیا میں شائد ہی کوئی ملک ہو جہاں پاکستانی جانے کے بعد سلپ نہ ہوتے ہوں،جب بھی چھٹی یا مختصر دورہ جاتے ہیں تو وآپس آنے کی بجائے غیر قانونی طور پر ُاس ملک میں رک جاتے ہیں۔مزید یہ کہ بعض کیسوں میں انکی فراہم کردہ دستاویز بھی اصلی نہیں ہوتی ہیں۔ پاسپورٹ کی اس حیثیت کی وجہ سے تارکین وطن اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح وہ یورپی ممالک ،امریکہ،کینیڈا،برطانیہ کی مستقل شہریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں، پاسپورٹ کی کمزوری کا نقصان یہ ہے کہ عوام سے عوام تک کا رابطہ کمزور ہو جاتا ہے،سفری آزادی محدود ہو جاتی ہے،تاجروں کی نئی منڈیوں تک رسائی کم ہو جاتی ہے۔سب سے زیادہ متاثر شعبہ ٹورازم ہی ہوتاہے۔ انسانی سمگلرز نے ہماری قومی دستاویز کو بے توقیر کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، معاشی ناہمواری، قرضہ جات پر مشتمل معیشت،امن و امان کی بگڑتی صورت حال، بدعنوانی وہ وجوہات ہیں ، جس نے پاسپورٹ کی عالمی ریکنگ میں یمن اور صومالیہ جیسے ممالک سے بھی نیچے کر دیا ہے۔ جس کا نتیجہ ارباب اختیار کی ائیر پورٹ پر جامہ تلاشی کی صورت میں برآمد ہوتا رہتا ہے، پاسپورٹ کی اس درجہ بندی کے باوجود لاکھوں نوجوان اعلیٰ تعلیم کے حصول اور روز گار کی تلاش میں دریار غیر سدھار گئے ہیں، اہل اقتدار تارکین وطن کے زر مبادلہ سے'' لطف اندوز ''ہونے کے ساتھ ساتھ انکی مشکلات میں کمی لانے کی سعی کریں جو ملک کے پاسپورٹ کی بدترین تنزلی کی شکل میں انھیں درپیش ہوتی ہیں۔
283