پاک بھارت جنگ اور فالس فلیگ آپریشن ۔ 206

پاک بھارت جنگ اور فالس فلیگ آپریشن ۔

پاکستان اور بھارت ان دنوں کیفیت جنگ یا ھمیشہ کی طرح حالت جنگ میں ہیں ، شاید یہی دو قومی نظریے کی بقا کا حصہ ہے ، حالانکہ اس جنگ سے ڈیڑھ ارب انسان براہ راست متاثر ھوں گے ، غربت اور پسماندگی مزید پھیلنے کا خدشہ ہے ، اگرچیکہ ظاہرا بھارت معاشی ترقی کی منازل طے کر رہا ہے ، مگر انسانی حقوق اور غربت کا انڈکس وہیں کھڑا ہے ، صرف 30 لاکھ افراد ممبئی جیسے ترقی یافتہ شہر میں بھوک اور افلاس کی وجہ سے روز آہ و بکا کرتے ہیں ، اسی طرح کئی ریاستوں میں شورش اور ساتھ غربت عروج پر ہے، ان حالات میں بی جے پی کی حکومت نے ھمیشہ منفی مقاصد کے لیے ھندو ازم ، فالس فلیگ آپریشن ، میڈیا کے واویلے اور دھشت گردی کے بیانیے کو خوب استعمال کیا ہے اور سفارتی محاذ گرم رکھ کر امریکہ ، اور دیگر ممالک سے معاشی اور دفاعی مفادات حاصل کیے ہیں ، اسی فالس فلیگ آپریشن سے بی جے پی کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی ، انتخابات 2014ء ھوں ، 2019ء یا اس سے قبل انتخابات بھارت نے پاکستان مخالفت ، مسلم مخالفت بیانیے اور انہی چالاکیوں سے اپنے حق میں کیے ، گانگریس بھی کرتی رہی ہے لیکن اس حد تک اور خصوصاً فالس فلیگ آپریشن کی طرف نہیں گئی ، انڈیا ایک بڑی ابادی والا ، بڑا ملک ہے ، جہاں مودی نے یا یوں کہیں کہ بی جے پی نے ھندوستان صرف ھندوؤں کا " کا نعرہ لگا کر ایک بڑی حمایت اور ووٹ بینک حاصل کیا ، البتہ جمہوری روایات کی وجہ سے عوام کو اپ لفٹ ضرور کیا ہے ، بجائے قریب آنے کے پاکستان اور بھارت اتنے دور چلے گئے کہ واپسی کا راستہ طویل ہوتا جا رہا ہے ، ھماری سیاست میں بھی مذھب ، مسئلہ کشمیر اور بھارت مخالف بیانیے کو طویل عرصہ بڑی اہمیت حاصل رہی ہے اور مختلف سیاسی جماعتیں اور قوتیں استعمال کرتی رہی ہیں تاہم جدید دور میں یہ طریقہ ،کار آمد نہیں رہا کم از کم پاکستان میں اس بیانیے کو اب زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی البتہ ایک خاص ماحول میں عوام اس نقطے پر اتفاق کر لیتی ہے ، 
فالس فلیگ آپریشن ایک جنگی حکمتِ عملی بھی ہے اور وقتی پراپیگنڈہ بھی جس سے کوئی نہ کوئی مفاد جڑا ہوتا ہے ، فالس فلیگ آپریشن اس کو کہتے ہیں جو اپنے ہی ملک میں ، اپنے ہی اداروں سے ،اور لوگوں کے خلاف کیا جاتا ہے اور الزام دوسروں پر لگا دیا جاتا ہے ، تاریخ میں جان ایف کینیڈی کا فالس فلیگ آپریشن کا تذکرہ سب سے زیادہ رہا ہے جو انہوں نے کیوبا کے صدر کاسترو کو ہٹانے کے لیے کیا ، امریکی جہازوں ، اور کیوبا کی سرحد کے قریب فوجیوں پر کیا گیا اگرچیکہ جان ایف کینیڈی نے ماننے سے انکار کیا تھا لیکن یہ کرنے والے مانتے کبھی بھی نہیں ہیں ، بھارت نے اس حکمت عملی سے سیاسی اور علاقائی مقاصد حاصل کیے اور سفارتی محاذ پر اثرات ڈالے تاہم بھارتی نوجوان اور تجزیہ نگار اس کی گہرائی تک پہنچ گئے ، فروری 2019ء میں پلوامہ حملہ ، اس سے قبل اوڑی جموں میں فوجی کانوے پر حملہ ہو یا پٹھان کوٹ ائیر بیس حملہ ، یا پارلیمنٹ پر حملہ سب کے پس منظر اور پیش میں کچھ تھا ، ایک بڑا مقصد یہ تھا کہ پاکستان کو دھشت گرد ریاست ثابت کیا جائے اور دوسرا بڑا مقصد کشمیر سے توجہ ہٹانا ہوتا تھا ، جبکہ اندرونی مسائل اور شورش کو ختم کرنا جیسے ایشوز بھی فالس فلیگ آپریشن کا حصہ رہے ہیں ، اس فالس فلیگ آپریشنز میں 46, پھر سولہ اور اب ستائیس افراد کی جانیں لی گئیں ، اب پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا سب سے بڑا مقصد سندھ طاس معاہدہ ہے جس سے نکلنے کے لیے بھارت عالمی دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے ، اس وقت دونوں طرف جنگ کا طبل بج رہا ہے ، دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں لیکن عوام جنگ کی بجائے امن و ترقی کے متمنی ہیں ، اب سوچیں تقسیم ہیں ، خیالات منتشر ہیں ، جنگیں جیتنے کے لیے قوم کا جذبہ اور اتحاد ضروری ہوتا ہے ، دونوں طرف کروڑوں افراد بنیادی ضروریات کے لیے پریشان ہیں ، انہیں جنگ سے غرض نہیں ، ھاں مذھب اور ملک سے محبت کرنے والے اس موقع پر اکھٹے ہو ہی جاتے ہیں ، تو کیا جنگ کرنی چائیے ؟ 
اس سؤال پر دونوں طرف کی عوام تقسیم ہے ، زیادہ تر کا خیال ہے کہ جنگ کا کوئی فایدہ نہیں ہو گا ، ملک پچاس سال پیچھے چلے جائیں گے ، بھارت اور پاکستان کی جنگ سے کچھ قوتیں چین کے گرد بھی دباؤ بڑھانا چاہتی ہیں ، جسمیں امریکہ اور اسرائیل سر فہرست ہیں ، اسرائیل کو جس ملک سے سب سے زیادہ خطرہ تھا وہ ایران ہے ، اس نے غزہ کی جنگ میں شام ، لبنان ، اور مزاحمتی گروپوں حماس اور حزب اللہ کی کمر توڑ دی ، شام کو تقسیم کر دیا ، ساری کمک چھین لی ، اس کے بعد پاکستان پر ان ممالک کی گہری نظر ھے اور ھم بھی تیار ہی بیٹھے ہوتے ہیں ، اب فالس ھو یا ٹرو ہو ، کودنا ہوتا ہے، آبی جنگ موت اور زندگی کا کھیل ہے ، حیرت ھے کہ بعض طبقات اس کو بھی تماشا سمجھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں ، فالس فلیگ آپریشن کا نتیجہ ٹرو نہیں ہو سکتا ۔یہ غیر انسانی کھیل ھے چین سعودی عرب اور متحدہ امارات کو بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے ، یک طرفہ نہیں علاقائی مفادات کو بھی دیکھیں ۔

بشکریہ اردو کالمز