بجلی کے ہوشربا بلوں کے بعد گیس کی قیمتوں کا دردناک بوجھ: ریلیف کا مطالبہ 204

بجلی کے ہوشربا بلوں کے بعد گیس کی قیمتوں کا دردناک بوجھ: ریلیف کا مطالبہ

پاکستانی عوام پر بجلی کے ہوشربا بلوں کا بوجھ پہلے ہی لاد دیا گیا ہے اور اب گیس کی قیمتوں میں بھی مزید ہوشربا اضافے کا امکان ہے جس سے خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والی غریب عوام کا جینا دوبھر ہوگیا ہے اور اس مہنگائی کے دور میں کمر توڑ مہنگائی کو برداشت کرنے سے قاصر ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں حالیہ ہوشربا اضافے کو واپس لے کر مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے عوام کو ریلیف دیا جائے۔ حالیہ برسوں میں عالمی معیشت نے ایک پریشان کن رجحان دیکھا ہے، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ نے عوام کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے۔ پاکستان بھی گیس اور بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے، بحیثیت ایک قوم جو اپنی روزمرہ کی ضروریات کے لیے توانائی کے اس ذرائع پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔ گرمیوں میں بجلی اور سردیوں میں گیس کی شدید لوڈ شیڈنگ سے عام آدمی کو پریشانی کا سامنا ہے۔ قیمتوں میں سب سے زیادہ حالیہ اضافہ 1 اکتوبر 2023 سے لاگو ہونے والا 200% حیران کن اضافہ ہے جس نے پاکستان میں بہت سے لوگوں خاص کر عوام کو کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے۔ پاکستان میں گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے غریب آدمی کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ اس سے پہلے 13 فروری 2023 کو 113 فیصد اضافہ ہوا تھا، جب پی ڈی ایم حکومت نے 340 بلین روپے کی وصولی کے لیے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی تھی۔ جیسے جیسے حکومت بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ اور ذمہ داریوں سے نبردآزما ہوئی تو انہوں نے بالآخر بوجھ عام شہریوں پر ڈال دیا۔ اس کے نتائج عام آدمی کے لیے سنگین اختیار کرگئے، اب صارفین کو گیس کی آٹھ گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور وہ لکڑی، کوئلے اور گائے کے اوپلے جیسے متبادل توانائی کے ذرائع استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کسی حد تک پاکستان کی معاشی پالیسیوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ گیس کی قیمتوں میں اس طرح کے غیر معمولی اضافے پر عمل درآمد کے فیصلے کو آئی ایم ایف کے آئندہ اسسمنٹ مشن کے لیے پیشگی شرط سمجھا جارہا ہے۔ اگرچہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ معاشی اصلاحات ضروری ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کے عام لوگوں خاص طور پر غریبوں پر یہ بوجھ ڈالنا مناسب ہے؟ ان قیمتوں میں اضافے کا بوجھ غریب عوام کے لیے نہ صرف تکلیف دہ ہے بلکہ پاکستان کے عام شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے اور عوام کی ضروریات کو پورا کرنے پر ترجیح دے۔عوام کو دیئے جانے والے ریلیف کے لیے کچھ تجاویز یہ ہیں: سبسڈیز اور ٹارگٹڈ ایڈ: حکومت کو گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نمٹنے میں کمزور آبادی کی مدد کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈیز اور امدادی پروگرام پیش کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ اس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں کو فوری ریلیف مل سکتا ہے۔ توانائی کی تنوع: متبادل اور قابل تجدید توانائی کے ذرائع میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے، جس سے گیس پر انحصار کم کرنے اور طویل مدتی میں توانائی کی قیمتوں کو مستحکم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ عوامی آگاہی:شہریوں کو توانائی کے تحفظ اور موثر استعمال کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے عوامی بیداری کی مہموں میں شامل کیا جائے، جس سے ان کے گیس کے بلوں کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ شفافیت اور جوابدہی:گیس کی قیمتوں میں اضافے کی تقسیم میں شفافیت کو یقینی بنائیں اور کسی بھی بدانتظامی یا فنڈز کے غلط استعمال کے لیے حکام کو جوابدہ ٹھرایا جائے۔ اس وقت پاکستان کی موجودہ صورتحال تشویشناک ہے، گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام آدمی کا جینا مشکل بنادیا ہے۔ گیس کی قیمتوں میں 200 فیصد اضافہ غریب عوام پر ایک غیر معمولی بوجھ ہے جسے پاکستانی عوام کو برداشت نہیں کرنا چاہیے، خاص طور پر شدید لوڈ شیڈنگ اور معاشی چیلنجز کے درمیان اس فرق کو تبدیل کیا جائے۔ یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ نگران حکومت مشکل حالات میں زندگی گزارنے والی 70% آبادی کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے قیمتوں میں اضافے کو واپس لینے کے لیے فوری اقدام کرے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ پاکستان کے لیے یہ انتہائی اہم ہے کہ وہ اپنے شہریوں پر غیر متناسب بوجھ ڈالے بغیر اپنے معاشی چیلنجوں سے نمٹنے میں اپنا کردار ادا کرے گیس اور بجلی کی قیمتوں کو بڑھانے کی بجائے عوام کی فلاح و بہبود کو ترجیح دے کر متبادل حل تلاش کرے اس طرح کے اقدامات سے حکومت ایک زیادہ مستحکم اور پائیدار مستقبل کی راہ ہموار کر سکتی۔

بشکریہ اردو کالمز