ایک طالب علم جو میرا عزیز اور ماہر نفسیات کے پاس زیر علاج ہے،اس کے ساتھ ہسپتال گیا، وہ اس کے معالج اور بیماری کی ہسٹری جانتے تھے، پوچھا کہ پڑھائی کیسی جارہی ہے،موصوف نے بتایا کہ جب تک اسلام آباد میں ایک جامعہ میں زیر تعلیم رہے تو بڑے سٹریس میں تھے، میرے سارے کلاس فیلوز بھی جامعہ کی پالیسی کی وجہ سے پریشان رہتے تھے، پرائیویٹ ہاسٹل کی اپنی مشکلات تھیں ،جب سے مادرعلمی بدلی ہے اور والدین کے ساتھ رہتا ہوں ،اب میری تعلیمی پراگریس بہت بہتر ہے۔
ڈاکٹرصاحب گویا ہوئے کہ ذہنی دبائو پر مبنی تعلیمی اور امتحانی نظام طلباو طالبات میں ڈیپریشن کی بھی ایک بڑی وجہ ہے،انٹری ٹیسٹ سے ان کے ان کے ذہنی مسائل میں اضافہ ہوا ہے،بیرون ممالک میں طلباء کی سہولت کے لئے تعلیمی نظام بڑا ہی لچکدارہے، زیر تعلیم طلباء و طالبات پر امتحان کی وجہ سے کوئی سٹریس نہیں ہوتا۔ یہاںبعض اساتذہ کرام بھی اس کا باعث ہیں، سندھ کی جامعہ اور میڈیکل کالج میں طالبات کا اپنی اپنی زندگی کا خاتمہ اس کی شہادت ہے۔ مگر سرکاری سطح پر نہ ہی ہائیر یجوکیشن کی طرف سے کوئی تحقیقی کمیشن بنایا گیا جو اس ضمن میں اعدادوشمار اکھٹے کرتا تاکہ ان اسباب کی روشنی میں مستقبل کی پیش بندی کی جاتی۔
باریش ڈاکٹر صاحب نے طالب علم سے پوچھا کوئی گرل فرینڈ بھی بنی ہے، نفسیاتی جائزہ کے لئے انھوں نے ایسا سوال داغ دیا۔ میری طرف دیکھا اور شرماتے ہو ئے کہا نہیں میرا مزاج ایسا نہیں ، مگر مخلوط تعلیمی اداروں میں یہ وبا تو عام ہے، معالج نے نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ ہر تعلق کی حدو د قیود مقرر ہیں، اس کا احترام لازم ہے۔وہ مجھ سے مخاطب ہوئے اور بولے میرے پاس ایسے بہت سے کیس آرہے ہیں، متاثرہ افراد ڈپریشن کے مریض بنتے جارہے ہیں، بالخصوص والدین بچیوں کے حوالہ سے خود بھی سٹریس کا شکار ہیں ہماری جامعات نے نو عمری میں مخلوط تعلیم کا ایسا دروازہ کھولا گیا ہے، اس سے اداروں کی مالی پوزیشن تو شائد مستحکم ہوئی ہو مگر اس کی پاداش میں بہت سی خرافات نے جنم لیا ہے، ڈاکٹر صاحب بولے، نوعمر بچے اور بچیاں آنے والے خطرات سے نابلد ہوتے ہیں،جلد ہی جذبات کی رو میں بہہ جاتے ہیں، پھر آج کل پارٹیوں کا نیا کلچر آباد ہے، سالگرہ منانا، تحفے تحائف کا تبادلہ اور سوشل میڈیا پر اپنے اسٹیٹس لگانا اب روایت بنتا جارہا ہے ایسی سرگرمیاںوالدین اور طالبات کی مشکلات میں اضافہ کا باعث بن رہی ہیں۔
نوجوان تعلقات میں رشتوں کا احترام نہیں پاتے نہ ہی اپنی حدود میں رہتے، جب پانی سر سے گذر جاتا ہے تو وہ ڈپریشن کے عارضہ میں مبتلا ہوتے ہیں، جامعات میں زیرتعلیم بہت سے نوجوان اپنی کلاس فیلوز کے ساتھ اگرچہ اچھا تعلق رکھتے ہیں ،مگر وہ اس رشتہ کو مقدس بندھن میں باندھنے میں لیت ولعل سے کام لیتے ہیں، جس سے لڑکی والے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، روزگار اور اچھے مستقبل کے نام پر وہ حیلوں بہانو ں سے وقت گذارتے رہتے ہیں،بعض اوقات حالات دونوں کی پہنچ سے دور ہو جاتے ہیں، وہ فرمانے لگے ہمارے دور میں شادیاں اتنی مہنگی نہیں ہوتی تھیں، اب والدین کے لئے بڑی پریشانی ہے۔
ڈرامہ جات میں بھی ایسا گلیمرائزکلچر دکھایا جارہا ہے کہ نسل نو اسکی دلدادہ نظر آتی ہے ، حقیقت پسندی سے دور یہ ڈرامے نسل نو کوخوابوں کی دنیا
کاشہزادہ اور شہزادی بنا دیتے ہیں،زمانہ طالب علمی کے دیکھے خواب جب ٹوٹتے ہیں تو بچے اور بچیاں اتنا سٹریس لیتے ہیں ڈپریشن کا عارضہ لاحق ہوجاتا ہے۔
پہلے زمانے میں پڑھے لکھے لڑکے ان پڑھ لڑکی سے شادی کر لیتے تھے، اس طرح پڑھی لکھی لڑکی ان پڑھ سے بیاہی جاتی تھی، دونوں ہنسی خوشی رہتے اور کامیاب ازدواجی زندگی بسرکرتے تھے،اس دور میں طلاق کے لفظ کو ہونٹوں پر لانا گالی تصور کیا جاتا تھا، معاشرہ میں اب طلاق کی شرح بہت بڑھ گئی ہے۔
ایک فرق شہری اور دیہاتی زندگی کا بھی ہے، وہ بچیاں جو اعلی تعلیم یافتہ ہیں، وہ دیہات میں شادی کی خواہاں اس لئے نہیں ہوتی کہ شہر کے مقابلہ میں روزگار کے مواقع کم ہیں، پھر پڑھ کر گھر میں بیٹھا نہیں جاسکتا، نصف آبادی اگر معاشی ترقی میں شریک نہ ہوتو سماج ترقی نہیں کرسکتا۔بعض خاندانوں میں بچیوں کی ملازمت پر قدغن ہوتی ہے، تعلیم یافتہ لڑکیاں اس پابندی کو قبول نہیں کرتیں، اور خانگی مسائل میں الجھ کر سٹریس لیتی ہیں۔
ایک مسئلہ کزن میرج کا بھی ہے، کہ شادی کے نتیجہ میں بچے نارمل پیدا نہیں ہوتے یہ تھیوری سینہ بہ سینہ چلی آرہی ہے،کیونکہ مغرب میں تو خاندانی نظام انتہائی کمزور ہے تو کیا مغربی ریسرچ قابل بھروسہ ہو سکتی ہے؟ اس میں کتنی حقیقت ہے کوئی نہیں جانتا، چند مثالوں کی بنیاد پر خاندانوں میں باہم شادیاں کم ہورہی ہیں ، قرآن حکیم نے کزن کے ساتھ شادی کی ترغیب دی ہے،اس لئے طب کے متعلقہ ماہرین اور علما ء کرام کو دلیل کے ساتھ اس ضمن میں راہنمائی کرنی چاہئے، بہت سے والدین اپنی قریبی فیملی میں رشتے کرنے خواہاں ہوتے ہیں، ایسے معاملات بھی ڈیپریشن کی وجہ بنتے ہیں اور سارا خاندان متاثر ہوتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا، نسل نو میں نفسیاتی مسائل کی بڑی وجہ معاشی ناہمواری بھی ہے، تعلیم یافتہ افراد کا بے روزگاری کے عذاب سے گذرنا سنگین اور توجہ طلب معاملہ ہے، والدین کی بے توجہی کی وجہ سے ایلیٹ کلاس کے بچے نشہ کی دلدل میںاتر جاتے ہیں وہ عام خاندانوں کی لڑکیوں کو سنہرے خواب دکھاتے ، مطلب نکل جانے پرآنکھیں پھیر لیتے ہیں، بدنامی کے ڈر سے راستہ سے ہٹا دیتے ہیں، متاثرہ بعض خواتین بھی ڈپریشن میں مبتلا ہو جاتی ہیں، اس قماش کے خاندانوں کے بچے اور بچیوں کومدر پدر آزادی ملتی ہے، اشرافیہ کی اولادیں بھی معاشی فکر سے آزاد ہوتی ہیں ، ذہنی تسکین کے لئے فیشن کے طور پر منشیات کا استعمال کرتی ہیں۔
سنگین جرم کا ارتکاب کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتیں ،ان کاذہن نفسیاتی مسائل کی آماجگاہ ہوتا ہے، اسلام آباد میں آزاد منش ایلیٹ کلاس کی لڑکی کی کربناک انداز میں امیر زادے کے ہاتھوں ہلاکت اسکی زندہ مثال ہے۔ڈاکٹر صاحب کا انتباہ تھا کہ اپنی اولاد کے معاملہ میں والدین کو کسی اجنبی پر کبھی بھی بھروسہ نہیں کرنا چاہئے۔
ذہنی اور جسمانی مسائل کا شکار یہ افراد مہنگے، طویل المیعاد علاج کی بدولت'' مایوسی کے سمندر ''میں غوطہ زن ہیں، محتاط اندازے کے مطابق یہ تعداد 40 فیصد ہے، انھیں اس کرب سے نجات دلانے کے لئے ریاست کم از کم اپنے حصہ کا کام تو ترجیحی بنیادوں پر کرے۔