مقدس گائے ، اور نئی حکومت کے خدو خال 214

مقدس گائے ، اور نئی حکومت کے خدو خال

ایک طویل بے یقینی کے بعد 16 ویں قومی اسمبلی معرض وجود میں آگئی ہے ، مریم نواز پہلی خاتون وزیر اعلیٰ بن چکی ہیں، جو کہ تاریخ میں ایک نیا باب ھے اور اتحادی حکومت کا مستقبل کیسا ھوگا یہ اتحادی سیاستدانوں کی سب سے بڑی آزمائش اور امتحان ھے کہ وہ اس سسٹم کو کیسے چلاتے ہیں؟ البتہ ایک ھی نقظہ اہم ھے کہ جب تک سیاسی جماعتیں مل کر کوئی فیصلہ نہیں کریں گی اس وقت تک جمہوری نظام کو تقویت نہیں ملے گی ، دوسرا حل یہ ہے کہ پارلیمنٹ اور تمام ادارے ایک ہی فورم پر متحد ہو کر ملک کو مسائل کی گرداب سے نکالنا چائیے، جس کے لیے سب سے پہلے الیکشن اصلاحات اور شکوک وشبہات ختم کرنے ھوں گے ، 
یہ 1985ء تھا غیر جماعتی الیکشن کے بعد آزاد امیدواروں کی بھرمار تھی جو اسمبلی میں پہنچی تھی ، ھم اس وقت بچے تھے بلکہ بچپنا بھی تھا ، خوش قسمتی سے ٹی وی موجود تھا جس کی وجہ سے اس آزاد امیدواروں کی کوکھ سے جنم لینے والا لیڈر محمد خان جونیجو تھا جس کی ہر بات ، ہر گفتگو اور ہر تقریر میں ایک جملہ لازمی ھوتا تھا ، جو شاید لانے والے کو بھی برا لگتا تھا ، لیکن وہ برملا وہ کہہ دیتے تھے اور ھم ٹی وی پر سن لیتے تھے ، وہ جملہ تھا" ھم جموریت کی بحالی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے" جمہوریت کے کو وہ مخصوص الفاظ میں جموریت کہتے تھے ، لیکن سادگی اور اسٹیٹ مین شپ اتنی تھی کہ ہر شخص کو بھلے لگتے تھے ، اور یہی صفات انہیں جینوا سے واپسی پر گھر بھیج چکی تھیں ، البتہ اس اسمبلی سے کافی اچھے لیڈر ابھر کر سامنے آئے ، جو کسی نہ کسی سطح پر آج بھی سرگرم عمل ہیں ، امتحان کیا ہے وہ آج کہ" آزادوں اور پابندوں" کو سوچنا چاہیے ، امتحان یہی ہے کہ ماضی سے سبق سیکھا جائے اور مل بیٹھا جائے ، یہی سوال سب سے اہم ھے ،نہیں تو چلنجز آپ کے سامنے ہیں جہاں ریاست اور حکومت دونوں بے بس ہو جائیں گے ، جہاں ایک بڑی تعداد آزاد نمائندوں کی ھے ، وہاں الیکشن پر بھی سوالیہ نشان موجود ہیں ، ھمیں بنیادی طور پر سب سے بڑے مسائل کو ترجیح دینا چاہیے ، کوئی بھی حکومت ھو سب سے پہلا بڑا چیلنج سماج کا درپیش ہے ، وہ بری طرح تقسیم ھے ، جسے اعتماد اور اتحاد کی طرف لانا ھوگا ، یہی بات وہی سمجھے گا جو آئندہ بیس سال تک 18 سے 35 سال کے نوجوانوں کی ضرورت اور اہمیت کو سمجھ سکے گا ، دوسری صورت میں نظام میں بڑا خلا موجود رہے گا ، دوسرا بڑا چیلنج معیشت کا ھے جس کے لیے آئی ایم ایف کو "مقدس گائے" بنا کر پیش کرنے کی بجائے ، پیش بندی اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ھے ، بڑے اور چھوٹے ڈیمز ، توانائی ، پیدوار ، برآمدات اور سرمایہ کاری کو ایسے دائرہ لگا کر ایمرجنسی بنیادوں پر لائحہ عمل بنایا جائے کہ غریب عوام کو مہنگائی ، بے روزگاری اور بے گھری سے نجات ملے ، توانائی ھوگی تو صنعت لگے گی ، صنعت لگے کی تو روزگار اور برآمدات میں اضافہ ھو گا ، یہ بالکل سیدھی سائنس ھے ، آپ بھارت اور بنگلہ دیش سے تقابلی جائزہ لینا ھوگا ، کہ وہ کس طرح ترقی کی منزلیں طے کر ریے ہیں ، گزارش صرف اتنی سی ہے کہ آئی ایم ایف کو مقدس گائے بنا کر پیش نہ کیا جائے ، اپنے چیلنجرز سامنے رکھے جائیں اور اس پر عمل درآمد کیا جائے ، یہ چیلنج سیاستدانوں کا ھے کہ وہ سماج اور حکومت کے درمیان پیدا ہونے والا خلا کیسے ختم کرتے ہیں ، انتہائی مخدوش حالات ہیں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ، عوام ایک طرف اور حکومت دوسری طرف کھڑی ہے اس خلا کو ختم کرنا ہے تو کردار ، رویوں اور عمل سے اعتماد پیدا ھو گا ، قانون سازی ، انصاف اور تھانہ کچہری کا مخصوص نظام تیزی سے معاشرے کو چاٹ رہا ہے ، اس کو روکنے کے لیے مشترکہ اصلاحات ضروری ہیں ، 
مایوسی کی بات یہ ہے کہ جمہوریت آور جمہور دونوں الگ الگ صفحے پر کھڑے ہیں ان کا خلا ختم کرنے کے لیے تمام جماعتوں اور اداروں کو مشترکہ لائحہ عمل دینا ھوگا ، پارلمینٹ کی آواز اس کے اندر دب جائے گی تو پھر ایوانوں اور عوام میں خلا کم ھونے کی بجائے بڑھے گا جس کا ملک متحمل نہیں ہو سکتا سولہویں اسمبلی اور 23 مرتبہ آئی ایم ایف کیا سیاستدان سوچتے نہیں کہ کیا ھوگیا ، کیسے ھوگا کیا مقدس گائے دم توڑنے لگی ہے

بشکریہ اردو کالمز