کل صبح جب میں تیار ہو کر گھر سے نکلا تو کینال روڈ پر پہنچتے ہی مجھے احساس ہوا کہ گھر واپس جانا پڑے گا ۔ سڑک پر اتنا پانی تھا کہ کئی گاڑیاں اس میں ڈوب کر بند ہو چکی تھیں ۔میں حیران وپریشان گاڑی موڑ کر واپس گھر آگیا ۔اتنا تو مجھے معلوم تھا کہ رات بارش ہوئی ہے مگر اتنی بارش،میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔پتہ چلا کہ لاہور میں بارش کا تیس سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے ۔یقیناً لاہور اتنی بارش کیلئے تیار نہیں تھا۔
پچھلے ہفتےموسمیاتی تبدیلیوں کی وفاقی وزیرمحترمہ شیری رحمان نے بارشوں کے باعث ممکنہ سیلاب سے شہریوں اور حکام کو خبردار کیا تھا۔اس کے باوجود لاہور میں گیارہ سالہ بچے سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے ۔ایک غیر ملکی میڈیا نے تو یہ پیشں گوئی بھی کی ہے کہ باقی شہروں میں بھی ایسی بارشوں کا خدشہ ہے۔لاہور تو ایک ماڈل سٹی ہے ۔یہاں تو پھر بھی بچ بچا ہوگیاہےباقی شہروں میں اگر ایسی بارشیں ہوئیں تو کیا ہوگا۔اوپر سے راوی ،چناب، جہلم اور ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب کا ہائی الرٹ جاری کردیا گیاہے۔ ان خشک دریائوں میں سیلاب صرف اسی وقت آتا ہے جب بھارت کی طرف سے پانی چھوڑا جاتا ہے۔یقیناً بھارت اسی وقت پانی چھوڑتا ہے جب اس کے اپنے علاقے زیرِ آب آنے لگتے ہیں۔ بھارت کو تقریباً ہر سال مجبوراًیہ پانی چھوڑنا پڑتا ہے مگر ہم ابھی تک اس پانی سے فائدہ نہیں اٹھاسکے ۔ یہ پانی جب بھی آتاہے ۔ ہمارا نقصان ہی کر کےجاتا ہے ۔ہمارے لئے کیا مشکل تھا کہ ہم ان دریائوں پر بڑی بڑی جھیلیں بنالیتے اور سارا سال اس کا پانی استعمال کرتے ۔اپنے ملک کے بارشی پانیوں کو بھی انہی جھیلوں کی طرف موڑدیتے۔سنا ہے راوی کے اوپر شاید کسی ایسی جھیل کا منصوبہ برسوں سےفائلوں میں موجود ہے ۔ پتہ نہیں کیوں کسی حکومت میں بھی اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔
مجھے لگتا ہے اب برطانیہ کی طرح ہر صبح باہر نکلنے سے پہلے یہاں موسم کا احوال معلوم کرنا پڑے گا۔ وہاں لوگ جب گھر سے نکلتے ہیں توپہلے موسم کا حال دیکھتے ہیں۔ بارش ہو گی یا نہیں۔ برف باری کا امکان تو نہیں۔درجہ ِ حرارت کتنا ہوگا،وغیرہ وغیرہ۔کئی بار وہاں ایسا بھی ہوا ہے کہ موسمی حالات بتانے والوں کی پیشیں گوئیاں غلط ثابت ہوئی ہیں ۔خاص طور پر وہاں اگر برف باری ہونے سے پہلے سڑکوں پر نمک کا چھڑکائو نہ کیا جائے تو سڑکوں پر ٹریفک رواں دواں نہیں رہ سکتی ۔میری زندگی میں دو مرتبہ ایسا ہوا کہ برطانیہ میں نمک نہ چھڑکا جا سکا اورٹریفک کا سارا نظام درہم برہم ہوگیا۔ لوگ اپنی گاڑیوں پر گھروں سے ہی نہ نکل سکے اور جو نکلے ان کی گاڑیاں سڑکوں پر پھنس گئیں ۔ اچانک برف باری ہوگئی۔ مہینوں پہلے موسموں کے حالات بتانے والے آلات منہ دیکھتے رہ گئے ۔
امریکہ میں بھی بارشوں کی وجہ سے بڑے سیلاب آئے ۔ستمبر 1921ءمیں، وسطی ٹیکساس میں شدید بارش ہوئی، جس کے نتیجے میں تباہ کن سیلاب آیا، جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ سیلاب کے نتیجے میں باقی نقصانات کے ساتھ بے شمار جانوں کا ضیاع بھی ہوا۔ شدید بارشوں کے نتیجے میں1927ءکا عظیم مسیسیپی سیلاب آیا اور اس نے دریائے مسیسیپی کے کنارے متعدد ریاستوں کو متاثر کیا۔بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، 23,000مربع میل سے زیادہ اراضی زیر آب آگئی ۔لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے اور بہت سے لوگ ہلاک ہوئے ۔جولائی 1976ءمیں شدید بارشوں سے دریائے بگ تھامسن میں پانی کے اچانک اضافے کے سبب ایک تباہ کن سیلاب آیا جس نے 140 سے زائد افراد کی جانیں لے لیں مگر امریکہ میں اس کے بعد اس سے بھی زیادہ بارشیں ہوئیں ،اس سے بھی بڑے طوفان آئے ۔ سمندری طوفان آئے مگر لوگوں کومرنے نہیں دیا گیا۔سمندری طوفان ہاروی کے سبب اگست 2017 میں ٹیکساس میں ریکارڈ توڑ بارش ہوئی اور ہیوسٹن اور آس پاس کے علاقوں میں بھی تباہ کن سیلاب آیا۔اربوں ڈالر کا نقصان ہوا مگر لوگ نہ ہونے کےبرابر ہلاک ہوئے۔
افسوس ہمارے ہاں انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں ۔صرف دوہزار آٹھ کے زلزے میں اسی ہزار سے زیادہ انسان لقمہِ اجل بن گئے ۔ اس کا ذمہ دار زلزلہ نہیں ۔ وہ حکومتیں ہیں جو مکانوں کی تعمیر کے وقت چیک نہیں کرتیں کہ بننے والا مکان زلزلے کے جھٹکے برداشت کر سکے گا یا نہیں ۔ امریکہ اور یورپ میں ایسا کوئی مکان تعمیر نہیں ہو سکتا جو زلزلہ آنے پر زمین بوس ہوجائے ۔جاپان کا شہر ٹوکیو زلزلوں کی آماجگاہ ہے مگر وہاں کبھی کوئی عمارت نہیں گری ۔ویسے میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ لاہور میں نکاسی ِ آب کا جو نظام ہے۔اسے کیا ہوگیا تھا ۔اگر کوئی خرابی آ بھی گئی تھی تو چھ گھنٹے بارش ہوتی رہی ہے،اسی دوران اسے درست کیا جا سکتا تھا ۔کچھ سال پہلے جو کہا گیا تھاکہ’’ پنجاب حکومت نے زیر زمین پانی جمع کر کے اسے پارکوں میں پودوں اور گھاس کیلئے استعمال کرنے کی حکمت عملی بنائی ہے اور لاہور میں 14لاکھ گیلن پانی جمع کرنے کی صلاحیت رکھنے والے زیرِ زمین ٹینک میں پانی جمع کرنا شروع کردیاگیا ہے‘‘۔وہ زمین دوز ٹینک کیا ہوئے ۔بہر حال اللہ تعالی کے کرم سے ہمارے ملک کے تمام معاملات چل رہے ہیں ۔اس کا کرم رہنا چاہئے اوربس اتنا خیال رکھنا چاہئے کہ کہیں وہ ناراض نہ ہوجائے ۔