21 سال بعد پنجاب میں بسنت پر لگی پابندی ہٹا لی گئی ہے اور کچھ شرطیں لگا کر پتنگ اڑانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
اشرافیہ کیلئے یہ پابندی تو کبھی تھی ہی نہیں۔ فارم ہائوسز ، بڑے بنگلوں اور حویلیوں، فائیو سٹار ہوٹلز میں بسنت نائٹ کا ناغہ کبھی ہوا ہی نہیں، اب ’’مبینہ‘‘ طور پر عوام کو بھی اجازت مل گئی ہے۔ ایک دلچسپ شرط یہ ہے کہ 18 سال سے کم عمر لڑکوں کو پتنگ اڑانے کی اجازت نہیں ہو گی، کوئی پکڑا گیا تو 50 ہزار، پھر سے پکڑا گیا تو ایک لاکھ روپے جرمانہ ہو گا۔ کیسے پتہ چلے گا کہ یہ 18 سال کا ہے اور یہ ساڑھے سترہ سال کا ہے اور عمر چیک کرنے کیلئے پولیس ’’اشراف‘‘ کے ٹھکانوں کا رخ تو کبھی کر ہی نہیں سکتی، وہاں چاہے 5 سال کے بچے بھی پتنگ اڑائیں۔ ایک اور مزے دار صورت یہ بھی نکل سکتی ہے کہ کسی لڑکے کو جب پکڑا گیا ہو، تب اس کی عمر 17 سال، گیارہ مہینے اور 29 دن ہو اور اگلے د ن جب اسے عدالت پیش کیا جائے تو وہ پورے 18 سال کا ہو چکا ہو، تب کیا حکم ہو گا۔ ان دنوں پنجاب میں پولسی اور تجاوزات والوں کو اتنے اختیارات دے دئیے گئے ہیں کہ کچھ عجب نہیں ہو گا اگر پولیس والے 70 ،70 سال کے بابے پکڑ کر تھانے لے جائے، یہ کہہ کر یہ سب 18 سال سے کم عمر کے بچے بالے ہیں ’’قنون شکنی‘‘ کرتے پکڑے گئے ہیں۔
____
بسنت موسمی تہوار ہے۔ بعض علما نے اسے ’’ہندو‘‘ تہوار قرار دے کر مخالفت کی حالانکہ بسنت کا لفظ نہ ہندو ہے نہ مسلمان نہ سکھ، یہ پنجابی اور ہندی کا لفظ ہے اور اس تہوار کا تعلق موسم سے ہے۔
پابندی جو لگی تو مقصد یہ تھا کہ دھاتی اور شیشے والی ڈور سے ہر بسنت پر بلکہ مابعد از بسنت بھی راہ چلتے لوگ گردن کٹنے سے مر جاتے تھے۔ میاں بیوی موٹر سائیکل پر جا رہے ہیں، بچہ گود میں ہے، ڈور نے آ لیا اور بچہ ماں کی آغوش ہی میں ذبح ہو گیا۔
کوئی بھی حکومت اتنی طاقتور نہیں کہ شیشہ لگی، دھاتی ڈور بنانے والوں کے خلاف کارروائی کر سکے چنانچہ آساں راستہ یہ تھا کہ بسنت ہی روک دی جائے، استثنیٰ کے ساتھ یعنی صرف اشرافیہ کو اجازت ہو، ارذالیہ پر پابندی ہو۔
پابندی کے باوجود لوگ ذبح ہوتے رہے کہ اشرافیہ ڈور پھیرنے کیلئے آزاد تھی۔ اب جو پابندی ہٹی ہے تو کیا ہو گا؟۔ دھاتی اور کیمیکل والی ڈور کو تو حکومت روکنے سے رہی۔ لوگ اسی طرح ذبح ہوتے رہیں گے البتہ طبقہ ارذالیہ کے ہر عمر کے لوگ 18 سال سے کم عمر کے قرار دے کر پولیس والے سرکاری خزانہ بھرتے رہیں گے۔ نیک کمائی سے خود بھی فائدہ اٹھائیں گے، حکومت کا بھی بھلا کریں گے۔ بالکل اسی طرح جیسے نئے ٹریفک قوانین اور بھاری جرمانوں کی مدد سے سرکار خزانہ لبالب بھرے جا رہی ہے۔ خیر، اچھی بات ہے، قانون کی رٹ کسی شعبے میں تو قائم ہو رہی ہے۔
_____
نئے ٹریفک قوانین اور بھاری جرمانوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے 8 دسمبر سے صوبہ بھر میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر نبیل طارق نے کہا کہ نئے قانون کے بعد ڈرائیوروں کی سرعام تذلیل کی جا رہی ہے، گاڑیاں بند کر دی جاتی ہیں ، جرمانے اتنے بھاری ہیں کہ ادا نہ ہو پانے کے باعث 80 فیصد کام رک چکا ہے۔ سامان گوداموں میں پڑا سڑ رہا ہے، کوئی ڈرائیور اٹھا کر لے جانے کو تیار نہیں۔
کیا تبصرہ اس ہڑتال پر کیا جا سکتا ہے۔ سوائے اس کے کہ ابھی ہڑتال نہ کریں، ابھی 80 فیصد کام بند ہوا ہے، سو فیصد بند ہونے کا انتظار کریں۔
_____
گڈگورننس کیلئے ایک اور ادارہ ’’پیرا‘‘ کے نام سے بنایا گیا ہے۔ مقصد اس کا تجاوزات ختم کرنا تھا۔ اس نے کام شروع کیا تو پتہ چلا، تجاوزت سے مراد غریب عوام یا عام آدمی ہے۔ بس انہی کو ہٹایا جا رہا ہے۔ ریہڑی ٹھیلے والوں کی شامت ہے۔ سرعام سب کے سامنے پیٹے جاتے ہیں۔ ایک غریب لڑکا کندھے پر کوٹ رکھ کر بیچ رہا تھا۔ پیرا والوں نے سرعام اس کی پٹائی کی، گالم گلوچ کی، پھر اسے اور اس کے کندھے پر پڑے کوٹ تجاوزات قرار دے کر ڈالے میں ڈال کر لے گئے۔
امید کرنی چاہیے کہ نواز شریف باخبر ہوں گے۔
_____
کراچی میں ایک تین سالہ بچہ ابراہیم مین ہول میں گر کر جاں بحق ہو گیا۔ مین ہول کا ڈھکن کراچی کے طاقتور ڈمپر مافیا نے توڑ دیا تھا۔ بلدیہ نے نیا ڈھکن لگانے کے بجائے اس پر گتہ رکھ دیا۔ بچہ اس گتے پر چڑھ گیا اور گتہ ٹوٹ گیا۔
ننھے منے بچے نے کتنی دیر تک تڑپنے کے بعد جان دی ہو گی، اس پر کیا گزری ہو گی، سوچ کر ہی دل پھٹتا ہے۔ وہ تو اپنے حصے کی اذیت کاٹ کر دنیا چھوڑ گیا لیکن اس کے ماں باپ کی بالخصوص ماں کی اذیت تو عمر بھر ساتھ رہے گی۔ وہ اب کبھی چین سے سو نہیں پائے گی۔
واقعے کے بعد ذمہ دار افسر معطل کر دئیے گئے ہیں۔ پاکستان میں مین ہولز میں گر کر ہلاک ہونے والوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے، آج تک کسی جگہ، کبھی، کوئی ذمہ دار معطل نہیں ہوا۔
کراچی میں معطلیاں اس لئے ہوئیں کہ اس واقعے پر عوامی ردعمل غیر متوقع طور پر شدید تھا۔ یعنی حکومت نے یہ کارروائی مجبوراً کی۔
میئر کراچی نے بھی اس واقعے پر ’’معافی‘‘ اسی ردّعمل کی وجہ سے مانگی ہے۔ معافی تو مانگ لی لیکن پتہ نہیں کہ کراچی کو ’’میگا موہنجودڑو‘‘ بنانے کے ان کے عزم پر بھی اس واقعے سے کوئی اثر پڑا یا نہیں؟
214