اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ میں گزشتہ 25 روز کے اندر 7 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ 20ہزار سے زائد زخمی ہیں لیکن زخمیوں کے علاج معالجے کا کوئی انتظام نہیں ہے انہیں کوئی سہولت نہیں مل رہی۔ اس وقت فلسطینی انتہائی تکلیف دہ صورتحال سے گزر رہے ہیں خاص طور پر غزہ کے رہائشیوں پر گزشتہ 25 روز سے قیامت ٹوٹی ہوئی ہے۔ ان کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ بس بھوک ہے بیماری ہے ، ان کے پاس کراہتے ہوئے زخمی ہیں اور اوپر سے اسرائیلی بمباری بھی جاری ہے۔ انہیں رہائش میسر نہیں ہے ، کھانے پینے کی اشیاء کی شدید قلت ہو چکی ہے ، اسرائیل نے بارڈر بند کر کے بیرونی امداد بھی روک رکھی ہے ، جس کی وجہ سے غزہ کے رہائشیوں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ عالمی برادری اگر امداد دینا بھی چاہے تو اس کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ ہر روز اسرائیلی بمباری سے سینکڑوں فلسطینی شہید ہو رہے ہیں ایک ایک دن میں چار پانچ یا چھ سو افراد کی شہادتیں ہو رہی ہیں جبکہ ہزاروں کی تعداد میں زخمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری طرف دیکھیں تو ہمارے مسلم حکمران محض بیان بازیوں پر گزارا کیے ہوئے ہیں ، انہیں فلسطینیوں پر ذرا برابر ترس نہیں آ رہا ۔ اپنے اپنے محلات میں بیٹھ کر بیان داغتے ہیں اور خاموشی سے عیاشیاں کرتے ہیں اور اقتدار کے مزے لوٹتے ہیں لیکن فلسطینیوں کی ابھی تک کسی قسم کی انہوں نے مدد نہیں کی ۔ عالم کفر ایک ہو چکا ہے فرانس ، برطانیہ ، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک سب اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں اور ڈنکے کی چوٹ پر اسرائیل کا ساتھ دے رہے ہیں ۔ وہ اسرائیلی مظالم کو دیکھ بھی رہے ہیں ، روزانہ کی بنیاد پر اسرائیل کے طرف سے سینکڑوں فلسطینی شہریوں کو شہید کیا جا رہا ہے اس سے بھی وہ پوری طرح باخبر ہیں اس کے باوجود وہ انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ اسرائیل کا ساتھ دے رہے ہیں لیکن ہم مظلوم لوگوں کا بھی ساتھ دیتے ہوئے شرما رہے ہیں وہ اسلحہ تک اسرائیل کو فراہم کر رہے ہیں اور ہم کھانے پینے اور بنیادی ضرورت کی اشیاء بھی فلسطینیوں کو نہیں پہنچا رہے۔ ہمارے لیے انتہائی شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ہمارے سامنے ہمارے بھائیوں کو اتنی بڑی تعداد میں روزانہ شہید کیا جا رہا ہے اور ہم محض احتجاج اور بیانات داغنے پر گزارا کر رہے ہیں۔ حالانکہ یہ سب کو معلوم بھی ہے ، تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کبھی بھی بیانات دینے یا مذمتیں اور احتجاج کرنے سے جنگ ختم نہیں ہوئی یا مظلوموں کو کبھی انصاف نہیں ملا ۔ جو ظالم ہوتے ہیں وہ ظالم ہوتے ہیں ان کا علاج بھی وہی ہوتا ہے جس طرح سے وہ ظلم کر رہے ہیں اگر وہ فلسطینیوں پر بمباری کر رہے ہیں تو اس کا علاج صرف بمباری ہی ہے نہ کہ مذمت اور زبانی احتجاج ۔ کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ ایک طرف سے فوج آ کر بمباری کر رہی ہو لوگ مر رہے ہوں اور اس کے مد مقابل مذمتوں پر گزارا کر رہے ہوں ۔ اس وقت محض فلسطینی ہی نہیں بلکہ تمام مسلمان اسرائیل کے مد مقابل ہیں اور مسلمانوں پر جہاد فرض ہو چکا ہے جس سے روگردانی نہایت بھانک نتائج برآمد ہوں گے ۔ مفتیان کرام کا فتوی ہے کہ جس شہر یا علاقے پر کفار نے حملہ کر دیا وہاں کے مسلمان ان کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہیں تو مسلمانوں پر جہاد فرض کفایہ ہے لیکن اگر وہ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں تو دوسرے علاقوں کے مسلمانوں پر جہاد کرنا فرض ہو جاتا ہے اگر دوسرے متصل علاقے کے مسلمان ان کا مقابلہ کر سکتے ہیں تو جہاد دیگر علاقوں کے مسلمانوں کے لیے فرض کفایہ رہے گا لیکن اگر وہ بھی مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی ہیں تو دیگر علاقوں کے مسلمانوں پر جہاد فرض ہو جائے گا ۔ آج فلسطین کی صورتحال یہ ہے کہ وہاں کے مسلمان اسرائیل ، امریکہ اور یورپی ممالک کے گٹھ جوڑ کا مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی ہیں اس لیے امت مسلمہ پر اس وقت جہاد فرض ہو چکا ہے اور ضروری ہے کہ وہ جائیں اور فلسطینیوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں یا کم از کم انہیں اسلحہ فراہم کر کے ان کی مدد کریں تاکہ وہ کفار کے ساتھ برابری کی سطح پر مقابلہ کر سکیں۔ حماس کے پاس افرادی قوت تو کافی حد تک ہے لیکن ان کے پاس اسلحے اور جدید ٹیکنالوجی کی شدید قلت ہے ان کے پاس راکٹ وغیرہ تو ہیں لیکن وہ اسرائیل اور امریکہ کی جدید ٹیکنالوجی کا مقابلہ کرنے کے لیے انتہائی ناکافی ہیں۔ دفاعی لحاظ سے طاقتور اسلامی ممالک کو تو یہ چاہیے کہ وہ براہ راست اپنی افواج فلسطینیوں کی مدد کے لیے بھیجیں جو جہاد فلسطین میں حصہ لے کر اسرائیل کے دانت کھٹے کر دیںاور القدس کی حفاظت کریں لیکن ہم جیسے مسلمان جو جہاد کے نام سے خوف زدہ ہو جاتے ہیں کم از کم مجاہدین کو اسلحہ اور ٹیکنالوجی تو فراہم کریں تاکہ ہمارا بھی کسی طرح اس جہاد میں حصہ ہو جائے اور مجاہدین کفار کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کرنے اور انہیں شکست دینے کے قابل ہو جائیں۔
232