مندروں کے نیچے بدھ عبادت گاہوں کے آثار 307

مندروں کے نیچے بدھ عبادت گاہوں کے آثار

جب بھارت کے اتر پردیش صوبہ کے ایودھیا شہر میں 1992کو تاریخی بابری مسجد کو مسمار کیا گیا تو کئی دانشور اور سیاستدان مسلمانوں کو مشورہ دے رہے تھے کہ ان کو یہ جگہ رضاکارانہ طور پر اب ہندووں کو حوالے کردینی چا ہئے تاکہ اس کے بدلے دیگر مساجد کے تحفظ کی ضمانت لی جاسکے۔ انہی دنوں پارلیمنٹ نے مذہبی مقامات ایکٹ 1991بھی پاس کیا ، جس کی ر و سے بابری مسجد کے بغیر دیگر تمام عبادت گاہوں کی پوزیشن جو 1947میں تھی، جوں کی توں برقرار رکھی جائے گی۔اس لئے بتایا گیا کہ مسلمانوں کو اب گھبرانے یا خواہ مخواہ ایشو بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مگر حالیہ عرصے میں ہندو قوم پرستوں نے بنارس کی گیان واپی مسجد، سنبھل کی جامع مسجد، بدایوں کی شاہی مسجد، ڈھائی دن کا جھونپڑا مسجد، حتیٰ کہ اجمیر میں خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ پر بھی عدالت میںدرخواست دائر کر کے دعویٰ کیا ہے کہ یہ قدیم مندروں کو توڑ کر بنائی گئی ہیں اس لئے ان کو ہندو فرقہ کے حوالے کیا جائے۔ عدالت نے ان کی درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیکر محکمہ آثار قدیمہ کو ان کا سروے کرنے کے احکام دے کر، 1991کے مذہبی مقامات ایکٹ کی ہوا نکال دی ہے۔ویسے تو وشیو ہندو پریشد کا دعوی ہے کہ ایسی 25ہزار مساجد ہیں، جو مندروں کو توڑ کر بنائی گئی ہیں اور ان کو واگزار کرانا ہے۔ اب ان مساجد کو واقعی مندروں کو توڑ کر یا ان کی جگہ بنایا گیا ہے یا نہیں، اس کے بارے میں متضاد بیانیہ ہیں مگر تقریبا تمام نامور مورخ اس بات پر متفق ہیں کہ اکثر ہندو مندر یا مٹھ، بدھ فرقہ کی عبادت گاہوں کو مسمار کرکے بنائے گئے ہیں۔ دیکھنا ہے کہ ہندو قوم پرستوں کی دیکھا دیکھی اگر بدھ مت کے پیروکاروں نے بھی عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹانے شروع کئے تو شاید ہی کوئی مندر ملک میں بچ جائیگا۔ ایک ایسا قضیہ پیدا ہوگا، جس کا کوئی اختتام نہیں ہوگا۔ کچھ عرصہ قبل سماج وادی پارٹی کے لیڈر، سوامی پرساد موریا نے مطالبہ کیا تھاکہ محکمہ آثار قدیمہ کو ہندو مندروں کی بنیادوں کو کھنگالنا چاہئے کیونکہ ان میںسے اکثر بدھ مت کی عبادت گاہوں کے ڈھانچے پر کھڑے ہیں۔ تاریخی کتب سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم اور ابتدائی عہد وسطیٰ کے دوران ہندو راجاؤں نے بدھ مت اور جین مندروں اور مٹھوں کو تباہ کر دیا تھا۔موریا دور کے دوران، مہاراجہ اشوک کے زمانے میں بدھ مت کا بول بالا ہوگیا۔ ان کی موت کے بعد بدھ مت کو زوال آگیا اور ایک طرح سے ہندو ازم یا برہمن بالادستی کا احیاء ہوگیا۔ اس دور میں بدھ مت کے پیروکاروں کے خلاف وسیع پیمانے پر ظلم وستم برپا ہوگیا اور ان کی مذہبی علامتوں کی تباہی و بربادی ہوئی۔موریہ حکومت کے زوال کے بعد پوشیا مترا، جو شنگا خاندان سے تعلق رکھنے والا حکمران تھا، نے خاص طور پر بدھ مت کو نشانہ بنایا اور بھکشووں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اسی طرح کے اقدامات بنگال کے گواڈا راجا ششانکا نے اٹھائے، جو بدھ مت کی عبادت گاہوں کی تباہی کے لئے ہی مشہور ہیں۔کشمیر کی تاریخ راج ترنگنی میں واضح طور پر لکھا ہے کہ کسی طرح شاویوات کو ماننے والے حکمرانوں نے بدھ خانقاہوں کو مسمار کیا۔چینی سیاح ہیون ژانگ نے، جو ساتویں صدی عیسوی میں ہندوستان کی مہم پر آئے تھے، نے بھی اپنے سفرنامہ میں اس بات کا ذکر کیا کہ ششانکا نے بہار کے گیا شہر میں پیپل کے اس درخت کو بھی کاٹ دیا تھا، جس کے نیچے مہاتما بد ھ کو گیان حاصل ہوا تھا۔ نریش کمار کا مقالہ، جو ویلیواڈا جرنل میں کئی برس قبل شائع ہوا تھا۔ بدھ مت کے اوپر برہمنوں کے منظم اور وسیع مظالم کا احاطہ کرتا ہے۔ حتیٰ کہ گیا میں واقع مقدس بدھ عبادت گا ہ کو بھی شیو مندر میں تبدیل کیا گیا تھا۔ اسی طرح تاریخ دان دیناناتھ جھا، جو بھارت کے قدیم اور وسطی دور کے ماہر ہیں، اپنی کتاب ''Against the Grain: Notes on Identity, Intolerance and History'' میںبتاتے ہیں کہ مسلمانوں کی آمد سے پہلے مختلف مذہبی مقامات کی تباہی، بے حرمتی اور ثقافتی حقوق کی چوری عام سی بات تھی۔وہ مسلم حکمرانوں کے دور میں مندروں کی بے تحاشا تباہی کے دعوے کو بھی رد کرتے ہیں۔جھا نے ہندو قوم پرستوں کی اسی تھیوری کی بھی ہوا نکال دی ہے کہ بہار کی قدیم نالندہ یونیورسٹی کی لائبریری کو مسلم جرنیل بختیار خلجی نے آگ کے حوالے کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ کتب خانہ کو خود ہندو شدت پسندوں ہی نے مسمار کر دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ خلجی اس علاقے میں آیا ہی نہیں تھا۔ جھا ہندو قوم پرستوں کے اس دعوے کو کہ مسلم دور میں 60ہزار کے قریب مندر تباہ کئے گئے ہیں کو چیلنج کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بطور مورخ مسلم حکمرانو ں کے سات سو سالہ دور میں 80کے قریب مندروں کو نقصان پہنچا ، اور ان کی نوعیت بھی سیاسی تھی۔ غالباً یہ ایسی ہی صورت حال تھی، جس طرح اندرا گاندھی نے 1984میں امرت سر میں سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹمپل پر چڑھائی کی تھی۔ گو کہ ان کا یہ اقدام انتہائی غیر دانشمندانہ اور اضطراری نوعیت کا تھا، مگر اس کو کسی بھی صورت میں اندراگاندھی کی سکھ مت کے تئیں دشمنی کی صورت میں نہیں دیکھا جاسکتا ہے۔ بدھ مت اور جین مت کے ظہور سے قبل ہندو مت کے دو دھڑے ویشنو اور شیو فرقے ایک دوسرے سے دست وگریبان رہتے تھے مگر بدھ مت اور جین مت کے خلاف دونوں متحد ہوگئے۔کشمیری مورخ کلہن کی راج ترنگنی میں راجہ اشوک کے ایک بیٹے جالاوکا کا ذکر ہے۔ اپنے باپ کے برعکس وہ شاوایٹ ہندو تھا۔ اس نے بدھ عبادت گاہوں پر قہر ڈھائے۔ سنسکرت میں بد ھ مت کی ایک کتاب دیویا ڈانا میں بتایا گیا ہے کہ موریہ حکومت کے زوال کے بعد برہمن حاکم پیوشامترا نے ایک فوج ہی بدھ مت کے ماننے والوں کو سبق سکھانے اور بدھ مٹھوں اور اسٹوپوں کو مسمار کرنے پر مامور کی تھی۔ اس نے سکالا یعنی موجودہ سیالکوٹ پر حملہ کرکے بد ھ بھکشووں کو تلا ش کرکے انکو ایذیتیں دیکر موت کی نیند سلا دیا۔ مدھیہ پردیش میں شنگا حکمرانی کے خاتمے کے بعد بھی بدھ مت کے مقامات کی تباہی جاری رہی۔ احمد پور میں، ایک برہمنی مندر پانچویں صدی میں ایک سٹوپا کی بنیاد پر تعمیر کیا گیا ، اور ودیشہ کے آس پاس کے مختلف مقامات پر بدھ عبادت گاہوںکے نمونے ملے ہیں، جو کہ آٹھویں صدی کے دوران شیوائیٹ یا جین عبادت گاہوں میں تبدیل کر دیے گئے تھے۔ ودیشہ سے 250کلومیٹر شمال مشرق کی طرف کھجراوٗ کے مقام پر دسویں صدی سے چندیلا حکمرانوں کے زیر انتظام ایک بڑا مندر بدھ مت کی عبادت گاہ پر بنایا گیا۔ یہاں گنتانی مندر بھی دسویں صدی میں ایک بدھ مت کی یادگار پر تعمیر کیا گیا ہے۔ اتر پردیش کے متھرا، جس کو بھگوان کرشن کا جنم استھان بھی بتایا جاتا ہے، میں بھوتیشور اور گوکرنیشورمندر وں کے نیچے بدھ مت کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ یہ شہر کشان دور کے دوران بدھ مت کے مرکزکے طور پر جانا جاتا تھا۔ کٹرہ مونڈ، جو اب ہندو تیرتھ استھان ہے عہد وسطیٰ کے اوائل تک بدھ مرکز تھا۔ (جاری ہے)

بشکریہ نایٹی ٹو نیوز کالمز