ایک مصور تھا جو مجسمے بنا کر بیچتا تھا ، وہ ہر مجسمے کا کوئی نام رکھتا اور بازار میں بچتا تھا ایک دن اس نے ایک مجسمہ بنایا اور اس کا نام حاکم رکھا اور بازار میں کھڑے ھو کر آواز لگانا شروع کر دی حاکم دس ڈالر کا ، حاکم دس ڈالر کا ، ایک انٹیلیجنس کے آفیسر نے یہ آواز سنی اور اس کے پاس چلا گیا ، اس سے کہا یہ کیا بیچ رہے ہوئے،؟ مصور نے کہا ، حاکم ھے ، یہ حاکم مجسمہ ھے ، اور دس ڈالر کا ھے ، آفیسر نے کہا اتنا کم قیمت، مصور نے کہا میں زیادہ منافع نہیں لیتا بس مزدوری اور چیزوں کے پیسے ، آفیسر نے کہا کس کا بنایا ھے ، مصور نے کہا پانی ، مٹی اور کچرے کا بنایا ھے ، کچرے کا نام سننا تھا کہ آفیسر نے اسے گھسیٹا ، خوب تشدد کیا خوب، پٹائی کی ، اور کہا کہ آئندہ تم اس طرح کی کوئی چیز نہیں بیچو گے ، اس نے کہا ٹھیک ہے میں آئیندہ حاکم مجسمہ نہیں بناؤں گا اور نہ ھی بیچوں گا ، دوسرے دن مصور ایک اور مجسمہ بنا کر لایا اس کا نام شہری رکھ دیا آواز لگائی ، شہری کا مجسمہ لے لو ، شہری کا مجسمہ پانچ ڈالر کا ، آفیسر پھر اس کے پاس گیا اور پوچھا یہ اتنا سستا کیوں بیچ رہے ھو ، اور یہ کس کا بنایا ھے ، اس نے کہا یہ صرف پانی اور مٹی کا بنایا ھے ، اس میں کچرا نہیں ڈالا ، گویا اصل مسئلہ کچرے کا ھے ، آپ دیکھیں کوڑا کرکٹ ظاہر کا ھو یا باطن کا تعفن لازمی پھیلاتا ہے ، ظاہر کا ھو تب بھی اسے آدمیوں کے ھاتھ لگے ھوتے ہیں اور اندر کا ھو تب بھی وہ آدمیوں کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے ، اس میں سب سے زیادہ کچرا پھیلانے کے عادی وہ لوگ ھوتے ہیں جو ذھنی عیاشی اور غلو و تکبر میں مبتلا ھوتے ھیں ، ان کا ابلاغ زیادہ ھوتا ھے اس لئے ان کا پھیلایا گیا ، کچرا اور تعفن پورے معاشرے کو جلد لپیٹ میں لے لیتا ہے ، برصغیر پاک و ہند کا یہ سب سے بڑا المیہ ہے کہ یہاں لارڈ میکالے سے لے کر آج تک ذھین میں غلو ، مبالغہ اور تڑی بھرنے کے لیے سب نے حصہ ڈالا ، علماء و سیاسی زعما نے اسے ھاتھوں ھاتھ لیا اور پوری نسلوں پر مبالغہ ، تڑی ، انگریزی کا رعب ، سیاست میں، عمل میں ، علم میں فکر کی بجائے دھمکیوں اور کچرے سے ہی کام لیا ، ھندوستان نے اس سے سیکھا اور آج وہ ھم سے آگے ہے ، اگرچیکہ انتہا پسندی وہاں بھی عروج پر ھے ، تاہم ھندوؤں کی اکثریت کی وجہ سے ترقی میں زیادہ رکاوٹ نہیں آئی ، ھم مسلمان ھو کر بھی اس کچرا کنڈی سے نہیں نکل سکے ، صرف ھندو ، مسلم سے ھٹ کر دیکھیں تو بطور انسان ھم کسی طور ذھنی غلامی ، تفاخر اور کچرا اگلنے ، کچرا پھینکنے اور کچرا فکری سے آزاد نہیں ھوئے ، حکمرانوں کا ایک خاص کلٹ بن گیا ، جو نرگسیت میں اتنے اندھے ھو گئے کہ اس طبقے نے معاشرے کے جاہل ، عالم اور دانش ور کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ،میں کسی خاص بندے کی بات ہر گز نہیں کر رہا ، آپ خود دیکھیں کبھی ھم بیت المقدس میں ، کبھی دہلی کے لال قلعے پر ، اور کبھی کابل میں پرچم لہرا رہے ھوتے ہیں ، کل ھی وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ ھم مودی کو دہلی میں گھس کر ماریں گے ، کیا ایسے جذبات، مبالغے سے قوم کا کوئی فائیدہ ھو گا ، یہاں پورے ملک کی سیاست کو دیکھ لیں آج ہی معاشی ماہرین نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت نے معاشی بحران سے نکلنے کا کوئی ایجنڈا نہیں دیا ، تو دوسری طرف سیاست دیکھیں کچرا کنڈی بنی ھوئی ھے ، جو کچھ جس کے ذھین میں آتا ہے ، گاؤں گاؤں ، شہر شہر پھیلاتا جاتا ہے ، اور اس کے تعفن سے زندگی مشکل تر ھوتی جاتی ہے، کوئی نرگسیت، کوئی فسطائیت ، اور کوئی انانیت کے بت پال کر بیٹھا ہے ، خاندانوں میں ، بھائیوں میں اور گھر میں یہی بت موجود ہیں اور جب ان کے پجاری کچھ کہتے ہیں تو وہ سب کچرا ھوتا ھے جو ہر جگہ تعفن پھیلاتا ہے ، انفرادی اور اجتماعی طور پر اس کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے ، تاکہ کوئی اپنے آپ سے رجوع کر لے ، پھر بھی اپنا محاسبہ کر سکے گا ، جس کے اثرات دیر پا ہیں ، معاشرے کو حقیقت پسندی ، عمل اور حکمت کی طرف لے جائیں ،
309