ایران جنگ: ہو گا کیا؟ 323

ایران جنگ: ہو گا کیا؟

کچھ دنوں کے وقفے کے بعد ایک بار پھر یہ خبریں گرم ہیں کہ ایران پر امریکی حملہ ہونے والا ہے۔ تصدیق شدہ اطلاعات کے مطابق علاقے میں امریکی فوجی ’’بلڈاپ‘‘ مکمل ہو چکا ہے یعنی امریکہ نے اپنی فیلڈنگ مکمل کر لی ہے۔ مغرب میں اردن اور اس سے پرے بخیرہ روم میں، ایران کے جنوب اور جنوب مغرب میں یعنی خلیج اومان اور بحیرہ قلزم میں اس کے اس بحری بیڑے اور سٹرائیک گروپ۔ اور فضائیہ کے سینکڑوں طیارے اپنی پوزیشن لے چکے ہیں اور بہت دور جنوب میں ڈیگو گارشیا کا جزیرہ اس وقت امریکی فضائی طاقت کا ’’گودام‘‘ بن چکا ہے۔ 
اخبارات میں ’’موازنہ‘‘ بھی کیا جا رہا ہے یعنی امریکہ کے پاس کتنی اور ایران کے پاس کتنی برّی فوج اور کتنے ٹینک ہیں۔ حالانکہ، بظاہر زمینی لڑائی کی صورت نظر نہیں آتی۔ ساری جنگ فضائی ہو گی یعنی طیاروں، میزائلوں اور ڈرون طیاروں پر مشتمل ہو گی۔ امریکہ کے پاس ہر قسم کے بمبار اور حملہ آور جہاز بہت بڑی تعداد میں ہیں جن کی ساری تفصیل میڈیا پر آ چکی ہے۔ ایران کے پاس میزائل اور ڈرون بہت زیادہ ہیں۔ کچھ ایسی خبریں آئی ہیں کہ جوابی حملے میں ایران ایک ہی بار 2 ہزار سے لے کر 6 ہزار تک میزائل داغ دے گا اور ایک غیر مصدقہ خبر یہ بھی ہے کہ ایران کے پاس 80 ہزار ڈرون ہیں۔ ان اطلاعات پر امریکہ سے زیادہ اسرائیل کو پریشانی ہے۔ اسرائیل بہت بڑی جنگی طاقت ہے لیکن اس کے پاس سٹریٹجک ڈیتھ (فوجی گہرائی) نام کی کوئی شے نہیں۔ اندازہ کیجئے ، اس کا رقبہ بیس بائیس ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ نہیں یعنی پاکستان کے صوبہ پختونخواہ کے پانچویں حصے کے برابر، گوجرانوالہ ڈویڑن جتنا۔ بہت ہی کم رقبہ لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو اسرائیل اس سے بھی چھوٹا ہے۔ اٹکس پر اس کا نقشہ دیکھئے، شمال کا آدھا ہی اصل اسرائیل ہے، جنوب کا آدھا زیادہ تر صحرا اور ویران ہے گرچہ یہاں شہر اور قصبے ہیں، فوجی ائیر پورٹ بھی اور ایلاٹ کی بندرگاہ بھی لیکن مجموعی آبادی کم ہے۔ بیشتر آبادی دس بارہ ہزار مربع کلومیٹر کے رقبے پر ہے اور یہ اتنا کم رقبہ ہے کہ یہاں ایک ہزار میزائل بھی گر جائیں تو ایسی کی تیسی پھر جائے۔ اسرائیل کے پاس میزائل اور ڈرون روکنے کے زبردست انتظامات ہیں لیکن یہ نظام چھ ہزار میزائلوں میں سے پانچ ہزار کو روک لیتا ہے، ایک ہزار تو پھر بھی گر ہی جائیں گے۔ ہر حملے کے وقت بیشتر آبادی ’’شیلٹرز‘‘ میں چھپ جاتی ہے لیکن عمارتیں تو پھر بھی تباہ ہوں گی۔ اسرائیل چاہتا ہے ایران پر امریکہ حملہ تو ضرور کرے لیکن ایران جواب میں امریکی جہازوں کو نشانہ بنائے، ہماری طرف رخ نہ کرے۔ 
دوسری طرف ایران کی ایک بڑی کمزوری ہے کہ عوام حکومت کے ساتھ نہیں رہے۔ 
ایک بڑی تعداد پہلے ہی حکومت مخالف تھی، مظاہرین کیخلاف ایک ناقابل تصور حد تک بڑے کریک ڈائون کے بعد حامی بھی مخالف ہو گئے۔ امریکی جریدہ ٹائم نے ایرانی حکام کا یہ ’’اعتراف‘‘ چھاپا ہے کہ کریک ڈائون میں 30 ہزار سے زیادہ مظاہرین مارے گئے۔ کئی لاکھ زخمی ہیں۔ ایرانی مزاحمت کاروں کی ویب سائٹ ’’ایران انٹرنیشنل‘‘ کا دعویٰ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد 30 ہزار سے کہیں زیادہ ہے۔ برطانوی اخبار گارڈین نے پرسوں یہ خبر دی کہ دسیوں ہزار مظاہرین قتل ہوئے، اس بڑے کریک ڈائون کے بعد مظاہروں کا زور کم ہو گیا لیکن مظاہرے اب بھی جاری ہیں اور ’’ایرانی نظام‘‘ اپنے قدموں پر کھڑا نظر نہیں آتا۔ جذبات اسقدر شدید ہیں کہ ایرانی عوام ’’حملہ آوروں‘‘ کو خوش آمدید کہتے نظر آتے ہیں۔ ایران کے حکمران علی خامنہ ای کو ایسے بنکر میں منتقل کر دیا گیا ہے جو مکمل طور پر زیر زمین ہے اور اس کا کوئی حصہ کھلے آسمان تلے نہیں ہے یعنی اس کا کوئی صحن نہیں ہے۔ ایرانی افسروں میں بے یقینی ہے اور فوجی اہلکاروں کو اعتبار کی نظر سے نہیں دیکھا جا رہا ہے اور اسی بے اعتباری کی وجہ سے ایرانی حکومت نے عراق سے کتائب، حزب اللہ اور حشرالشعبی کے ہزاروں رضاکاروں کو مدد کیلئے بلا لیا ہے۔ 
ایران کا رقبہ بہت زیادہ ہے، پاکستان کے دگنے سے بھی زیادہ برّی کارروائی یہاں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ امریکہ ایران میں میزائلوں کے اڈے، پٹرول تنصیبات اور پاسداران کے مراکز کو تباہ کرنا چاہتا ہے اور یہ سارے نشانے بہت ہی وسیع علاقے میں جابجا پھیلے ہوئے ہیں۔ یعنی امریکہ کیلئے حملہ کرنا تو آسان ہو گا لیکن حملے کی ’’تکمیل‘‘ آسان نہیں ہو گی۔ 
عراق سے وابستہ امریکی امید اس طرح ختم ہو گئی کہ وہاں نیا وزیر اعظم نوری المالکی آ رہا ہے جو ماضی میں امریکہ، خاص طور سے ری پبلکن پارٹی کا اتحادی رہا ہے لیکن اب اس کی حمایت ایران کیلئے ہو گی۔ موجودہ وزیر اعظم السّودانی سے امریکہ نے مبینہ طور پر یہ یقین دہانی حاصل کر لی تھی کہ وہ ایرانی تیل کی فروخت میں سہولت کاری بند کر دیں گے لیکن نوری المالکی سے یہ امید نہیں ہے۔ اسی لئے صدر ٹرمپ نے عراقی سیاستدانوں کو انتباہ کیا کہ وہ نوری کو وزیر اعظم بنانے سے باز رہیں۔ یہ انتباہ بے اثر رہے گا، بے معنے تو ہے ہی، یہ وہی نوری المالکی ہے جس نے صدر بش کے اشارے پر عراق میں وسیع پیمانے پر ، اقلیتی مسلک کا قتل عام ہونے دیا تھا۔ اقلیتی مسلک کے 5 لاکھ افراد اس قتل عام میں مارے گئے تھے۔ عراق پر امریکی حملے کے بعد ہونے والا یہ قتل عام کئی ماہ تک جاری رہا۔ ایران کی قیادت نے عراق پر امریکی حملے کا خیرمقدم کیا تھا جس کے نتیجے میں صدام حکومت ختم ہو گئی تھی۔ اب یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حملہ ہوا تو عراق بھی اس بحران کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ خطے کے اہم ترین ممالک، سعودی عرب اور ترکیہ کھل کر امریکی حملے کی مخالفت کر رہے ہیں لیکن ہو گا کیا، ٹھیک ٹھیک پتہ کسی کو نہیں ہے۔

بشکریہ نواےَ وقت