”کم بخت“ حسین حقانی“ 196

”کم بخت“ حسین حقانی“

کبھی مورخین نے ”تردیدات“ کی تواریخ مرتب کی تو سرفہرست عمران خان کی تردیدات ہوں گی اور ان میں بھی سرفرست وہ تردید ہو گی جو گزشتہ روز انہوں نے اپنے ہی ”لائیو انٹرویو“ میں کہے گئے اپنے ہی الفاظ کی کی ہے۔ انٹرویو میں انہوں نے فرمایا کہ کے پی اور پنجاب کی اسمبلیاں انہوں نے جنرل باجوہ کے کہنے پر توڑیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور صدر علوی آرمی چیف (تب) سے ملنے گئے تو انہوں نے کہا کہ اسمبلیاں توڑ دو توا نہیں الیکشن مل جائیں گے۔ 

یہ ملاقات نومبر کی ابتدا میں ہوئی، اسمبلیاں انہوں نے جنوری میں یعنی دو ماہ بعد توڑیں۔ غالباً اس دوران غور و خوض کرتے رہے کہ باجوہ کا حکم مانوں کہ نہ مانوں، کوئی استخارہ اور مراقبہ بھی کیا ہو گا، گھڑے سے فال بھی نکالی ہو گی، کسی بشارت کا انتظار بھی کیا ہو گا، آخر فیصلہ ”ہاں“ میں ہوا اور اسمبلیاں توڑ دیں۔ پی ٹی آئی کے حامی چینل پر انٹرویو نشر ہوتے ہی کھلبلی مچ گئی، تمام دوسرے چینلز نے یہ حصہ چلایا اور بار بار چلایا۔ سوشل میڈیا پر تو اس کلپ کو ٹویٹ اور ری ٹویٹ کرنے کی دوڑ لگ گئی۔ لوگوں کو خان صاحب کے یہ الفاظ گویا حفظ ہو گئے اور پھر کچھ ہی گھنٹوں بعد پی ٹی آئی آفیشل کے اکاﺅنٹس سے تردید آ گئی کہ خان صاحب نے یہ بات نہیں کی۔ لوگ سوچ میں پڑ گئے کہ پھر وہ کون تھا جو پی ٹی آئی کے چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ فقرے کہہ رہا تھا؟۔ کیا وہ کوئی خان صاحب کا ہم شکل یا ڈمی تھا جس نے انٹرویو نہیں دیا تھا؟ لیکن تردید فقرے کی کی گئی، تردید میں یہ نہیں کہا گیا کہ وہ خان صاحب نہیں تھے، کوئی اور تھا۔ 

پی ٹی آئی آفیشل کا مطلب خود عمران خان لیا جاتا ہے۔ گویا عمران خان نے عمران خان کے دئیے گئے انٹرویو کی تردید کر دی۔ یعنی عمران خان نے ہی عمران خان کی تردید کر دی۔ حیرت کی بات ہے، کسی نے اس تردید کو اہمیت نہیں دی اور بار بار عمران خان کا یہ فقرہ چلاتے رہے اور اگلے د ن اخبارت نے بھی لفظ بہ لفظ انہی فقروں کی شہ سرخیاں بنائیں۔ 

_________

یہ ملاقات جب ہوئی، تب عمران خان جنرل باجوہ کو میر جعفر، جانور ، غدّار کے القابات دیا کرتے تھے۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے جنرل باجوہ کے مشورے پر فوری عمل اسی لئے نہیں کیا کہ ایک غدّار اور میر جعفر کے مشورے کو مسترد ہی کیا جانا چاہیے۔ بعد میں انہوں نے باجوہ صاحب کو دئیے گئے یہ سارے القابات اس وقت واپس لے لئے جب انہیں پتہ چلا کہ ان کی حکومت گرانے میں باجوہ کا کوئی ہاتھ نہیں تھا، وہ تو حسین حقانی اور اور محسن نقوی نے گرائی تھی۔ یوں باجوہ میر جعفر اور غدّار سے دوبارہ محب وطن اور معصوم قرار پائے۔ تب خان صاحب نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک معصوم اور محب وطن کے مشورے پر عمل کرنا بھی دانشمندی ہے۔ چنانچہ جنوری میں انہوں نے اس دانش مندی کا ارتکاب کر ڈالا۔ امریکی سائفر کا قصہ تو پہلے ہی پاک ہو چکا تھا۔ 

_________

امریکہ کو سازش کا ذمہ دار قرار دینے کا سلسلہ اس سے پہلے کئی ماہ تک چلتا رہا، اسے یہ طعنہ بھی سننے کو ملا کہ ہم کیا تمہارے غلام ہیں۔ امریکی غلامی سے نجات کے لیے حقیقی آزادی کا جہاد بھی شروع کیا گیا۔ اس جہاد کو کامیاب کرانے کے لیے خان صاحب نے امر بالمعروف کا منصب بھی ازخود نوٹس کے تحت سنبھال لیا اور کارکنوں کو حکم دیا کہ جس طرح اللہ نے اپنے پیغمبر لوگوں کی طرف بھیجے تھے، ویسے ہی تم بھی میرا پیغام لے کر گھر گھر پہنچ جاﺅ اور انہیں بتاﺅ کہ قبر میں پہلا سوال ہی یہی ہو گا کہ جب عمران خان کی صورت میں ایک صاحب امر بالمعروف تمہیں امریکہ سے حقیقی آزادی دلانے کے لیے نکلا تھا تو تم نے اس کا ساتھ کیوں نہیں دیا (کیوں نہیں دیا سے یہ مطلب ازخود نکل آتا ہے کہ خان صاحب کو پیشگی یہ ”بشارت“ ہو چکی تھی کہ لوگ ان کا ساتھ نہیں دیںگے۔ بہرحال، اس مطلب کو نظرانداز کر دیا جانا چاہیے)۔ 

ازاں بعد، خان صاحب کو پتہ چلا کہ امریکہ تو ”معصوم“ ہے، سازش حسین حقانی اور محسن نقوی نے کی۔ جس کے بعد حقیقی آزادی کا جہاد موقوف ہو گیا اور خان صاحب نے صاحب امر بالمعروف کے منصب سے بھی ازخود نوٹس کے تحت دستبرداری اختیار کر لی۔ اب معاملہ اس فقرے کے گرد گھوم رہا ہے کہ ”ہم نے اسمبلیاں توڑ دیں، اب ہمیں الیکشن لے کر دو“ ساتھ ہی ”قبر“ میں پہلے سوال والا حصہ بھی شاید غیر اعلانیہ طور پر واپس لے لیا گیا ہے۔ 

_________

خان صاحب کی تردید سے بڑی کھلبلی اس آڈیو لیگ نے مچائی جو چیف جسٹس کی خوش دامن اور ان کی ایک سہیلی کی گفتگو پر مبنی تھی۔ گفتگو میں عدالتی فیصلوں کے حوالے سے ججوں کے ساتھ ہونے والی مفید بات چیت کے علاوہ اس بات پر بھی شدید مایوسی ظاہر کی گئی کہ وہ ”کم بخت“ مارشل لا لگانے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔ 

مارشل لا لگانے کی حسرت کی داد اپنی جگہ لیکن یہ سوال لوگ کر رہے ہیں کہ ”کم بخت“ سے کیا مراد ہے۔ یعنی کون مراد ہے۔ 

بادی النظر میں کم بخت حسین حقانی کو کہا گیا ہے اور اسے کم بخت اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ مارشل لا کیوں نہیں لگا رہا۔ 

اب آپ یہ مت پوچھئے کہ حسین حقانی کس حیثیت سے مارشل لا لگا سکتا ہے۔ ارے بھئی، جو امریکہ میں بیٹھ کر ”رجیم چینج“ کر سکتا ہے۔ خان صاحب کی ایک پیج والی حکومت ختم کر سکتا ہے، وہ امریکہ میں بیٹھ کر مارشل لا کیوں نہیں لگوا سکتا۔ 

امریکہ میں مقیم محب وطن پاکستانیوں کو چاہیے کہ وہ حسین حقانی کے گھر کے باہر دھرنا دیں اور تب تک دھرنا دئیے بیٹھے رہیں جب تک ”کم بخت“ حسین حقانی مارشل لا لگانے کی تحریری یقین دہانی نہ کرا دے۔ خبردار ، زبانی یقین دہانی پر اعتبار نہ کرنا، کم بخت بعد میں مکر جائے گا۔ 

بشکریہ نواےَ وقت