یہ عربی زبان کے دو الفاظ ہیں ،لیکن انہیں سمجھنے سے پہلے کچھ عربی زبان اور خصوصا قرآن کی عربی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ،یہ عربی کا اعجاز و کمال ہے ،کہ جب اسے کسی خاص بات یا موقع محل پر گفتگو کرنا ہو تو وہ ایک لفظ میں اس کیفیت کو بیان کر دیتا ہے ۔ اور باقی تمام کیفیات علیحدہ علیحدہ رہ جاتی ہیں ۔۔
جیسا کہ چاند پہلی سے تیسری رات تک کے چاند کو ہلال کہتے ہیں اور پھر تین رات کے بعد آخری ماہ تک کے چاند کو قمر کہتے ہیں اور چودھویں کے چاند کو بدر کہا جاتا ہے۔۔
اسی طرح شیر (Lion)“کے لئے ایک لفظ شیر آتا ہے اورعربی سے تھوڑی بہت واقفیت رکھنے والے اس کے لئے تین الفاظ سے واقف ہوتے ہیں ”لَیْث، اَسَد اور غَضَنْفَر“ جبکہ اہلِ عرب ایک قول کے مطابق150اور دوسرے قول کے مطابق 500 تک الفاظ اس کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اور وہ اس کی مختلف کیفیات پر اسے مختلف ناموں سے پکارتے ہیں جس سے یہ علم ہوتا ہے کہ شیر اس وقت کس مزاج میں ہے۔۔ مثلا
1. شیر" جب اپنی کچھار میں اپنے پاؤں کو سمیٹ کے بیٹھا ہو تو اِس کیفیت کو "اسد" کہتے ھیں
2۔ وہی "اسد" جب اپنی کچھار سے نکل کر چہل قدمی کرنے لگے تو اِس کیفیت کو "ضرغام" کہتے ھیں
3۔ وہی "ضرغام" جب چہل قدمی کرتے کِسی خاص سِمت کی جانب دیکھنا شروع کرے تو اِس کیفیت کو "غضنفر" کہتے ھیں
٤۔ جب وہی "غضنفر" دھاڑتے ھوئے اپنی کچھار سے کِسی مخصوص سِمت میں چل پڑے تو اِس کیفیت کو "ضیغم" کہتے ھیں۔ اسی طرح سے رسول کریمﷺ کو قرآن نے سورہ المدثر میں "قَسْوَرَةٍ" کا لقب عطا فرمایا ہے جس کے معنی ہیں ۔ ایسا شیر جو اپنے شکار پر غالب وطاقتور ہو اور غلبہ پا لے۔۔
اسی طرح سے قرآن مجید نے خواتین کی کیفیات اور درجات کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کو مختلف ناموں سے پکارا ہے۔ جیسے۔
• النساء کے معنی عورتوں کی جنس ، عورتیں ، خواتین ۔۔
• مَراَت کے معنی زن ، بیوی،زنانی
• المحصنات لفظ " المحصنات " قرآن مجید میں تین معانی میں استعمال ہوا ہے :
1۔ پاکبازاورپاکدامن
2۔آزاد خاندانی عورتیں
3۔ شادی شدہ عزتدار خواتین
•اس سے ایک کمتر درجہ ہے جسے لونڈی یاconcubine کہا جاتا ہے یہ وہ خواتین تھیں جنہوں نے اپنے مالک سے آزادی کے لئے ایک دستاویز لکھ لی ہوتی تھی۔۔ یا وہ اپنی آزادی کی قیمت مقرر کر کے اس کے بدلے کام کرتی تھیں۔۔ ان سے مالک مختلف کام لیتے ۔۔ اور وہ اگر کہیں شادی کرنا چاہتی تو وہ بندہ جس سے وہ شادی کر رہی ہوتیں وہ تمام معاہدہ پورا کرتا اور عورت آزاد ہو جاتی۔
• قرآنی آیت "ما ملکت ایمانکم" (جو تمہارے ماتحت ہیں) یعنی باندیاں یہ وہ طبقہ تھا جس کے مالک لوگ ہوتے ۔۔ یا تو انہیں ان کے talents پر خریدتے۔ یا یہ جنگ میں مال غنیمت کے طور پر تقسیم ہوتیں۔
ان باندیوں کی دو اقسام تھیں۔۔ ایک وہ جو ایماندار۔ مومنہ ہوتیں
دوسری وہ جو ہمارے سرفہرست عنوان کے مطابق "مُسَافِحَاتٍ" اور "مُتَّخِذَاتِ اَخْدَانٍ" ہوتیں ۔۔
• مُسَافِحَاتٍ: کہتے ہیں بد کاریاں کرنے والیاں، اپنی ضروریات یا لطف وجود مستی کی خاطر لوگوں کو جسم پیش کرنے والیاں ۔ یعنی (those who commit immorality (adultery
• مُتَّخِذَاتِ اَخْدَانٍ: چوری چھپے دوستیاں کرنے والیاں ۔ چھپ کر دوست بنانے والیاں۔
those who take secret lovers
قرآن نے مردوں کے لئے غیر مسلم امیر عورت سے مومن لونڈی یا concubine کو نکاح کے لئے ترجیح دی ہے۔
ترجمہ: اور مشرک عورتیں جب تک ایمان نہ لائیں ان سے نکاح نہ کرو، اور مشرک عورتوں سے ایمان دار لونڈی بہتر ہے (البقرہ 221)
لیکن اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو کسی مسلمان مالک کی غلام یا باندی اس مسلمان بھائی سے طے کر کے اس سے نکاح کر لینا حکم ہے۔ لیکن اس میں بھی قدرت کاملہ نے ایک عجیب شرط رکھی ہے کہ۔۔باندی جو مسلم معاشرے کی عورت کے لحاظ سے آخری کیٹگری ہو وہ بھی مومنہ ہو نا کہ چوری چھپے آشنائیاں کرنے والی اور اپنے مقاصد کے حصول کے لئے جسم پیش کرنے والی نہ ہو۔۔
اسلام میں المحصنات یعنی خاندانی خواتین سے لیکر باندیوں تک یہ تصور ہی موجود نہیں کہ کوئی عورت چوری چھپے آشنائیاں کرتی پھرے گی ۔ یار اور دوست بنائے گی۔۔ اور بدفعلی کرے گی۔۔ غلام اور باندی عورت بھی اگر ایسا کر رہی ہے تو مسلمان معاشرے میں اس کی کوئی جگہ نہیں۔۔ جبکہ اگر باندی اور لونڈی مومنہ ہیں پاکباز ہیں تو اسے بھی قرآن معاشرتی دھارے میں المحصنات ( خاندانی)کی صف میں لا کھڑا کرتا ہے ۔۔
ترجمہ: اور جو شخص تم میں سے اتنی مقدرت نہ رکھتا ہو کہ خاندانی مسلمان عورتوں (محصنات) سے نکاح کر سکے اسے چاہیے کہ تمہاری اُن لونڈیوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کر لے جو تمہارے قبضہ میں ہوں اور مومنہ ہوں اللہ تمہارے ایمانوں کا حال خوب جانتا ہے، تم سب ایک ہی گروہ کے لوگ ہو، لہٰذا اُن کے سرپرستوں کی اجازت سے اُن کے ساتھ نکاح کر لو اور معروف طریقہ سے اُن کے مہر ادا کر دو، تاکہ وہ حصار نکاح میں محفوظ (محصنات) ہو کر رہیں، "آزاد شہوت رانی" کرتی پھریں اور نہ" چوری چھپے آشنائیاں" کریں پھر جب وہ حصار نکاح میں محفوظ ہو جائیں اور اس کے بعد کسی بد چلنی کی مرتکب ہوں تو ان پر اُس سز ا کی بہ نسبت آدھی سزا ہے جو خاندانی عورتوں (محصنات) کے لیے مقرر ہے یہ سہولت تم میں سے اُن لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے جن کو شادی نہ کرنے سے بند تقویٰ کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہو لیکن اگر تم صبر کرو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اور اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ( النساء 25)
یعنی اسلامی معاشرے میں وہ خواتین جو چوری چھپے یاری، boy friends ,,کی قائل ہیں یا living relationship کی قائل ہیں ،یا دوستیوں، اپنی ضروریات، اور خواہشات کی تکمیل کے لئے ناجائز ذرائع استعمال کرتی ہیں ۔ ان کی حیثیت غلام اور باندی سے بھی کمتر، بدتر ہے۔۔ باندی اگر مومنہ ہے تو اس سے شادی کی جا سکتی ہے ۔۔ لیکن اس سے شادی کی گنجائش بھی نہیں ۔۔ اور اگر شادی کر بھی لے اور اپنی آشنائیاں جاری رکھے تو اسے فارغ کر کے عام خاندانی عورت سے بھی کم آدھے حق مہر میں دفع کرنا ہو گا۔
یہ صرف اسلام ہی میں ایسا نہیں ،آج سے تین ہزار سال قبل کے یونان ( ایتھنز) میں ایک باندیوں کا طبقہ تھا جسے" پورنائی" pronai کہا جاتا تھا۔۔ یہ کسی بھی بڑے آدمی کی ملکیت ہوتیں اپنا گزر بسر آشنائیاں کر کے اور جسم فروشی کر کے کرتیں ۔۔ ان کے پاس چونکہ گھر یا جگہ نہیں ہوتی تو یہ ہوٹل میں ، گلی کوچوں کے کونوں میں ۔۔ پبلک لیٹرین میں اور سواریوں میں چلتے ہوئے اپنی خدمات انجام دیتیں۔۔ اور اس طرح ان کی گزر بسر ہوتی یہ سب سے نچلا طبقہ ہوتا اور ان سے شرفا پرہیز کرتے۔پورنائی ایک ایسے لفظ سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے " بیچنا" ۔ یہ غلاموں کا ایک طبقہ ہے جو *کسبی* یا سیکس ورکرز کے نچلے طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ انہیں اپنے گاہک خود ڈھونڈنے ہوتے اور پھر ان کی کمائی سے ٹیکس بھی کاٹا جاتا۔ اسی کو بطور ماخذ porn کا جد امجد سمجھا جاتا ہے،.
قدیم یونان ، سلطنت روم، جاپان یا چین میں معاشرے میں خواتین کا طبقہ یونان میں Hetaerae, رومیوں میں meretrix ،جاپانیوں میں Oiran اور چین میں 妓 (jì) کہلاتا تھا۔۔ ان خواتین تک عام آدمی کی رسائی تقریبا ناممکن تھی۔
یہ طبقہ آج کل courtesan کہلاتا جس کے عام فہم مطلب ایسی خاتون کے ہیں جو اپنی مرضی سے جسے چاہے اپنے قریب کرے ،جب تک چاہے اپنے قریب کرے ۔۔ یہ قدیم دور میں فنون لطیفہ، کلاسیکل رقص، شاعری ، ادب کی ماہر خواتین ہوتیں تھیں۔۔ بڑے بڑے قلعہ نما گھروں میں رہا کرتیں ۔ صرف امراء وزراء یا سیاسی لوگ ان کی محافل میں جاتے یہ صرف شہر یا حکومت کی بڑی مجالس میں شرکت کرتیں ، اور یہ اپنی مرضی سے اپنے ساتھ رہنے والے ساتھی کو چنتیں ۔ اور یہ مدت بغیر نکاح کے ہوتی۔۔ تاہم اس دوران ان کا تمام خرچ اس شخص کے ذمہ ہوتا۔۔ یہ آزاد سیکس کی عادی نہ تھیں۔۔ کسی بندے کو ان تک پہنچنے کے لئے اعلی کلاس یا عہدے کی ضرورت ہوتی اکثر دولتمند ہی ان کو پا سکتے۔ اور یہ چند ماہ مختلف قریب آنے والے بندوں کو آزمائیں پھر کسی ایک کے قریب ہوتیں۔۔ لیکن ان کو بیوی کا درجہ نہ ملتا۔ بلکہ یہ بیوی سے علیحدہ صرف معاشرے میں مرد کے اختیارات اور نام و نمود کا حصہ ہوتیں۔۔ اس سے مرد کے معاشی طور پر مضبوط ہونے کا پتہ چلتا کہ اس کا تعلق اس طبقہ کی کس خاتون سے ہے۔ اور اس وقت اس کی معاشرے بلکہ سچ پوچھیں تو ( مارکیٹ ویلو) کیا ہے۔۔ اور اس پر مرد حضرات رشک کرتے۔
بادشاہ نواب اور دیگر امراء ان خواتین کو اپنے رکھ رکھاو اور ادب و آداب کے باعث اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت کے لئے بھی اکثر زمہداری سونپتے۔ مغل دور کے ہندوستان میں اس طبقہ کو "طوائف" کہا جاتا تھا۔ جس کا کام جسم فروشی قطعی نہیں تھا البتہ جس پر فدا ہو جاتیں اسے کنگال کر کے رکھ دیتیں۔ بنیادی طور پر یہ انتہائی مہذب، باادب اور رقص و سرور اور اعلی درجے کی شہری ہوتیں اپنے ساتھ رہنے والے مرد کو لبھانے کے تمام طریقے جانتیں ۔اور جب مرد سے دل بھر جاتا تو کسی دوسرے کی طرف راغب ہو جاتیں ۔۔عموما یہ عرصہ 2 سے 3 سال تک ہو سکتا تھا۔۔ جیسے جیسے مرد کا دل بھر جاتا یا وہ کنگال ہو جاتا یہ دوسری جانب متوجہ ہو جاتیں۔۔۔ انہیں سیکس ورکر تو کسی صورت نہیں کہا جا سکتا تھا مگر یہ کسی کی بیوی بھی نہیں بنتی تھیں۔۔
آج جدید معاشرے میں اسے Courtesan کہا جاتا ہے۔ یا suger babe,یہ وہ خواتین ہیں جو کسی بھی ادارے سے منسلک ہوں مگر آپ کے ساتھ بغیر شادی رہیں گی ۔۔اور دل بھر جانے پر پھر سے نئے مرد کی تلاش اور رغبت۔۔
یہ سب کچھ صرف خواتین تک ہی محدود تھا۔۔ ایسے مرد غلام بھی رکھے جاتے جو آزاد خواتین خریدتی اور اپنی جنسی ضروریات کی تسکین حاصل کرتیں۔۔ مردوں کا یہ طبقہ بھی معاشرتی نگاہ میں رزیل ترین ہوتا ۔۔
قرآن مجید میں حضرت یوسف کے قصہ میں جو ذلیخا پر مصر کی خواتین کی طنز تھی وہ یہی تھی کہ ایک غلام میں ایسا کیا ہے کہ یہ خاتون دیوانہ ہو کر پیچھے پڑ گئی ہے۔۔ تبھی زلیخا نے ان سب کو دعوت پر بلوا کر حضرت یوسف علیہ السلام کا دیدار کرایا ۔۔ جس پر ان خواتین نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے۔۔ اور پورے شہر کی عیاش خواتین حضرت یوسف علیہ السلام کو حاصل کرنے کے درپے ہو گئیں ۔۔ جس کے نتیجے میں حضرت یوسف علیہ السلام نے 10 سال جیل میں گزار کر اپنی عزت کو بچایا۔۔ ورنہ یہ خواتین اپنے ساتھ رہنے والے مرد غلاموں کی ہر طرح دیکھ بھال کرتیں ۔۔ اور قوم لوط میں بھی خواتین کا یہ وطیرہ تھا کیونکہ ان کے مردوں کے مشاغل فرق تھے ۔۔ لہذا خواتین اپنے لئے ایسے غلاموں کا انتخاب کرتیں۔۔
آج کے اس دور میں جب میں کئی نوجوانوں سے ایسا سنتا ہوں کہ ان کا خرچہ فلاں آنٹی اٹھائے ہوئے ہے۔۔ تو مجھے اس بات پر شدید دکھ ہوتا ہے کہ بحثیت مرد و خواتین دنیاوی ضرورتوں اور ہوس کی وجہ سے ہم اس حد تک نیچے گر گئے ہیں کہ غلاموں سے بھی نچلے درجہ اور حیثیت کو قبول کر چکے ہیں۔
یاد رکھیں۔۔ اگر قرآن نے کمترین معیار ان لوگوں کا رکھا ہے جو یہ حرکات کر رہے ہیں ۔۔تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ چوری چھپے آشنائیاں کرنے والیاں اور اپنی عزت کو گلی محلے، ہوٹلوں ،پبلک لیٹرینوں میں لٹانے والیوں کو باندی اور لونڈی سے زیادہ مقام حاصل ہو گا۔۔ کبھی بھی نہیں جب تک یہ خود اپنی حالات نہ بدلیں۔۔
ترجمہ: بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا؛ جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالے۔۔ (الرعد)
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب