چار روزہ چوتھی جنگ اور فتح ۔۔2 307

چار روزہ چوتھی جنگ اور فتح ۔۔2

بھارت کی انتہا پسندی اور دھمکی آمیز رویے اب نہ صرف دنیا میں بلکہ اندرونی سطح پر بھی بھارت کو کھا رہے ہیں ، 1965ء میں اس نے ایک مذموم کوشش کی اور چونڈا سے لاھور تک اشتعال انگیزی اور شب خون مارا ، اس کے کچھ اور تاریخی حقائق ہیں لیکن ایک بات طے تھی کہ بھارت پاکستان اور کشمیر کی علیحدگی اور طاقت کو ھضم نہیں کر سکتا تھا ، ستمبر 65ء کی جنگ سترہ دن جاری رہی اور وہاں بھی پاک فضائیہ نے ایم ایم عالم جیسے ہیروز کے ذریعے دفاع کیا اور دفاعی برتری ثابت کی ، پوری قوم اس وقت جنگ میں افواج کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے طور پر لڑی اور دشمن کو پسپا کر دیا ، یہ غصہ ختم نہیں ہؤا اور 1971ء میں بنگلہ دیش جو مشرقی پاکستان تھا ، آر ایس ایس کے جتھوں نے گھس کر بنگال کے لوگوں کو اشتعال دیا دوسری طرف سیاسی ناپختگی نے سقوط ڈھاکہ کا منظر دیکھا ، جس میں نوزائیدہ پاکستان کے پاس دفاعی قوت کی کمی کا بھی سامنا تھا ، اؤر ذات و آنا کی جنگ جیسے عوامل کا دخل بھی شامل تھا ، تیسری جنگ کے طویل آثار گارگل میں نمودار ہوئے جہاں ایک وقت میں بھارت مکمل پسپا ہو چکا تھا کہ دفاعی اور سفارت کاری کی قوت میں کمی کے وجہ سے سیز فائر تک نوبت آن پہنچی دلچسپ بات یہ ہے کہ تینوں مرتبہ ہی نہیں اب چوتھی بار بھی امریکہ کی مداخلت سے جنگ بندی اور سیز فائر ہؤا ، 1965ء 1971ء اور گارگل کی جنگ پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے ، سابق عسکری سربراہوں اور سیاسی و سیکورٹی کے اداروں کے سربراہان نے کتابیں تک لکھ کر تاریخ بیان کر دی ، ایک بات نمایاں رہی کہ ھم نے غلطیوں سے سیکھا نہیں ، 
چوتھی مرتبہ بھارت نے 22 اپریل 2025ء پہلگام میں ہونے والے سانحے کو وجہ بنا کر آپریشن سندور کے نام سے پاکستان پر چڑھائی کر دی ، آپریشن سندور بھی ایک ھندواتا کی انتہا پسندی سوچ کا آئینہ دار ہے جہاں مذھبی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے" سندور" نام رکھا گیا. سندور ھندو ازم کے رسم و رواج کے مطابق میاں بیوی کے درمیان ہونے والے معاہدے اور مانگ میں شوہر کی طرف سندور لگانے سے ماخوذ ہے ، آپریشن سندور بھی پلوامہ حملہ کے بعد بھارت کی طرف سے بالاکوٹ حملے کا ری پلے تھا ، اس وقت بھی فالس فلیگ آپریشن اور الزامات کی بوچھاڑ تھی اور بالاکوٹ حملے کے جواب میں پاکستان نے بھرپور جوابی اور دفاعی کاروائی کی اور 27 فروری 2019ء کا معرکہ انڈین ائیر کرافٹس کی تباہی کی شکل میں نکلا ۔ پہلگام واقعہ کے بعد تیز رفتاری سے وہی راگ الاپا گیا۔مگر سفارتی محاذ پر بھارت کو کوئی خاص کامیابی نہ ملی ، امریکہ کے نائب صدر نے بھارت کے دورے پر محدود کاروائیوں کا عندیہ ضرور دیا لیکن کھل کر حمایت نہیں کی۔
گویا بھارت کو ایک کھلی چھٹی تو نہیں ملی البتہ اس نے حق آپریشن کی اجازت لے لی ، حمایت کرنے والوں اور خود بھارت کو پاکستان کے اس جواب کی ذرا برابر امید نہیں تھی ، آخر کار آپریشن سندور لانچ کر دیا گیا بھارت نے اپنی حدود میں رہ کر پاکستان اور آزاد کشمیر کے سات مقامات پر جن میں بہاولپور ، مریدکے ، کوٹلی ، مظفرآباد سر فہرست تھے حملہ کیا اور میزائل داغے ، جن میں براہموس میزائل کی آزمایش نمایاں تھی ، پرتھوی اور اگنی بھی کچھ کارکردگی نہیں دکھا سکے تھے ، ڈیڑھ سے دو سو کلومیٹر سے داغے گئے یہ میزائل چھ اور سات مئی عوام کے لیے ایک قیامت اور پاک فوج ، فضائیہ اور بحریہ کے لیے ایک بڑی آزمائش تھے ،بھارت کے آپریشن سندور سے تین مساجد ، سات معصوم بچے اور خواتین سمیت کل 28 افراد شہید ہوئے ، جواب میں پاک فضائیہ اور بھارتی فضائیہ کے درمیان تاریخ کی طویل ترین ڈاگ فائٹ ہوئی اور پاک فضائیہ نے ایم ایم عالم کی طرح نئی تاریخ رقم کر دی ، رافیل سمیت بھارتی فضائیہ کے پانچ طیارے زمین بوس کر دیئے جس دنیا حیران اور بھارت شدید زخم خوردہ ہو گیا ، اس خطے کے لیے سات مئی سے 10 مئی شام چار بجے تک سخت ترین وقت تھا ، وقت جیسا بھی ہو گزر جاتا ہے مگر چھوڑے گئے زخم تازہ رہتے ہیں ، یہ چار دن ، 65 ء کے سترہ دن پاکستان اور پاکستانی قوم کے لیے ایک بڑی آزمائش کا وقت تھا ، جس میں اللہ نے سرخرو لیا ، جب بھارت نے آپریشن کیا تو ملک میں دو سوال تیزی سے گردش کر رہے تھے کہ کیا ھم حملے روکنے کی استعداد نہیں رکھتے ؟ کیا امریکہ نے کہا کہ ایسا ھونے دیا جائے ؟ اب دونوں سوالوں کا جواب ھمارے دفاعی اداروں کے پاس تھے اور وہ مطمئن اور منصوبہ بندی میں مصروف تھے ۔جس کا جواب اور خواب دونوں پورے ہو گئے ، انہی چار دنوں میں سیالکوٹ سمیت آزاد کشمیر لائن آف کنٹرول پر بھاری مشین گنوں اور توپوں سے قیامت خیز فائرنگ ہوئی جس سے باغ ، مظفرآباد ،چکوٹھی ، نیلم ، لیپا ، کھوئی رٹہ ، برنالہ ، بٹل ، ھجیرہ ، تیتری نوٹ ، بیلا اور حویلی میں سول ابادی ، مویشیوں کو نشانہ بنایا گیا ، باغ کے نوجوان اسامہ ، سمیت متعدد افراد شہید ہوئے ، 1156 خاندانوں کے گھروں اور مویشیوں کو نقصان پہنچا ، لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف نقصان ہوا ، ھزاروں خاندان نقل مکانی کر کے محفوظ مقامات تک پہنچے مگر کروڑوں کی لائیو سٹاک ، زراعت اور گھروں کو نقصان پہنچا ، جس میں نقل مکانی کرنے والوں سے جذبہ خیر سگالی اور اخوت کا بے مثال منظر بھی دیکھنے میں آیا راولاکوٹ کمیونٹی اس میں سر فہرست رہی تاہم تمام اضلاع کے لوگوں نے یک جہتی اور اخوت و بھائی چارے کی مثال قائم کی ، یہ جنگیں انسانی تباہی پر ختم ہوتی ہیں ، معاشرے پر اچھے اثرات مرتب نہیں ہوتے مگر دفاع بھی ضروری ہے ، جو جاری رہتا ہے ، ۔۔۔۔۔
جاری ہے

بشکریہ اردو کالمز