ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی (ورلڈ ریکارڈ ہولڈر) rachitrali@gmail.com گزشتہ دنوں کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل حسن اظہر حیات نے چترال کا دورہ کیا اور امن جرگے میں شرکت کی تاکہ خطے میں امن و امان اورداخلی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس موقع پر کور کمانڈر پشاور نے کہا کہ چترال کی محب وطن عوام نے پروپیگنڈا ناکام بنادیا ہے، چترال کے عوام کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ وادی چترال پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے خوبصورت علاقوں میں سے ایک سیاحتی مقام ہے، حالیہ دنوں میں چترال اور کالاش کے عوام نے دہشت گردی اور عدم استحکام سے پیدا ہونے والے چیلنجوں سے محفوظ ہونے کے لیے ایک جرگے کا اہتمام کیا جو کہ چترال کے پرامن ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس خطے کو ماضی میں بھی روس کے دور سے ہی سیکورٹی کے خطرات کا سامنا رہا ہے جس نے اس کے شہریوں کی زندگیوں کو درہم برہم کر دیا تھا۔ ان دنوں حکومت اور فوج چترالی عوام سے مل کر چترال میں امن اور ہم آہنگی کی بحالی کے لیے انتھک محنت کر رہے ہیں اور علاقائی استحکام کے وسیع تناظر میں اس کی سٹریٹجک اہمیت کو تسلیم کر رہے ہیں۔ اس صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے کور کمانڈر پشاور کا چترال کا دورہ اہمیت کا حامل ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل حسن اظہر حیات کے دورہ چترال میں مختلف اسٹیک ہولڈرز بشمول ضلعی انتظامیہ، شہریوں اور شہداء کے اہل خانہ کے ساتھ ملاقات کرکے چترال کے امن کو برقرار رکھنے کے لیے اہم اقدامات پر جرگے میں بات کی گئی۔ زمینی حقائق کو سمجھنے اور مقامی کمیونٹیز کے خدشات کو دور کرنے کے لیے اس طرح کی بات چیت اور امن جرگہ انتہائی ضروری تھا اس صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے چترال میں امن جرگہ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس امن جرگے میں چترال کی سیکیورٹی صورتحال کا مکمل جائزہ لیا گیا، کور کمانڈر پشاور کے دورہ چترال میں امن جرگہ کے شرکاء نے سیکیورٹی کی صورتحال پر گہرائی سے بات چیت کی۔ اس طرح کے امن جرگے چترال کے امن اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ اس جرگے میں حکومت، فوج اور چترالی عوام نے ''امن'' کو ہر صورت میں برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا، بریفنگ کے دوران اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ امن اور ہم آہنگی کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا۔ امن میں خلل ڈالنے یا ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہ عزم چترال کے عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے حکومت اور فوج کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل حسن اظہر حیات نے شہداء کے اہلخانہ سے ملاقات میں ان کے صبر اور جذبے کو سراہا۔ اس جرگے میں چترالی کمیونٹی کا کردار بھی امن کے حق میں کھل کر سامنے آگیا، اس امن جرگے نے چترال کے لوگوں کی امن پسندی اور حب الوطنی کو دنیا کے سامنے اچھے تشخص کے ساتھ پیش کیا۔ امن کے قیام کے لیے چترالیوں اور کالاش قبائل کی غیر متزلزل وابستگی اور انتشار پھیلانے والوں کو مسترد کرنا قابل ستائش اقدام کے طور پر سامنے آیا۔ چترال میں سرحد پار سے دہشت گردی سے نمٹنے اور خطے ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے مندرجہ ذیل تجاویزپر سختی سے عمل کیا جائے:- چترال اور کالاش میں امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے میں مقامی چترالی اور کالاش کمیونٹی کی فعال شرکت کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ یہ کمیونٹی پولیسنگ کے اقدامات، بیداری مہم، اور سیکورٹی فورسز اور عام شہریوں کے درمیان تعاون کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ سرکاری اور خفیہ مقامی سطح پر انٹیلی جنس شیئرنگ فروع دیا جائے، چترالی اور کالاش کے پرعزم نوجوانوں کو اعتماد میں لے کر خفیہ انٹیلی جنس شیئرنگ کے طریقہ کار کو مضبوط بنایا جائے تاکہ خطرات کی فوری شناخت کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خدشات کو بے اثر کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں سیکورٹی ایجنسیوں اور مقامی کمیونٹیز کے درمیان تعاون بہت ضروری ہے۔ انسداد دہشت گردی کی تعلیم کو عام کیا جائے، ایسے تعلیمی پروگراموں میں سرمایہ کاری کیا جائے جو رواداری، امن اور افہام و تفہیم کو فروغ دیتے ہوں۔ اس طرح کے پروگرامز افراد کی بنیاد پرستی کا مقابلہ کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے اقتصادی ترقی بھی بہت ضروری ہے، چترال اور کالاش میں اقتصادی ترقی کو فروغ دے کر دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کو تلاش کیا جاسکتا ہے۔ چترالیوں اور کالاش کے نوجوانوں کو ملازمت کے مواقع فراہم کرکے اوران کے حالات زندگی کو بہتر بناکر افراد کو انتہا پسندانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے روکا جاسکتا ہے۔ چترال اور کالاش سے تعلق رکھنے والے دہشت گردی اور شہادت سے متاثرہ خاندانوں کو نفسیاتی مدد فراہم کیا جائے اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اس طرح کے اقدامات سے کمیونٹی کے جذباتی زخموں کو مندمل کرنے اور اتحاد کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔ کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل حسن اظہر حیات کا چترال کا دورہ امن، استحکام اور علاقے کے مکینوں کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت اور فوج کے عزم کو واضح کرتا ہے۔ چترال کے سیکورٹی چیلنجز کا تاریخی تناظر ایسے اقدامات کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ ایک پرامن پاکستانی اور چترالی ہونے کے ناطے میری اعلیٰ حکام سے گزارش ہے ہر ششماہی کو چترال اور کالاش کے عوام کے ساتھ مل کرسیکورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے، چترالی اور کالاش دنونو کمیونٹیز کو اعتماد میں لے پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کر سکتا ہے اور چترال میں ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے ایسا کرنے سے زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو ان وادیوں کی طرف راغب کرواکر خاطر خواہ فنڈ جمع کیا جاسکتا ہے۔ ایسی حکمت عملیوں پر عمل درآمد کرنا انتہائی ضروری ہے کہ جن میں دونوں کمیونٹیز کی شمولیت ہواور انٹیلی جنس کا اشتراک، انسداد دہشت گردی کی تعلیم، اقتصادی ترقی، سیاحت کا فروع اور نفسیاتی مدد خطے میں پائیدار امن میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ چترال کے عوام کا پاک فوج کے شانہ بشانہ اپنے وطن کی حفاظت کا عزم امن اور اتحاد کے لیے ان کی غیر متزلزل لگن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
116