یہ اس وقت کی بات ہے جب مورخہ 4 اکتوبر 2013 کو حکومت پاکستان کے کیبنٹ سیکرٹریٹ کی طرف سے جاری کردہ ایک دفتری میمورنڈم جاری کیا گیا تھا جو کہ خاص طور پر کیپیٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن (سی ڈی اے) کے نصابی ترقی اور ٹیکسٹ بک پروڈکشن ونگ سے متعلق تھا۔ اس میمورنڈم میں پاکستان بھر میں نصابی کتب سمیت تعلیمی مواد میں مذہبی اصطلاحات کے لیے انگریزی اصطلاحات کے استعمال پر پابندی کی ہدایات جاری کی گئی تھی۔ لیکن اس دستاویز کا حوالہ 29 اگست 2013 کو اسلامی نظریاتی کونسل، اسلام آباد کی طرف سے جاری ہونے والے ایک مراسلے اور منسلکہ سفارشات کی روشنی میں کیا گیا تھا جس میں اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے یہ بھر پور سفارش کی گئی تھی کہ تعلیمی مواد میں مذہب سے متعلق انگریزی اصطلاحات کو ترک کرکے مخصوص عربی اور اردو اصطلاحات/الفاظ استعمال کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں۔ اس مراسلے میں ان الفاظ کا ایک مجموعہ درج کیا گیا تھا اور ان الفاظ کے ساتھ "غلط" سے "درست" اصطلاحات میں تجویز کردہ تبدیلیاں شامل تھیں۔ مثال کے طور پر یہ الفاظ "God" کے بجائے "الله"، "Prophet" کے لیے "نبی/ رسول"، اور "Mosque" کے لیے "مسجد" استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ اس میمورنڈم میں یہ ہدایات جاری کی گئی تھی کہ ان تجویز کردہ الفاظ اور اصطلاحات کو نصابی کتب کی نصاب سازی میں من و عن شامل کیا جائے۔ حکومت پاکستان اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر مبنی یہ دستاویز بنیادی طور پر تعلیمی مواد اور نصابی کتب میں مخصوص اسلامی اصطلاحات کے استعمال کی اہمیت پر زور دیتی ہے، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق اسلام کے تناظر میں صحیح مذہبی الفاظ کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے غیر اسلامی انگریزی اصطلاحات کو ترک کرکے تجویز کردہ اصطلاحات کو پورے ملک میں نافذ کیا جائے۔ لیکن ابھی تک نہ حکومتی ہدایات اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عمل کیا گیا ہے اور لوگ خصوصاً اخبارات و رسائل میں غیر مذہبی اور غیر اسلامی اصطلاحات ہی استعمال کیے جارہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مذہبی اصطلاحات کے انگریزی متبادل پر مکمل پابندی لگائی جائے اور 2013 کے حکومتی ہدایات اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر سختی سے عمل کروایا جائے۔
254