ایک دن میرے پیارے دوست بریگیڈیئر سلیم قادر کہنے لگے کہ’’کاش میں راوین ہوتا تو آپ میرا نام بھی اپنے کالم میں لکھتے مگر میں چونکہ ملٹری کالج جہلم کا پڑھا ہوا ہوں لہٰذا آپ میرا نام نہیں لکھیں گے‘‘۔ چلو آج بریگیڈیئر سلیم قادر کا شکوہ ختم ہوا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ میں نے پچھلا کالم بعنوان’’گورنمنٹ کالج کی محبت میں‘‘لکھا تھا، اس پر مجھے دنیا بھر سے تبصرے اور پیغامات موصول ہوئے۔ ہمارے ملتان کے راوین دوست یاور بخاری المعروف چاندی شاہ کا تفصیلی پیغام ملا۔ شاہ جی فرماتے ہیں کہ’’سارا کالم ایک طرف ، نام کے حوالے سے جی سی والی تجویز عمدہ ہے، ہم اس کی مکمل حمایت کرتے ہیں‘‘۔ چاندی شاہ انہی دنوں میں گورنمنٹ کالج لاہور کے طالب علم تھے جن دنوں دوسرے ملتانی کرکٹر انضمام الحق بھی گورنمنٹ کالج لاہور کے طالب علم تھے۔ اس ادارے کے موجودہ سربراہ ڈاکٹر اصغر زیدی کا آبائی وطن بھی ملتان ہے، اسی لئے آج مجھے ملتان کے حوالے سے ایک شعر بہت یاد آرہا ہے کہ
لاکھ میٹھے ہوں تیرے شہر کے چشمے لیکن
ہم تیرے شہر کو ملتان نہیں کہہ سکتے
گورنمنٹ کالج لاہور کی ہونہار سابقہ طالبہ کنول خان نے تو کالم کی پسندیدگی کے علاوہ اسے تشہیری مہم کا حصہ بھی بنایا۔ کنول خان گورنمنٹ کالج لاہور کے حوالے سے بڑی جذباتی وابستگی رکھتی ہیں، انہوں نے اپنی عظیم درسگاہ کے نام سے سوشل میڈیا گروپ بنا رکھا ہے۔ مجھ خاکسار نے یہ تجویز کیا دی کہ گورنمنٹ کالج لاہور کا نام جی سی یو کی بجائے گورنمنٹ کالج لاہور ہی ہونا چاہئے، اس پر گورنمنٹ کالج لاہور سے محبت کرنے والوں نے اس تجویز کے حوالے سے کئی منصوبے پیش کئے۔ محترمہ خالدہ الیاس، فائقہ عزیز، کرم ا لہٰی بندیال اور عشرت قیوم نے مادر ِعلمی سے والہانہ عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا کہ حکومت ہم پر مہربانی کرے اور ہمارے کالج کا نام ہمیں واپس دے دے۔ اسٹوڈنٹ یونین کے جو آخری الیکشن ہوئے تھے اس میں اسد ایوب نیازی کا نام بہت چمکا تھا۔ اسد ایوب نیازی کا تبصرہ ذرا دلچسپ ہے، وہ لکھتے ہیں کہ’’گورنمنٹ کالج لاہور کے حوالے سے یہ بہت عمدہ کالم ہے، ہم اولڈ راوینز کی کاوشوں کو سراہتے ہیں۔ مہربانی فرما کر گورنمنٹ کالج کا اصل نام اور مقام بحال کرنے کی کوشش کی جائے۔ اگر کسی کو زیادہ مسئلہ ہے تو نیو کیمپس کا نام راوینز یونیورسٹی رکھ دیا جائے مگر پرانی عمارت کو گورنمنٹ کالج لاہور ہی رہنے دیا جائے۔ راوینز کے دل گورنمنٹ کالج لاہور کے نام سے جڑے ہوئے ہیں‘‘۔ ایک راوین ظہیر محمود کا تبصرہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں، وہ لکھتے ہیں کہ’’اور تو اور آج کل کی پود جنہوں نے دیکھا ہی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور ہے، وہ بھی اسے گورنمنٹ کالج لاہور ہی کہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کا وہی نام بحال کیا جائے گو کہ گورنمنٹ کالج پہ بہت سے احباب لکھتے ہیں لیکن جیسا جامع مگر مختصر آپ نے لکھ دیا یہ ایک تاریخی کالم بن گیا‘‘۔ بے شمار دوستوں کا نام لکھنا ممکن نہیں لیکن ملک مبشر خان، راجہ عظیم، آصف سہیل اور حامد بیلا کے تبصرے دلچسپ ہیں۔ میاں سہیل جیوے کا اپنے تبصرے میں لکھتے ہیں کہ’’گورنمنٹ کالج لاہور ایشیا کا فخر ہے۔ کئی سال پہلے مجھے راوین کا ٹائٹل ملا تھا اور بطور راوین مجھے اس کالج نے ڈگریوں سے زیادہ ایک اور بات دی جو کہ کالج کا ماٹو بھی ہے یعنی Courage to know ‘‘۔ ڈاکٹر حلیمہ آفریدی کے تبصرے سے مجھے شہریار آفریدی یاد آگئے۔ شہریار آفریدی گورنمنٹ کالج لاہور میںمیرے جونیئرتھے مگر ان دنوں پابند سلاسل ہیں، قید و بند کی صعوبتوں کے دوران پہلے ان کا بھائی فوت ہوا اور پھر بہن فوت ہو گئی مگر ہمارے’’مہربان‘‘ حکمرانوںنے شہریار آفریدی کو دونوں جنازوں میں شریک نہیں ہونے دیا۔ لوگ اس کی بہادری کا تذکرہ کرتے ہیں۔ مجھے ایک اور راوین کی بہادری یاد آتی ہے۔ ضیاء الحق کے زمانے میں عظیم راوین اختر وقار عظیم سرکاری ٹیلی ویژن کے جی ایم تھے، ٹی وی کی بلڈنگ کے ساتھ جڑے ہوئے ہوٹل میں فنکشن کی تاخیر کے باعث فیض احمد فیض اور احمد فراز دونوں اختر وقار عظیم کے دفتر میں آگئے۔ اس وقت گزاری میں گپ شپ کے علاوہ ان کی تواضع بھی کی گئی۔ اس سے اگلے دن اختر وقار عظیم کو شوکاز نوٹس موصول ہوا کہ آپ کے پاس یہ دونوں کیا کرنے آئے تھے۔ نوٹس موصول ہونے کے بعد اختر وقار عظیم نے پہلے سوچا کہ اس کا جواب نہ دیا جائے پھر سوچا اس کا جواب دینا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے شوکاز نوٹس کے جواب میں لکھا’’فیض احمد فیض اور احمد فراز کا کسی سرکاری افسر کے دفتر میں آنا اس کے لئے باعث فخر ہے سو میرے لئے ان دونوں شخصیات کی آمد کسی اعزاز سے کم نہیں‘‘۔
سچی بات تو یہ ہے ،اس بڑے پیمانے پر رسپانس نے مجھے حیران کر دیا ، سب راوینز کی خواہش ہے کہ اس عظیم درسگاہ کا نام گورنمنٹ کالج لاہور رکھا جائے۔ صاحبانِ اختیار میں بہت سے راوینز ہیں،ان سے درخواست ہے کہ وہ اپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے گورنمنٹ کالج کا نام بحال کروانے کی پوری کوشش کریں۔ بنام سرکار آج کا یہی مقدمہ ہے۔بقول ڈاکٹر سعادت سعید
صندلیں زمیں اپنی مرمریں مکاں اپنا
کون مرنا چاہے گا چھوڑ کر جہاں اپنا