(22)عزم و ہمت:
جسمانی لحاظ سے سیدنا ابو بکر صدیق ؓ دیکھنے میں بہت کمزور معلوم ہوتے تھے۔ منحنی جسم، کمر میں قدرے خم، چہرے کی ہڈیاں نمایاں، پنڈلیوں اور رانوں پر بہت کم گوشت تھا۔ لیکن آپ کے سینے میں فولاد کی طرح دل تھا، قوت ایمانی نے آپ کو عرب کا مضبوط ترین انسان بنا دیا تھا۔ آپ بے مثال عزم و ہمت کے مالک تھے، جس کی بلندی کے سامنے سر بفلک پہاڑوں کی بلندی منہ چھپاتی تھی۔ یہ آپ ؓ کی ہمت بلند ہی تھی، کہ آپ نے ایسے وقت میں آگے بڑھ کر پرچم توحید کو تھا، جب ایسا کرنا ہولناک خطرات کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ آپ ؓ سفر ہجرت کے پرخطر سفر میں رسول اکرمﷺ کے رفیق بنے۔ غزوہ بدر کے لیے روانہ ہوتے ہوئے، حضور اکرمﷺ نے جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ کیا، تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے سب سے پہلے کھڑے ہو کر اعلان کیا، کہ ہم اپنی جانیں راہ حق میں قربان کر دیں گے۔ لڑائی کے آغاز سے پہلے تن تنہا حضور اکرمﷺ کی حفاظت کے لیے شمشیر بدست کھڑے ہو جاتے ہیں۔ رسول اکرمﷺ کے وصال کے بعد سارا عرب فتنہ ارتداد میں مبتلا ہو گیا، اور حضرت عمر فاروق ؓ سمیت تمام صحابہ اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے سیدنا صدیق اکبر ؓ کو مرتدین سے نرمی کے برتاؤ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ لیکن صدیق اکبر ؓ کوہ استقامت بن کر کھڑے ہوئے۔ یہ مشورہ رد کر کے پوری قوت سے مشرکین کا مقابلہ کرتے ہوئے، اور اس فتنہ کو کچل کر رکھ دیا۔ غرض سیدنا صدیق اکبر ؓ کی کتاب زندگی کا ایک ایک صفحہ آپ کے بے مثال عزم و ہمت کا آئینہ دار ہے۔
”ہمت او کِشت ملت را چوں ابر
ثانی اسلام و غار و بدر و قبر
(علامہ محمد اقبال)
(سیرۃ خلیفۃ الرسول سیدنا ابو بکر صدیق از طالب ہاشمی صفحہ 384)
(23)مردم شناسی:
مردم شناسی ایک اعلیٰ درجے کا وصف ہے، جو حضرت ابوبکر صدیق ؓ میں درجہ اتم موجود تھا۔ رب العزت نے آپ ؓ کو کمال درجے کی بصیرت اور نگاہ حقیقت شناسی عطا کی تھی۔ جس طرح آپ ؓ کو علم الانساب کے ماہر تھے، اسی طرح ہر شخص کی قابلیت اور صلاحیتوں کو چانچنے کا ملکہ بھی رکھتے تھے۔ آپ ؓ نے ملکی نظم و نسق کو صحیح خطوط پر چلانے کے لیے جن اصحاب کا انتخاب کیا، وہ اپنے متعلقہ شعبے کی ذمہ داریاں اٹھانے کے ہر لحاظ سے اہل تھے۔ مرکز خلافت میں آپ ؓ نے حضرت عمر فاروق ؓ کو اپنا مشیر خاص اور قاضی حکومت بنایا تھا۔ حضرت عمر فاروق ؓ سے بہتر انتخاب ممکن ہی نہیں تھا، کیونکہ حضرت عمر فاروق ؓ تدبر و فراست، حکمت و دانش، ذہانت و فطانت اور فضل و کمال کے اعتبار سے مقام بلند پر تھے۔ مہتمم خزانہ حضرت ابو عبیدہ ابن جراح ؓ تھے، جن کو بارگاہ رسالت سے امین الامت کا لقب عطا ہوا تھا۔ کُتاب اور ارباب افتاء میں حضرت عثمان ذوالنورین ؓ، حضرت علی المرتضیٰ ؓ، حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ، حضرت ابی بن کعب ؓ، حضرت معاذ بن جبل ؓ اور حضرت زید بن ثابت ؓ جیسے باصلاحیت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شامل تھے۔ مختلف صوبوں کے عمال بھی بڑے بیدار مغز اور ذہین اصحاب تھے۔ ان میں حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ، حضرت ابو موسی اشعری ؓ، حضرت زیاد بن لبید ؓ، حضرت معاذ بن جبل ؓ، حضرت عیاض بن غنم ؓ اور حضرت حذیفہ بن محصن ؓ جیسے جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین شامل تھے۔ خلیفتہ الرسول سیدنا صدیق اکبر ؓ نے جس طرح انتظامیہ میں بہترین آدمیوں کا تقرر کیا تھا، اسی طرح فوج کے لیے بھی بہترین افراد سپہ سلار منتخب کیے تھے، جیسے حضرت خالد بن ولید ؓ، حضرت عمرو بن العاص ؓ، حضرت شرجیل بن حسنہ ؓ، حضرت ہاشم بن عتبہ ؓ، حضرت مثنی بن حارث ؓ، حضرت عدی بن حاتم ؓ، حضرت ضرار بن الازور ؓ اور حضرت قباث بن اشیم ؓ رضوان اللہ علیہم اجمعین وغیرہ مختصر یہ کہ مختلف انتظامی اور فوجی عہدوں کے لیے صدیق اکبر کا حسن انتخاب ان کی مردم شناسی کا بین ثبوت تھا۔
(سیرۃ خلیفۃ الرسول سیدنا ابو بکر صدیق از طالب ہاشمی صفحہ 387)