پہلگام واقعہ کے فوراً بعد پاکستان نے نہ صرف مذمتی بیان جاری کیا بلکہ گہرے دکھ کا اظہار بھی کیا پاکستان نے اس سانحے کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار بھی کیا اور عالمی سطح پر اس واقعہ کی تحقیقات کا اعلان بھی اور بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ آپ جس طرح کی تحقیقات کرنا چاہیں یا کرانا چاہیں پاکستان ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہے-
پاکستان کا موقف ہمیشہ سے دہشت گردی کے خلاف سخت رہا ہے پاکستان خود کافی عرصے سے دہشت گردی کا شکار ہے اور پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے پاکستان نے اس قسم کی کارروائیوں کو انسانیت کے خلاف قرار دیا ہے پاکستان نے عالمی سطح پر اس بات کو بار بار اجاگر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے کہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل حل بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے اور اس قسم کے واقعات نہ صرف کشمیری عوام کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے نقصان دہ ہیں۔
نریندر مودی نے اس واقعہ کا الزام پاکستان پر عائد کر کےایک بار پھر بھارتی سیاست میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ قائم کرنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں افسوس ہے کہ اپوزیشن جماعتیں سیاسی مقصد کے تحت خاموش دکھائی دے رہی ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر مودی جنگی ماحول بنا کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ مودی کا یہ الزام دراصل ایک سیاسی حربہ ہے جس کے کا مقاصد واضح دکھائی دے رہے ہیں سیاسی ناکامیوں سے توجہ ہٹانانریندر مودی کی حکومت کو اندرونِ بھارت مختلف سیاسی مشکلات کا سامنا ہےکسانوں کی تحریک، داخلی سیاست میں بی جے پی کی بڑھتی ہوئی مشکلات نے مودی حکومتی پوزیشن کو بہت کمزور کیا ہے اس کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے مودی حکومت تنقید کی زد میں ہے لہذا مودی حکومت کی جانب سے پاکستان پر الزامات عائد کرنے کا مقصد داخلی سطح پر عوام کی توجہ ان مسائل سے ہٹانا ہے
مودی حکومت کا یہ الزام پاکستان پر ایک خطرناک سیاسی کھیل کا حصہ ہے اس بات کو بھارت کا پڑھا لکھا طبقہ سمجھتا ہے مودی حکومت جنگی ماحول اس وجہ سے بنا رہی ہے کہ کسی طرح بہار الیکشن جیتا جائے تاکہ نتیش کمار ہاتھ میں رہیں۔
بھارتی حکومت کا یہ موقف ہے کہ پاکستان کشمیر میں دہشت گردوں کی حمایت کرتا ہے جو ایک مسلسل پروپیگنڈہ ہے جس کا مقصد کشمیر کے تنازعے کو پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف استعمال کرنا ہے مودی حکومت نے پہلے بھی پاکستان پر دہشت گردوں کی حمایت کے الزامات عائد کیے تھے مگر ان الزامات کے ٹھوس ثبوت کہیں بھی پیش نہیں کرسکا
بھارت کی یہ حکمت عملی ہوتی ہے کہ وہ پاکستان کو دہشت گردی کے حوالے سے دنیا بھر میں بدنام کرے تاکہ پاکستان کا عالمی سطح پر اثر و رسوخ کم ہو اور بھارت کشمیر میں اپنے اقدامات کو جواز فراہم کر سکےپاکستان پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات کا مقصد عالمی برادری کو یہ باور کرانا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کا دشمن ہے اور بھارت کو اپنے دفاع کے حق میں اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔
نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے جنگی ماحول کی تخلیق کی کوششیں ایک طویل عرصے سے جاری تھیں یہ نہ صرف پاکستان کے خلاف سیاسی دباؤ بنانے کی کوشش کر رہا تھا بلکہ بھارت میں داخلی سیاسی فائدے حاصل کرنے کا ایک طریقہ بھی ہے تاکہ جذباتی طور پر ملک میں جنگی ماحول بنا کہ عوام کو اپنے حق میں متحد ہو کیا جائے ہے اور داخلی مسائل پر بات کرنے کے بجائے قومی سلامتی کے موضوعات پر توجہ مرکوز کی جائے اس طرح مودی مسلسل اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تاہم حالیہ دنوں میں یہ کشیدگی ایک نیا رخ اختیار کر چکی ہے خاص طور پر لائن آف کنٹرول (LoC) پر بھارتی فوج کی فائرنگ اشتعال انگیزی اور پاکستان پر بے بنیاد الزامات اس حوالے سے پاکستان کا رویہ ہمیشہ مثبت، ذمہ داراور صبر و تحمل پر مبنی ہے جب کہ بھارت کی طرف سے مسلسل ہٹ دھرمی اور الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات میں امن کی خواہش کا اظہار کیا ہےمختلف عالمی فورمز پر پاکستان نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے پاکستان نے بار بار یہ کہا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کی جنگ یا تشویش کی صورتحال سے بچنا چاہتا ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرنے کو تیار ہے۔
پاکستان نے عالمی سطح پر بھارتی اقدامات کی مذمت کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ بھارت کی طرف سے جو جارحیت اور اشتعال انگیزی کی جا رہی ہے وہ نہ صرف خطے کی امن و امان کی صورتحال کو متاثر کر رہی ہے بلکہ عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہےپاکستان نے ہمیشہ عالمی اداروں بشمول اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کے ان اقدامات کا نوٹس لیں اور اس پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لائے اور امن کے قیام کے لیے اقدامات کرے۔
بھارت نے لائن آف کنٹرول (LoC) پر مسلسل فائرنگ اور اشتعال انگیزی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس سے نہ صرف پاکستان کی سرحدی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کی زندگیوں پر بہت برا اثر پڑ سکتا ہے۔ بھارتی فوج کی طرف سے بلا اشتعال فائرنگ پاکستان کے شہریوں کو متاثر کر رہی ہے جس کی عالمی سطح پر مذمت ہونی چاہیے بھارت کی جانب سے مسلسل یہ دعویٰ کرنا کہ پاکستان اس کی جارحیت کا جواب دیتا ہے ایک ایسا پروپیگنڈہ ہے جس کا مقصد دنیا کو گمراہ کرنا ہے اور اپنے اقدامات کو جواز فراہم کرنا ہے۔
پاکستان کے خلاف بھارت کا یہ موقف کہ وہ کسی نہ کسی طرح پاکستان کو ملوث کرنے کی کوشش کرتا ہے ایک تاثر دینے کی کوشش ہے کہ وہ خود کو دفاعی پوزیشن میں دکھا سکےحالیہ دنوں میں بھارت نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے پاکستان پر الزامات لگانے کے خطے میں جنگی ماحول بنایا ہے دونوں اطراف فوجیں سرحد پر الرٹ ہیں بھارت کی اس ہٹ دھرمی اور جنگی جنون کی وجہ سے خطرات منڈھ لا رہے ہیں عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ
بھارت نے اپنے داخلی مسائل اور ریاستی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے جنگی ماحول پیدا کر رہا ہے۔ اس کا مقصد اپنے عوام کے جذبات سے کھیل کر پاکستان کے خلاف یکجا کرنا اور ان کی نظریاتی حمایت حاصل کرنا ہے یہ پروپیگنڈہ کبھی بھی حقائق پر مبنی نہیں ہوتا بلکہ ایک جذباتی ردعمل پیدا کرنے کے لیے بنایا جاتا ہے بھارتی میڈیا نے سارا دن چیخ چیخ کر پاکستان پر جنگی کارروائیوں کے الزامات عائد کر رہا ہوتا ہے بغیر کسی ثبوت کے حالانکہ
پاکستان کا رویہ ہمیشہ ذمہ دار، صبر اور تحمل پر مبنی رہا ہےجب کہ بھارت کی طرف سے جارحیت اور الزام تراشی کا سلسلہ بڑھ رہا ہےپاکستان نے عالمی سطح پر اپنے موقف کو واضح کیا ہے اور امن کے قیام کے لیے اپنی خواہش کا بار بار اظہار کر رہا ہے لیکن بھارت کی طرف سے ہٹ دھرمی اور بے بنیاد الزامات خطے میں مزید کشیدگی کا سبب بن رہے ہیں اس صورت حال میں ضروری ہے کہ عالمی برادری بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ اپنے غیر ذمہ دارانہ رویے کو ترک کرے اور خطے میں دیرپا امن کے لیے پاکستان کے ساتھ بات چیت کرے۔
347