فلسطینیوں پر مظالم: مسلم دنیا خاموش 261

فلسطینیوں پر مظالم: مسلم دنیا خاموش

جب سے یہ کائنات وجود میں آئی ہے شایدہی کبھی کسی قوم پر اتنا ظلم ہوا ہوجو اس وقت فلسطین کے مسلمانوں پر ہورہا ہے۔یہ سب اسرائیل کی طرف سے کیا جارہا ہے ان وحشیانہ کارروائیوں میں اب تک ہزاروں فلسطینی جن میں بچے، بوڑھے اور خواتین بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں،شہید ہوگئے ہیںجبکہ ایک بڑی تعداد معذور ہوچکی ہے ۔ فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد بھوک کی وجہ سےجان سےبھی جاچکی ہے ، ایک رپورٹ کے مطابق غزہ شہر کے اسپتال میں دو ماہ کا بچہ کھانے کی اشیاء کے نہ ہونے کی وجہ سے انتقال کرگیا،اس چھوٹے سے بچے نے کئی دن سے دودھ نہیں پیا تھا ۔ دریں اثناء اسرائیل کی فوج کی طرف سے شمالی غزہ کے علاقے خان یونس اور رفح میں بمباری کئی دنوں سے جاری ہے۔اکثر رپورٹوں میں اسرائیل کی ان وحشیانہ کارروائیوں کی بڑی تفصیل آچکی ہے‘ انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان ساری وحشیانہ کارروائیوں کی کھلے عام حمایت خود کو دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک کہنے والے امریکہ نے کی ہے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں خود امریکہ بھی کسی حد تک شامل ہے لہٰذا امریکہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔دوسری طرف کچھ مغربی ممالک ان وحشیانہ کارروائیوں کی کھل کر مذمت کررہے ہیں‘ ان ممالک کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ رپورٹ کے مطابق فلسطین کے علاقے غزہ کے خلاف جنگ میں قابض حکومت کی طرف سے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے 12ممالک کے 200 سے زائد ارکان پارلیمنٹ نے اپنی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت پر پابندی عائد کردیں۔ ایک اوررپورٹ کے مطابق سوشلسٹ قانون سازوں اور کارکنوں کے نیٹ ورک نےبین الاقوامی انصاف پر مرکوز پروگریسو انٹرنیشنل کے زیر اہتمام ایک خط میں کہا ہے کہ ہمارے ممالک میں تیار کردہ ہتھیاروں کے پرزہ جات اس وقت فلسطین پر اسرائیلی حملوں میں مدد کررہے ہیں اس کے نتیجے میں غزہ اور فلسطین کے مغربی کنارے میں 30 ہزار سے زیادہ انسانی جانیں لے لی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں برطانیہ کے اخبار گارڈین نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل کے خلاف نسل کشی کنونشن کیس میں بین الاقوامی عدالت انصاف کے عبوری فیصلے کے بعد ہم اس میں پارٹی نہیں بن سکتے‘ اس کے علاوہ خود اقوام متحدہ کی طرف سے بھی اسرائیل کی نسل کشی کے خلاف بیان جاری کئے گئے‘ اسرائیل کی اس وحشیانہ نسل کشی کے خلاف اتنی بین الاقوامی طور پر مذمت ہوئی مگرمسلمان ممالک کہاں غائب ہیں۔ کچھ مسلم ممالک نے کبھی کبھار کوئی ایک آدھ بیان جاری کیا ’’باقی خاموش‘‘ہیں۔ اکثر لوگ سوال کررہے ہیں کہ ایک مسلم ریاست کے خلاف اتنی وحشیانہ کارروائیوں کے باوجود مسلم دنیا کیوں خاموش ہے؟ سارے مسلم ممالک جمع ہوکر اس وحشیانہ کارروائی کے خلاف اجتماعی آواز کیوں نہیں اٹھا رہے ؟

اس مرحلے پر پاکستان کے عوام کو ذوالفقار علی بھٹو بہت یاد آرہا ہے اوروہ اکثر آپس میں ملتے وقت کہتے ہیں کہ آج بھٹو یاد آتا ہے۔ جب اسرائیل نے عرب ملک شام پر حملہ کیا تھا اور اس کے جنگی ہوائی جہاز اسی طرح شام کے خلاف وحشیانہ کارروائی کررہے تھے اس وقت کی اطلاعات کے مطابق اسرائیل کو ان وحشیانہ کارروائیوں کے ذریعے شام کی چند اہم پہاڑیوں پر قبضہ کرنا تھا اس وقت پاکستان کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو تھے ان کے کچھ مسلم اور عرب ممالک کے جن سربراہوں سے قریبی تعلقات تھے ان میں شام کے صدر اسد بھی تھے‘ بھٹو نے پاکستان کے کچھ جنگی جہاز شام روانہ کئے‘ پاکستان کے ان جنگی جہازوں نے اسرائیل کے جنگی جہازوں کو بھاگنے پر مجبور کردیا اور اس طرح شام اسرائیل کے قبضے سے بچ گیا، فلسطین کے مسلمانوں کوکیسے تحفظ مل سکتا ہے جبکہ ان وحشیانہ کارروائیوں میں امریکہ بھی ملوث ہے، پاکستان کی موجودہ حکومت کو اس ایشو پر آگے آنا چاہئے اور پاکستان کو اس ایشو پر اسلامی سربراہی کانفرنس بلانی چاہئے‘اس صورتحال میں لوگوں کو یہ صورتحال اس وجہ سے مناسب لگتی ہے کہ خوش نصیبی سے اس وقت وفاقی حکومت ابھی بنی ہے، اس میں پی پی بھی ایک اہم فریق نظر آرہی ہے‘ یہ لوگ خاص طور پر نوجوان بلاول بھٹو سے بڑی امید لگا بیٹھے ہیں کہ اس صورتحال میں بلاول آگے بڑھیں گے اور وہ کردار ادا کریں گے جو ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو نے ایک اہم موڑ پر ادا کیا تھا جب بھٹو پاکستان کے وزیر اعظم بنے تو انہوں نے لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کی جس میں اکثر مسلم اور عرب ممالک کے سربراہوں شاہ فیصل‘ کرنل قذافی اور شام کے حافظ اسدوغیرہ نے شرکت کی۔کانفرنس کے دوران بھٹو نے ان مسلم اور عرب ملکوں کے سربراہوں کو قائل کیا کہ ان کے ہاں تیل نکلتا ہے تو اس تیل کے نرخ امریکہ کیوں مقرر کرتا ہے یہ نرخ تو خود ان کو مقرر کرنے چاہئیں۔ ان عرب اور مسلم ممالک کے سربراہوں کو یہ تجویز بہت پسند آئی‘ خاص طور پر سعودی عرب کے شاہ فیصل اور کرنل قذافی نے پرزور انداز میں اس تجویز کی حمایت کی اور وہیں یہ فیصلہ ہوا ،جس کے بعد امریکہ خاص طور پر بھٹو اور شاہ فیصل کی جان کا دشمن ہوگیا۔ بہرحال کچھ پاکستانیوں کی طرف سے یہ تجویز ہے کہ پاکستان کی موجودہ حکومت کو آگے آنا چاہئے اور جلد پاکستان میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کرکے اسرائیل کو ایک وحشی ریاست ڈکلیئر کرنا چاہئے اور زور دیا جانا چاہئے کہ سارے مسلم ممالک اسرائیل سے اپنے تعلقات ختم کردیں۔

بشکریہ جنگ نیوزکالم