یوں تو قیامت کا منظر پورے قرآن مجید میں مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے۔ لیکن روز قیامت کے متعلق نبی کریمﷺکے فرمان عالی شان کے مطابق 3 سورتیں ایسی ہیں جنہیں اہل علم جب پڑھیں گے قیامت کا منظر ان کی نظر کے سامنے سے گزرے گا ،اور جوں جوں انسانیت کے علم میں اضافہ ہوتا جائے گا، ویسے ویسے باریکیوں کے ساتھ یہ منظر کشی زیادہ واضح ہوتی جائے گی۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی روز قیامت کو حقیقی صورت میں دیکھنا چاہتا ہے وہ سورہ تکویر، سورہ انشقاق اور سورہ انفطار کی تلاوت کر لے۔“ (سلسلہ صحیحہ) یہ تین سورتیں قرآن مجید میں آخری پارہ میں ہیں اور ترتیب کے لحاظ سے سورہ التکویر 81، سورہ الانفطار 82 اور سورہ الانشقاق 84 ویں نمبر پر ہیں۔ میں ترتیب وار آن سورتوں سے قیامت کا منظر پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔ 1۔ سورہ التکویر: جب سورج لپیٹ دیا جائے گا ،اور جب ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گریں گے ،اور جب پہاڑوں کو چلایا جائے گا ،اور جب دس مہینے کی گابھن اونٹنیوں کو بھی بیکار چھوڑ دیا جائے گا ،اور جب وحشی جانور اکٹھے کردیے جائیں گے ،اور جب سمندروں کو بھڑکایا جائے گا ،اور جب لوگوں کے جوڑے جوڑے بنا دئیے جائیں گے ، 2۔ سورہ الانفطار: جب آسمان چر ( پھٹ) جائے گا ،اور جب ستارے جھڑ پڑیں گے ،اور جب سمندروں کو ابال دیا جائے گا ،اور جب قبریں اکھاڑ دی جائیں گی ، 3۔ سورہ الانشقاق : جب آسمان پھٹ پڑے گا ،اور وہ اپنے پروردگار کا حکم سن کر مان لے گا ، اور اس پر لازم ہے کہ یہی کرے ،اور جب زمین کو کھینچ تان کر پھیلا دیا جائے گا۔اور جو کچھ زمین کے اندر ہے وہ اُسے باہر پھینک کر خالی ہو جائے گی۔ اگر جدید علوم جو مجھے سمجھ آئے ہیں یا میسر ہیں ان کے مطابق ان تینوں سورتوں کی منظر کشی کی جائے تو واقعہ کچھ یوں ہو گا جس کے تین حصے بنیں گے۔۔ پہلا حصہ قریبی آسمان یعنی نظام شمسی سے متعلق ہے۔ جس میں سورج کو لپیٹے جانے کا منظر ہے۔۔ جو غیر طبعی موت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ لپیٹا کسی بھی چیز کو وقت سے پہلے بھی جا سکتا ہے۔۔ اور اس لپیٹنے سے مراد کسی بھی بلیک ہول یا کسی بھی سیارہ سے ٹکراؤ ہے۔ اس کے فوری نتیجہ میں قریب ترین نظر آنے والے سیارے بکھرتے نظر آئیں گے ۔۔ اور گرنے سے مراد اپنے مدار سے نکل کر کسی بھی جانب جانا ہے۔ دوسرا حصہ زمین سے متعلق ہے جس میں زمیں کی کشش ثقل ختم ہو جائے گی اور بڑے objects پہاڑ وغیرہ اس حادثہ اور شہابیوں کی بارش سے دھول مٹی کی طرح اڑنا شروع ہو جائیں گے۔۔ بالکل اسی طرح جس طرح ڈائنوسار کے دور کے اختتام پر آسمانی شہاب ثاقب کے زمین سے ٹکرانے کی صورت میں ہوا۔۔ پہاڑ دھول اور مٹی بن کر زمیں کے اوپر گرد بن گئے ۔ جو سالہا سال رہی۔ عرب دور میں 10 ماہ کی حاملہ اونٹنی ایک قیمتی اثاثہ تھا جسے یوں بے یار ومددگار نہیں چھوڑا جا سکتا تھا ۔ تو یہ حادثہ اتنا سخت ہو گا کہ لوگ اپنی قیمتی ترین چیزیں بھول جائیں گے۔ اگر آپ نے کہیں جنگل میں آگ لگی دیکھی ہو تو جانور پہلے بھاگتے ہیں ۔ پھر سہم کر ایک جگہ جمع ہو جاتے ہیں۔۔ور گھبراہٹ ان کے چہروں پر عیاں ہوتی ہے۔ یہ حال سیلاب اور زلزلہ کی صورت میں ہوتا ہے۔۔ (میں نے اس کا مشاہدہ 2005 کے شمالی علاقوں میں زلزلے سے مرنے والے جانوروں کے اکٹھے ہو کر اور موت کے بعد بھی اذیت ناک چہروں کے ساتھ دیکھا تھا۔ ) اس کے بعد اس قریبی آسمان کے سیاروں کے ٹوٹنے اور سمندروں میں گرنے سے ان کا ٹمپریچر بڑھ جائے گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ زمیں کے لاوہ اگلنے سے پانی کا درجہ حرارت ابال کی حد تک چلا جائے۔ اور بھڑکانے سے مراد سونامی بھی ہو سکتا ہے۔ اس تمام سے انسان جو زمیں پر چند لمحوں کے مہمان ہیں ڈر کر اپنے قریبی ساتھی کا ہاتھ پکڑ لیں گے ۔۔ جیسے شدید خوف میں انسان جوڑے کی صورت میں دہشت زدہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ اور قبروں کا اکھاڑنا ( جیسا کہ طوفان نوح میں تنور سے پانی نکلنا تھا) یا زمیں کا اپنے بوجھ باہر اگل دینا سے مراد شدید زلزلہ اور آتش فشاں اور لاوہ اگلنا ہے۔ اس کے بعد زمیں کا کور core خالی ہو جائے گا اور زمیں پھیل جائے گی ۔۔ یا ہو سکتا ہے کہ کسی بھی بلیک ہول کے event horizon کی ڈسک کا حصہ بن جائے کیونکہ زمیں کی بل اور سلوٹیں نکال کر سیدھا کر دینے کا ذکر ہے اور کھینچ تان کر بالکل سیدھا کر دیا جائے گا۔۔ چونکہ زمیں یا نظام شمسی کسی بھی event Horizon میں بہت معمولی حیثیت رکھتے ہیں لہذا تیسرا حصہ ان سورتوں کا آسمان کے چیرے جانے یا پھٹنے کا عمل ہے جس ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پورے کہکشاں یا دور دراز کے توڑ پھوڑ کا نظارہ ہے۔۔ جیسا کہ سورہ الرحمان میں ارشاد باری تعالٰی ہے کہ" ( ُاس وقت تمہارا کیا بنے گا ) جب آسمان پھٹ جائے گا اور وہ گلاب کے پھول ( یا ) لال چمڑے کی طرح سرخ ہو گا؟) ۔۔اور یہ ہو سکتا ہے کہ جب کوئی بڑا سیارہ جو خود تباہ ہو کر سرخ ہو چکا ہو جیسے ہی ہماری کہکشاں سے گزرے گا تو یوں محسوس ہو گا جیسے کوئی چیز آسمان کو چیر کر نکل آئی ہے۔۔ واللہ اعلم اب یہاں پڑھے لکھے حضرات یہ سوال کریں گے کہ آسمان میں ہونے والے کسی بھی واقعہ کو کروڑوں اربوں سال لگیں گے کہ ہمیں نظر آئے۔۔ لہذا ایکدم ہونا ناممکن ہے۔۔ میرے مضمون کا عنوان یہاں سے شروع ہوتا ہے۔۔ آج ہم جس آسمان کو دیکھ رہے ہیں اس میں موجود ستاروں اور کہکشاؤں کی روشنی جو ہم تک رہی ہے یہ دراصل ہم اس کائنات کا ماضی دیکھ رہے ہیں۔۔ مثلا اگر ایک ستارہ ہم سے ایک کروڑ نوری سال دور ہے تو اس کی روشنی ہم تک ایک کروڑ سال میں پہنچی ہے۔۔ اگر وہ ستارہ تباہ بھی ہو گیا ہو تو ہمیں ایک کروڑ سال بعد اس کا علم ہو گا۔ اسی طرح ہمارے سورج کی روشنی ہم تک آٹھ منٹ اور چند سیکنڈ میں پہنچتی ہے۔۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر سورج کسی اچانک حادثہ کی وجہ سے اگر بجھ جائے تو ہمیں اس حادثہ ک علم 8 منٹ بعد ہو گا۔۔ لیکن ہمارے آقاﷺنے معراج پاک کا سفر مستقبل میں یعنی وقت time میں کیا۔ یعنی آپ کریمﷺ نے ابھی جو واقعات نہیں ہوئے ان کا مشاہدہ بھی رب کریم نے آپ کو فرمایا۔ مثلا ابھی قیامت نہیں آئی۔ نا ہی حساب کتاب یعنی روز حشر ہوا ہے ۔ نامعلوم قیامت کب آئے بھلے ایک لمحے بعد یا ایک کروڑ یا اس سے بھی بعید سال بعد۔ پھر روز حشر 50 ہزار سال کا ہو گا۔۔ ابھی یہ کچھ بھی نہیں ہوا ۔۔ لیکن معراج کی رات نبی کریمﷺ کو جنت میں جانے والوں کے محل اور اہل جنت کی گفتگو اور حوروں سے گفتگو کرائی گئی۔۔ اور اہل جہنم کو عذاب سہتے مشاہدہ کرایا گیا۔ جو کہ نامعلوم کب ہو گا۔۔ لیکن آپ کریمﷺ نے ان تمام باتوں واقعات اور حالات کا مشاہدہ فرمایا جو آپ پر بذریعہ وحی نازل ہوئے۔ بلکہ یہ سب کچھ تو time & space میں مستقبل کہلاتا ہے جو کہ ایک وقت time کہلاتا ہے۔۔ آپ کو تو اس سے بھی آگے کا مشاہدہ کرایا گیا۔ جب وقت ( time) کو بھی رب تعالی ختم فرمایا دیں گے یعنی ذبح کر دیا جائے گا۔ ۔۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، ’’قیامت کے دن موت ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لائی جائے گی ۔ ایک آواز دینے والا فرشتہ آواز دے گا کہ اے جنت والو ! تمام جنتی گردن اٹھا اٹھا کر دیکھیں گے ، آواز دینے والا فرشتہ پوچھے گا ۔ تم اس مینڈھے کو بھی پہچانتے ہو ؟ وہ بولیں گے کہ ہاں ، یہ موت ہے اور ان سے ہر شخص اس کا ذائقہ چکھ چکا ہوگا ۔ پھر اسے ذبح کر دیا جائے گا....‘‘ (صحیح بخاری) جب وقت نہیں رہے گا تب پھر اس کے بعد شفاعت کا دور شروع ہو گا ۔۔ اور جہنمی نامعلوم وقت تک جہنم میں ہوں گے کہ ان کے جسم جل کر سیاہ ہو جائیں گے۔۔ انہیں جہنم سے نکالا جائے گا اور جنت میں ڈالا جائے گا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ایک قوم جہنم سے اس حال میں نکلے گی کہ عذاب جہنم کے باعث ان کی جلد سیاہ ہوگی، پس وہ جنت میں داخل ہوں گے تو اہلِ جنت انہیں جہنمی کہہ کر پکاریں گے۔‘‘(بخاری، احمد) ناجانے کتنے زمانوں تک یہ شفاعت جاری رہے گی ،پھر آخری بندہ جہنم سے آزاد ہو گا۔۔اس بندے کے متعلق آقاﷺنے ارشاد فرمایا کہ میں جہنم سے نکلنے والے آخری بندے کو جانتا ہوں ۔۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جانتا ہوں اس شخص کو جو سب کے بعد جنت میں جائے گا، یہ وہ شخص ہے جو جہنم سے گھٹنوں کے بل گھسٹتا ہوا نکلے گا،( صحیح مسلم کی ایک طویل حدیث کا حصہ ہے۔۔ آقاﷺنے اس بندے( آخری جہنمی) کے حال کو بیان کرتے ہوئے اتنی مسکراہٹ فرمائی کہ آپ کریمﷺ کے دانت مبارک دکھائی دینے لگے) اب خدا اور اس کا نبی ہی جانتے ہیں ۔۔ کہ جب وقت time ہی نہ رہے تو یہ دور کون سا ہو گا۔۔ اسی لئے اللہ کریم نے نبی پاک کی لامکاں و لازماں یعنی beyond time and space کے دیکھنے کی صلاحیت کی تعریف سورہ النجم میں یوں فرمائی۔۔ ترجمہ: جب کہ اس سدرۃ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا (یعنی نور)۔ نہ تو نظر بہکی نہ حد سے بڑھی۔بے شک اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔( النجم) سدرہ المنتہی وہ مقام ہے جس سے آگے وقت اور زمانہ نہیں ہے۔۔ لیکن نبی کریمﷺ اس سے بھی آگے اپنے بدن مبارک کے ساتھ تشریف لے گئے۔ اگر یہاں تک بات سمجھ آگئی ہے تو پھر نبی کریمﷺکے لئے یہ مادے کی بنی کائنات کا مشاہدہ بہت چھوٹی سی بات ہے کیونکہ یہ ابھی وقت کی پابند ہے۔ نبی کریمﷺ نے مستقبل کے سفر میں جب ابھی آپ معراج پر تشریف نہیں لے کر گئے تھے اور مسجد اقصی سے اسمان کی طرف محو سفر تھے۔۔ تب اس کائنات کا انجام مشاہدہ فرما لیا ہو اور مستقبل کے ستارے ،سیارے، کہکشاؤں کو ٹوٹتے بکھرتے دیکھ لیا ہو، اور مستقبل کے آسمان پر اب موجودہ آسمان کا کوئی ستارہ نہ رہا ہو اور وہ جھڑ رہے ہوں یا جھڑ چکے ہوں، بلکہ وہ ستارے یا سیارے جنہوں نے ہماری کہکشاں کا نظام درہم برہم کرنا ہے، اپنا آدھے سے زیادہ واپسی کا سفر طے کر چکے ہوں اور کسی بھی لمحے ہماری آنکھوں کے سامنے ظاہر ہو جائیں ۔۔ یا کوئی بڑا بلیک ہول جو اربوں سال قبل ہمارے ملکی وے کی طرف چل پڑا ہو اور کسی بھی لمحے ہمارے آسماں کو تہہ وبالا کرتے ہوئے ہمارے سورج کو نگل جائے۔۔ تبھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں اور قیامت ان دونوں (انگلیوں) کی طرح (نزدیک نزدیک) بھیجے گئے ہیں۔“ البخاری یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور قیامت کے درمیان صرف آپ کا وصال پاک ہے پھر قیامت شروع ہو گئی ہے۔۔ آپ ﷺ نے فرمایا: قیامت کی چھ نشانیاں شمار کر لو؛ پہلی ۔۔میری موت، ۔۔۔۔( البخاری) رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دنیا میں تشریف آوری اور آپ کی وفات ہے ‘پچھلی آسمانی کتابوں میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا لقب ”نبی الساعۃ“ لکھا ہے۔ جس کا معنی ہے: ” قیامت کا نبی “یعنی آپ وہ آخری نبی ہوں گے کہ جن کی امت پر قیامت قائم ہو گی ۔ یہ عظیم واقعہ کب ہو گا۔۔ اس کا جواب قرآن مجید نے یوں فرمایا ہے۔۔ ترجمہ: یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا؟ آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم صرف میرے رب ہی کے پاس ہے، اس کے وقت پر اس کو سوا اللہ کے کوئی اور ظاہر نہ کرے گا۔ وه آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری (حادثہ) ہوگا وه تم پر محض اچانک آپڑے گی (الاعراف )
318