فریاد کریں تو کس سے کریں 131

فریاد کریں تو کس سے کریں

کہتے ہیں کہ ریاست ماں جیسے ہوتی ہے۔لیکن یہ باتیں ہم نے صرف سنی ہے عملی زندگی میں ہم نے محسوس نہیں کیا کہ ریاست ماں جیسے ہوتی ہے اور ماں جیسے کردار ادا کرتی ہے۔ہم جس ریاست میں رہتے ہیں یہ تو ہمارے ساتھ سوتیلے ماں جیسا سلوک کرتی ہے۔ہم ایسے ریاست میں رہتے ہیں جہاں کسی بھی چیز کی کمی نہیں ہے۔یعنی ہر چیز سے مالا مال ہمارا ملک ہے۔معدنیات کی کمی نہیں،گیس کی کمی نہیں ،پانی کی کمی نہیں،فصل کی کمی نہیں حتیٰ کہ کسی بھی چیز کی کمی نہیں ہے۔لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ یہ چیزیں کسی کو میسر نہیں ہوئی۔یہ سب مختلف اشرافیہ کے گرفت میں ہے۔پاکستان انتہائی امیر ملک ہے۔پاکستان کےپاس جو موجود ہے وہ دنیا کے کسی بھی ملک کے پاس نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کی ہمارے ملک پر بہت کرم ہے۔لیکن ہم بدقسمت قوم ہے کہ اس سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں ملا۔ ہمارے ملک میں وہ پیداوار ہیں کہ ہم دنیا کے دوسرے ممالک کو دے سکتے ہیں۔لیکن پھر بھی ہمارا ملک پیچھے جا رہا یے۔ہمارے ملک کے بعد زیادہ تر ممالک ازاد ہوئے ہیں آج وہ ممالک دنیا کی کامیاب ترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ہم اگر اپنی بجلی پر بات کریں تو پاکستان میں بجلی کی پیدوار میں کوئی کمی نہیں ہے۔پاکستان میں سب سے زیادہ بجلی خیبرپختونخوا پیدا کر رہا ہے۔خیبر پختونخوا سالانہ 20 ہزار ارب یونٹ بجلی پیدا کر رہا ہے،اور خیبرپختونخوا کی ضرورت صرف 10 ہزار یونٹ ہے۔پھر باقی بجلی کہاں گئی؟یہ میں نے صرف خیبرپختونخواہ کی بات کی باقی ملک میں بھی کئے ڈیمز ہیں جو سالانہ کافی بجلی پیدا کر رہی ہے۔پاکستان اتنے پانی کے باوجود تیل پر بجلی پیدا کر رہا ہے لیکن یہ حیران کن بات ہے کہ اخر کیوں؟ ہمارے ملک میں تو پانی کی کوئی کمی نہیں ہے۔پانی اتنا تو ہے کہ اپنی ضرورت کی بجلی پیدا کر رہی ہے۔پھر یہ پانی جا کہا رہی ہے۔بجلی بلوں میں مختلف قسم کے ٹیکسز لگائے جاتے ہیں حالانکہ ان ٹیکسز کا کوئی جواز ہی نہیں ہے کہ اخر کس بنیاد پر یہ ٹیکسز شامل کئے جاتے ہیں۔خیبر پختونخوا وہ واحد صوبہ ہے جن کے عوم بر وقت بجلی بل ادا کر رہے ہیں۔اور بجلی بھی اپنی پانی سے پیدا کر رہی ہے لیکن بلوں میں ایندھن کے ٹیکس لگائے جاتے ہیں بڑی حیران کن بات ہے کہ اخر کس بنیاد پر یہ ٹیکسز لئے جاتے ہیں۔سوالات یہ اٹھ رہے ہیں کہ اخر یہ کیا وجوہات ہیں۔کہ باوجود سب کچھ ہم پاکستانی خوار ہو رہے ہیں۔پاکستان میں صرف مسائل ہیں۔ہم کس کس مسلے کے اوپر بات کرے گے۔اب مہنگائی کو دیکھیں پاکستان دنیا میں وہ واحد ملک ہے جس میں مہنگائی کی شرح زیادہ ہے۔اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ وہ چیزیں مہنگے ہیں جو ہمارے ملک کے اپنی پیداوار ہیں۔مثال کے طور پر چینی،گندم یہ وہ پیداوار ہیں جو پاکستان میں وافر مقدار میں پیدا ہوتے ہیں۔لیکن مارکیٹ میں یہ پہلا تو آپ کو ملے گے نہیں اور اگر ملے گے تو انتہائی مہنگے قیمت پر ملے گے۔دوسرے چیزیں اگر مہنگے ہیں تو چلے ہم مان لیں گے لیکن یہ دو چیزیں کیوں مہنگے ہیں؟ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ کم از کم ہمارے اپنی پیداوار کی چیزیں تو سستے ہوتے۔لیکن نہیں بس عوام خوار ہونگے۔تیسری بات یہ ہے کہ چلو چیزیں تو مہنگے کردی گئی مہنگائی کے بم تو گرائے گئے لیکن پہلے اپنے عوام کی حالت کو تو دیکھے عوام کس حال میں زندگی گزار رہے ہیں۔عوام پر زرا بھی ترس نہیں کھاتے۔بے روزگاری کی بات کی جائے تو پاکستان میں اتنے بے روزگاری ہے کہ پچھلے چار مہینوں میں تقریباً سات لاکھ پچاس ہزار افراد ملک سے باہر چلے گئے۔ایک طرف مہنگائی،دوسری طرف بے روزگاری تو عوام کیا کریں گے۔ریاست اخر چاہتی کیا ہے۔اتنی ظلم تو دنیا کے کسی بھی کونے میں نہیں ہے۔یہود بھی اتنے ظلم کسی مسلمان پر نہیں کریں گے جتنے ظلم ہمارے اس مسلمان ریاست میں مسلمانوں پر ہو رہے ہیں۔اخر اس ملک کا کیا بنے گا۔اگر ریاست نے یہ رویہ ایسے جاری رکھا تو وہ دن دور نہیں کہ ریاست کے خلاف عوام نکلے گے اور بغاوت کرنے کا اعلان کریں گے۔ظلم اور جبر کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔پاکستان دنیا کے نقشے میں ہر طرح سے بدنام ہوا۔اپنی ملک کا یہ حال ہے جب یہ پاکستانی دوسرے ممالک میں جاتے ہیں تو پھر ان کو وہاں بھی اچھے نگاہ سے نہیں دیکھے جاتے وہاں بھی ان کی عزت نہیں ہوتی۔پاکستان میں جو ذخائر ہیں وہ ذخائر دنیا کے دیگر ممالک خرید کر اپنے ممالک کو ترقی دے رہے ہیں۔اور ایک ہم ہیں کہ ہم ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف جا رہے ہیں۔اداروں کو چاہیئے کہ کرپشن کی روک تھام پر زور ڈالے۔نا انصافی کی مخالفت کرے،غریب کی اواز سنے،اس ملک کے جوان کی طاقت بنے،اس ملک کی ترقی میں عوام کے ساتھ کھڑے ہوجائے۔یہ ملک ترقی کرے گا تو سب خوشحال ہونگے۔اس ملک کے ہر فرد کو ان کے حقوق دینے کی ضرورت ہیں۔اس ملک کی عوام کو سہولت ہوگی،اس ملک کی عوام کے ساتھ رعایت ہوگی،اس ملک کے عوام کو انصاف ملے گے تو یہ ملک ترقی کرے گا۔جتنے بھی سیاستدان ہیں سب کو پاکستان کی ترقی کے بارے میں مل بیٹھ کر سوچنا چاہیئے سیاست اپنی جگہ سب سے پہلے اس ملک کی ترقی ہے۔یہ ملک ترقی کرے گا تو یہاں سیاست ہوگی۔

بشکریہ اردو کالمز