نوٹیفکیشن ! اور ایک پرانا حادثہ 124

نوٹیفکیشن ! اور ایک پرانا حادثہ

فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر کو ملک کا پہلا ڈیفنس چیف بنانے کا نوٹیفکیشن آ گیا اور یوں ضرورت سے زیادہ باخبر حلقوں کی وہ بحث بھی ختم ہوئی جس نے ملک بھر کے میڈیا کو نقار خانہ بنا کے رکھ دیا تھا۔ ہر طرف سے نئی نئی ’’اندر کی بات‘‘ سامنے آ رہی تھی کہ ایک ، پیج پھٹ گیا ہے، میاں نواز شریف منظوری نہ دینے پر اکڑ گئے ہیں، بس اب کچھ ہونے والا ہے۔ پْر امید مرشداتی حلقے یہ یقین دلا رہے تھے کہ جونہی کچھ ہوا، مرشد باہر آ جائے گا۔ 
بہرطور یہ معاملہ ختم ہوا۔ مجھے اس نوٹیفکیشن کے مضمرات اور مابعد ثمرات پر کچھ نہیں کہنا، اس حوالے سے ان گنت پْرمغز مقالات اخبارات میں آئیں گے، اور آپ ان سب کو نہ سہی، ان میں سے اکثر کو پڑھ بھی لیں گے مجھے تو اس ’’صحافتی حادثے‘‘ کے بارے میں عرض کرنا ہے اور عرض کرنے کی وجہ ایک اسی طرز کا پرانا صحافتی حادثہ ہے جو اس نئے حادثے کی وجہ سے یاد آ گیا۔ اتفاق سے یہ پرانا صحافتی حادثہ بھی اسی ادارے کا ہے جس نے یہ نیا حادثہ برپا کیا۔ 
تازہ حادثہ یوں ہوا کہ اس میڈیا گروپ کے ٹی وی نے سہ پہر یہ خبر چلا دی کہ نوٹیفکیشن ہو گیا ہے حالانکہ نہیں ہوا تھا۔ خبر چلی تو حکومتی حلقوں نے فوراً رابطہ کر کے تردید کی۔ یوں اس ٹی وی چینل نے ایک دو منٹ ہی یہ بریکنگ نیوز چلائی ہو گی کہ روک دی اور پھر مزید ایک دو منٹ بعد معذرت نامہ چل رہا تھا کہ ہم نے یہ خبر جو چلائی ہے، وہ فیک نیوز ہے۔ ظاہر ہے، ادارے کو اس صورت حال پر شرمندگی اور خفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ستم ظریفی یہ ہوئی کہ دو اڑھائی گھنٹے بعد سمری منظور ہونے کی خبر آ گئی۔ یعنی دو گھنٹے پہلے کی ’’فیک نیوز‘‘ سچ ثابت ہوئی۔ ادارے کو جس پریشان کن شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، وہ اپنی جگہ۔ 
جو واقعہ یاد آیا، وہ 1990 ء سے کچھ پہلے کا ہے۔ سال ٹھیک سے یاد نہیں۔ تب نیوز چینل نہیں ہوا کرتے تھے ، صرف اخبار تھا۔ اور میں اس کے ادارتی عملے میں شامل تھا۔ تقریبات اور وفات کی خبریں رپورٹر نہیں لاتے تھے، متعلقہ اصحاب کے پریس ریلیز آ جاتے تھے جو ایڈٹ کرنے کے بعد چھاپ دئیے جاتے تھے۔ ایک روز لاہور کے کسی ایک علاقے میں معروف سمجھی جانے والی شخصیت کے انتقال اور نماز جنازہ کی اطلاع والی پریس ریلیز آئی جو حسب معمول چھاپ دی گئی۔ 
اخبار چھپا شام کے بعد جب نیوز روم کی ورکنگ شروع ہوئی تو کچھ ہی دیر بعد مذکورہ وفات یافتہ صاحب تشریف لے آئے اور ایک طرف کھڑے ہو کر زور زور سے احتجاج اور فریاد کرنے لگے کہ میں زندہ سلامت ہوں، آپ نے مجھے مار دیا۔ نیوز روم میں ایک افراتفری سی پھیل گئی، مذکورہ صاحب کو کرسی پر تشریف رکھنے کی دعوت دی گئی۔ مذاکرات کا دور چلا، ان سے معافی طلب کی گئی اور اخبار کے مالک کے مشورے اور ہدایت پر طے ہوا کہ اگرچہ انتقال کی خبر اندر کے صفحے پر چھپی تھی، اس کی تردید اور معذرت نامہ صفحہ اوّل پر ، ’’مرحوم‘‘ کی تصویر کے ساتھ چھاپا جائے گا۔
چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ رات دو بجے اخبار کی کاپی تیار کر کے پریس بھیج دی گئی۔ 
اگلے روز اخبار چھپ کر آیا جس کے پہلے صفحے پر مرحوم کے زندہ ہونے کی خبر اور معذرت چھپی تھی، ایک ’’بریکنگ سرپرائز‘‘ یہ تھا کہ اس روز کے باقی تمام اخبارات میں مرحوم کی وفات کی خبر چھپی ہوئی تھی۔ 
ہوا یہ کہ مرحوم کامیاب مذاکرات کے بعد گھر پہنچے تو کچھ ہی دیر بعد ان پر ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ سچ مچ وفات پا گئے ، قدرت کے کام نرالے قفل خانہ نے سبھی اخبارات کو پریس ریلیز بھیج دی۔ ہمارے اخبار کو بھی یہ پریس ریلیز موصول ہوئی لیکن یہ سمجھ کر اسے ردّی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا کہ جن صاحب نے کل جھوٹی خبر بھیجی تھی، آج پھر شرارت کی ہے۔ 
اخبار کیلئے بہت پریشانی کا د ن تھا۔ نیوز روم اور رپورٹروں کی میٹنگ میں اس صورتحال پر تبصرے ہو رہے تھے۔ ایک صاحب نے تو تبصرہ کرنے کی حد ہی کر دی۔ اخبار کی پالیسی یہ تھی کہ اس میں چھپی ہوئی کوئی پیشگی خبر (فلاں فیصلہ ہو گیا، اعلان ہونے والا ہے، فلاں کا تبادلہ ہونے والا ہے، نیا وزیر حلف اٹھانے والا ہے وغیرہ) بعدازاں سچ ثابت ہو جاتی تو پہلے صفحے پر اس کا کریڈٹ لیا جاتا۔ کریڈٹ لینے والی خبر کی سرخی یوں ہوتی ’’ہمارے اخبار کا ایک اور اعزاز، یا ہمارا اخبار پھر بازی لے گیا، یہ خبر تین دن یا ایک ہفتہ پہلے ہی چھاپ دی تھی۔ نیچے اس چھپی ہوئی خبر کا عکس دے دیا جاتا۔ ساتھ میں نئی خبر بھی ہوتی۔ ان صاحب نے جو عدالتی رپورٹر تھے، مشورہ دیا کہ کریڈٹ لینے والی خبر چھاپی جائے۔ لکھا جائے کہ ہمارا اخبار پھر بازی لے گیا، فلاں صاحب کے انتقال کی خبر ایک روز پہلے ہی چھاپ دی۔ 
ظاہر ہے، تجویز ہنسی مذاق میں ٹال دی گئی۔ تازہ سانحے پر یہ ٹی وی چاہتا تو یہ ’’پھٹہ‘‘چلا سکتا تھا کہ ادارے کا اعزاز__ نوٹیفکیشن کی خبر دو یا تین گھنٹے پہلے ہی بریک کر دی تھی۔ 
______
جب کے پی نہیں ہوتا تھا بلکہ صوبہ سرحد ہوتا تھا تو اس کی کسی نمایاں شخصیت کے مداح اپنے ممدوح کا تعارف ’’شیر سرحد‘‘ کہہ کر کرایا کرتے تھے۔ اب کے پی ہے ، چنانچہ اب شیر سرحد کے بجائے ایسے کسی سورما کو ’’شیر کے پی‘‘ ہی کہا جا سکتا ہے اگرچہ اس اصطلاح میں فصاحت کی کمی ہے۔ ’’کے‘‘ کا لفظ انگریزی ہے لیکن کچھ لوگ اسے اردو والا ’’کے‘‘ پڑھیں گے اور بات کچھ بے معنے سی لگے گی۔ 
خیر، ’’شیر کے پی‘‘ نوٹیفکیشن والے دن مرشد سے ملنے اڈیالہ پہنچے، ملاقات نہیں ہو سکی، یہ خبر تو ہے لیکن اتنی بڑی نہیں، اصل بڑی اور مزے دار خبر یہ ہے کہ اس سے پہلے ’’مشیر کے پی‘‘ ایک ’’ماورائے سیاسی‘‘ شخصیت سے ملنے کیلئے کوشاں رہے۔ گورنر راج کی خبروں کے پس منظر میں، ملنے کی یہ کوشش ’’بامقصد‘‘ نظر آ رہی تھی۔ ملنے سے انکار کر دیا گیا تو عرض گزاری کہ فون پر ہی بات کرا دیں، بہت منت کی
نہ ہو جام تو کٹورے میں دے 
کھنگھالے ہوئے آب خورے میں دے 
افسوس بات نہ بنی۔ بس اتنی خبرہے آگے کی خبر کا انتظار فرمائیے۔

بشکریہ نواےَ وقت