کوئی جنگل میں رہتا ہو اور ابتدائی طبی امداد کا قریبی مرکز بھی 35‘ 40 منٹ کی مسافت پر ہو اور اس کے دل پر ’’شب خون‘‘ والا معاملہ ہو جائے تو وہ کیا کرے۔ مجھے یہی آزمائش درپیش ہو گئی اور اتفاق سے خوش قسمتی سے دل کے دورے میں فوری استعمال کرنے والی دو ادویات موجود تھیں‘ ان سے کام چلایا‘ لیکن روزہ توڑنا پڑا اور دس گھنٹے اسی تکلیف اور کشمکش میں گزرے کہ خدا یاد آگیا۔ اچھی بات‘ لیکن دماغ اور ذہن جیسے خالی خالی ہو گئے۔ بولنے میں تو دقت نہیں تھی‘ لیکن لکھنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ یوں کہئے کہ ہمت کی تو توفیق نہیں ہو رہی تھی۔ چنانچہ کالم میں ناغے پر ناغے ہو گئے‘ لیکن کیا کرنا پڑتا پڑتا ہے‘ غالب خستہ ہو نہ ہو‘ کام چلتے رہتے ہیں۔ کالم نہیںچھپا‘ کئی دن نہیں چھپا۔ کیا کچھ فرق پڑا ہے؟
میں روز ادھر سے گزرتا ہوں کون دیکھتا ہے
میں جب ادھرسے نہ گزروں گا کون دیکھے گا
……………
بہرحال انہی دنوں میں سے ایک دن کی بات ہے کہ سوشل میڈیا پر دو ویڈیوز نے دھوم مچا دی اور دیکھے جانے‘ پسند کئے جانے کے ریکارڈ توڑ دیئے۔ دونوں ویڈیوز ایک ہی دن آگے پیچھے کی تھیں۔ ایک دور پار مغربی افریقہ کے ملک الجزائر کی تھی (شمالی افریقہ کا مغرب) اور دوسری پاکستان سے۔ الجزائر کی ویڈیو نے تو مقبولیت کے پیمانے ہی بدل ڈالے۔ پچھلے 24 گھنٹوں میں ایک ارب سے زیادہ بار دیکھی گئی اور بعد میں نہ جانے کتنی بار۔ پاکستان والی ویڈیوز نے بھی پہلے 24 گھنٹوں میں دسیوں کروڑ بار دیکھنے جانے کا ریکارڈ بنایا۔ دونوں ویڈیوز کا موضوع گویا ایک جیسا ہی ہے۔ مواد البتہ بالکل الٹ‘ بالکل برعکس۔ ایک نے نیکی نامی کمائی‘ دوسرے نے محض بدنامی۔
پہلی ویڈیوز الجزائر کے ایک امام مسجد کی تھی۔ تراویح کی امامت کرتے ہوئے ایک بلی جو غالباً مسجد میں قیام پذیر تھی (ترکی کی بیشتر مساجد بلیوں کی آرام اور آسائش گاہیں ہیں۔ یہی کچھ شاید الجزائر کی مسجد کا معاملہ بھی رہا ہوگا) امام صاحب کے کندھوں پر چڑھ گئی ۔امام صاحب نے اسے جھٹک کر بھگانے کے بجائے ہاتھ سے تھام لیا اور تب تک تھامے رکھا جب تک وہ خود ہی نہیں اتر گئی۔
’’جانور‘‘ سے اس پیار کا یہ منظر مسلمان ملکوں سے زیادہ امریکہ اور یورپ میں دیکھا۔ سب نے تعریف کی اور بہت ساروں نے حیرت بھی ظاہرکی۔ اس لئے کہ مغربی ملکوں میں تاثر یہ ہے کہ مسلمان جانوروں کے بارے میں بہت بے رحم ہوتے ہیں۔ (حالانکہ مغرب میں جانوروں پر ظلم ہولوکاسٹ کی حدود سے کروڑوں نوری سال آگے نکل گیا ہے‘ لیکن چونکہ یہ ظلم ٹھوس اور اپنے چاردیواریوں میں قانونی تحفظ اور پردہ پوشی کے ساتھ ہوتا ہے اس لئے عوام‘ بیشتر بے خبر رہتے ہیں۔
امام کعبہ نے الجزائری امام کی تعریف کی اور جناب رسول اکرمؐ کی ایک حدیث کا حوالہ دیا اور کتوں بلیوں سے محبت کی تلقین کی۔ حدیث کے مطابق جانوروں پر ظلم کرنے والے جہنم میں جائیں گے۔
……………
مسلمان ملکوں کے بارے میں یہ تاثر کیوں ہے؟ وجہ غربت بھی ہے جہالت بھی اور امیروں کی وہ عادت بھی کہ بلاوجہ سینکڑوں جانور شکار کے نام پر مار نہ ڈالے جائیں تو نوابی کا ٹائٹل ادھورا رہ جاتا ہے۔ بہت عرصے پہلے ایک صاحب ٹی وی پر درس قرآن دے رہے تھے اور یہ نکتہ برآمد فرما رہے تھے کہ انسان میں روح ہوتی ہے۔ جانور میں محض جان‘ اس میں روح نہیں ہوتی۔ مطلب اسے مار دو‘ زندہ جلا دو‘ پھندا دے دو‘ کچھ فرق نہیں پڑتا۔ تب برجستہ تبصرہ و گیا کہ کاش اس امام مولانا صاحب نے کبھی قرآن ہی کھول کر پڑھ لیا ہوتا۔ سیرت النبیؐ کے دو چار ورق ہی مطالعہ فرما لئے ہوتے‘ سیرت جسے خود اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں مسلمانوں کیلئے اسوۂ حسنہ کہا ہے۔
…………
بہرحال اسی روز کی دوسری ویڈیو کراچی کے چڑیا گھر میں قسطوں میں موت کا شکار ہوتی ہوئی ہتھنی نورجہاں کی حالت زار پر تھی۔ دنیا بھر سے سماجی تنظیموں کے واویلا کے باوجود جسے کراچی چڑیاگھر کی انتظامیہ کوئی ریلیف دینے پر تیار نہیں تھی۔
نورجہاں ابھی شیر خوار بچی ہی تھی۔ جب اس کی ماں کو مار کر اسے اغوا کرکے کراچی چڑیاگھر کے حوالے کر دیا گیا جہاں اس کی اور دوسرے جانوروں کی خوراک کے پیسے چڑیاگھر کی انتظامیہ کے لوگ کھا جاتے تھے۔ یہ بے شرم لوگ دنیا بھر میں اس حوالے سے چھپنے والی رپورٹوں کے باوجود شرمندہ نہیں تھے۔ نور جہاں کو خوراک دینے پر تیار تھے نہ اس کا علاج کرنے پر۔ یہاں تک کہ ایک عالمی تنظیم ’’فور پاز‘‘ Four Paws نے علاج کی پیشکش کی تو اسے بھی بھگا دیا گیا۔
اب اطلاع ہے کہ یہ چڑیا گھر بند کیا جا رہا ہے۔ دعا ہے ہر چڑیا گھر کو بند ہو جانا چاہئے۔ کئی مہذب ملکوں میں یہ بند کئے جا چکے ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ جتنے بے رحم چڑیا گھر بنانے والے ہوتے ہیں‘ ان سے زیادہ بے رحم والدین جو اپنے بچوں کو چڑیا گھر دکھانے لاتے ہیں۔
کراچی چڑیا گھر دنیا کے بدترین چڑیاگھروں میں شامل کیا جاتا ہے۔ یہاں کے شیروں کی حالت یہ ہے کہ سب قریب المرگ ہیں۔ سر اٹھانے کی طاقت نہیں‘ ریچھ تک کو کھانا ملتا ہے نہ پانی۔ خدا جانے اس کی انتظامیہ کی اندھیر نگری کے پیچھے کسی سیاستدان کا ہاتھ ہے یا افسر شاہی کا۔ بہرحال نور جہاں اور اس سے متعلق سوشل میڈیا پر ویڈیوز کی ایسی یلغار ہوئی کہ پاکستان کا نام دنیا بھر میں بدنام ہو گیا۔ وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے آ خر نوٹس لیا‘ لیکن کیا نوٹس لیا‘ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا۔
…………
مغربی ملکوں یعنی شمالی اور مغربی امریکہ‘ یورپ‘ آسٹریلیا کے چار براعظموں کے علاوہ چین‘ جاپان جیسے بڑے صنعتی ممالک ہر سال کروڑوں نہیں‘ اربوں جانور اذیتیں دے دیکر ہلاک کرتے ہیں۔ کئی کئی سال تک جانوروں پر نزع کا عالم طاری رکھا جاتا ہے۔ انہیں بڑی بڑی چاردیواریوں میں رکھا جاتا ہے۔ سائنسی تجربہ گاہ‘ آرائش حسن کی مصنوعات بنانے والے کارخانے‘ باہر کے ملبوسات کی فیکٹریاں‘ چار چار لاکھ روپے کے پرس بنانے والے مگرمچھ اور کتے مار کر ان کی کھالیں اتارنے والے کارخانے‘ انڈوں کی صنعت‘ مرغی خانے کی صنعت‘ ڈیری کی صنعت‘ اون کی صنعت‘ ان میں سے ہر کارخانہ ہولو کاسٹ کے کنسٹرکشن کیمپوںسے بہت آگے کی چیز ہے۔ کوئی دل والا ان کی دو منٹ کی ویڈیو دیکھ لے تو دیکھ نہ پائے۔ دل تھام کر بے دم ہو جائے۔ اللہ رحم کرے۔