اٹھو!!! میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو۔۔۔۔ 913

اٹھو!!! میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو۔۔۔۔

(روحانیت،  تصوف اور احسان کی تمیز کرنا سیکھیں )

 

(میرے لیکچر کو تحریر کی شکل دینے پر میں برخوردار اورنگ زیب خلجی کی کوششوں کا انتہائی معترف ہوں۔۔ اور دعا گو ہوں کہ اللہ کریم اسے علم نافع عطا فرمائیں آمین ) 

 

سن 2015 میں ایک خبر اخبارات اور سوشل میڈیا کی زینت بنی 

"مسیحیوں کے روحانی پیشوا پاپائے روم فرانسیس نے کیتھولیک برادری کے راہبوں کو اسقاط حمل کی خواہاں خواتین کے گناہوں کو ایک سال تک معاف کروانے کے اختیارات سونپ دیئے ہیں"

( 02.09.2015 )

 

مختلف مذاہب میں تصوف کی مختلف تعریفیں ہے لیکن جدید روحانیت اور کسی بھی سلسلے میں پیری مریدی میں بیعت ہونے کے بعد مندرجہ زیل 03 سوالات ہر کسی کے زہن میں موجود ہین اور انہین اتنا ڈرایا جاتا ہے کہ  ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو روک دیا جاتا ہے۔اور تمام روحانیت اور تصوف ان درج زیل 03 سوالات کی گرد گھومتی ہوئی نظر آتی ہے۔۔ کسی خانقاہ، کسی سجادہ نشین یا کسی بڑے خانوادہ سے سوال کرنا حرام بلکہ جہنم کا راستہ تصور ہوتا ہے۔۔ یہ 3 سوالات  کچھ یوں ہین۔۔

 

1۔پیر و مرشد غلط نہیں ہوتا ہے اور نہ وہ غلطی کرتا ہے ۔ وہ خدا میں جذب ہو چکا ہوتا ہے ۔ 

 

2۔ پیر و مرشد کے گھر والوں ، آباؤ اجداد اور خاندان کو کچھ بولنا یا ان کے اوپر بات کرنا ایسا ہے جیسے آپ اپنے لئے دنیاوی اور آخروی عذاب کو دعوت دے رہے ہے ۔ 

 

3۔  پیر و مرشد صاحبِ تصرف ہوتے ہے اور وہ آپ کی ہر چیز پر ہر طرح کا اختیار رکھتے ہے ۔ 

 

سب سے پہلے یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ روحانیت اور تصوف میں۔ بنیادی فرق کیا ہے۔  کیونکہ پوری دنیا کے اندر روحانیت  مذہبی اسودگی یا اس کو  (تصوف ) کے ہم پلہ سمجھا جاتا ہے جبکہ روحانیت جسے انگریزی میں (spirituality) کہتے ہیں جس سے مراد ہے  کہ کا اس کائنات کے اندر جو چیز جہاں بھی موجود ہے اس میں روح ہے یا وہ ایک مخصوص Rhythm میں ہے اور اس روح کو قرآن سورہ بقرہ میں انسانوں کے لئے بیان فرماتا ہے کہ “ انکے دل پتھروں کی طرح سخت ہے لیکن پتھروں میں کچھ پتھر ایسے ہے جو خوف خدا سے لرز بھی جاتے ہے اور پھٹ بھی پڑھتے ہے اور ان سے چشمے پھوٹ پڑتے ہے “ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انکے اندر  کوئی روح ہے اور وہ خوف خدا سے لرزتے بھی ہیں اور اسی طرح اللہؔ پاک قرآن میں فرماتے ہے کہ “ اگر ہم قرآن کو پہاڑ پر نازل کرتے تو تم دیکھتے کہ وہ دبا جاتا اور پھٹ پڑتااللہؔ کے خوف سے ۔  اس کا مطلب یہ ہوا اس پہاڑ کے اندر ایک روح ہے جسے ہم نہیں سمجھ سکتے ہے ۔ یہ روح پرندوں میں بھی موجود ہے ، درختوں میں بھی موجود ہے اور ہر چیز میں وہ روح موجود ہے جو اس چیز کی بقاء کو ثابت کرتی ہے۔ جب کوئی شخص / انسان چند مشکل  مشقتیں کرکے آہستہ آہستہ اُن درجوں پر پہنچ جاتا ہے،جہاں یہ تمام چیزیں جن میں روح ہے وہ اس انسان سے ہم کلام ہونا شروع ہوجاتی ہے اور وہ ان چیزوں کے ساتھ ایک مخصوص ردھم  یا ان کا ہم نواء ہو جاتا ہے اور اس کی روح اس کے جسم سے نکل کر بہت ساری جسموں کے ساتھ منسلک ہونا شروع ہوجاتی ہے یہ روحانیت کی وہ سطح  ہے۔ جس سے مسلمان بھی متاثر ہوا اور اسے ایک مذہبی چیز سمجھ کر اس کے حصول میں سرگرداں ہو گیا۔۔حالانکہ ہندو ،عیسائی یہودی اور بدھ روحانی پیشوا اس سب میں بہت آگے ہیں تبت میں بیٹھے بدھ بھکشو لوہے کے چمچ آنکھوں سے دیکھ کر ٹیڑھا کر لیتے ہیں۔۔ یا بیٹھے ہوئے ہوا میں معلق  ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح کئی کو پتھروں کی ، درختوں کی خواص علم  شروع ہوجاتا ہے اور وہ ان سے بات کرنا شروع کر ہوجاتے ہیں۔۔ ایسی بہت ساری مثالیں ہم دیکھتے ہے جس میں انسان بہت سی ایسی حرکات کر رہا ہے جو عام آدمی کے بس میں نہیں۔۔ ۔ لیکن تصوف اس سے بلکل ہٹ کے ایک  چیز ہے۔ تصوف کو بنیادی طور پر مسلمانوں کا نام دیا گیا ہے اور اس کے لئے بہت ساری باتیں بنائی گئی جبکہ کوئی اس کی حقیقی نہیں جانتا کیونکہ یہ اسلام۔ میں رہبانیت کے فروغ کا ایک ذریعہ رہا ہے۔۔ اس کی اصل کیا ہے؟ کوئی اسے لباس صوف سے نکال کر تصوف کا نام دیتا ہے اور کوئی اس کو آصحابِ صفہ سے تشریح کرتا ہے لیکن تصوف جو کچھ بھی ہے اس کی بنیادی طور پر 2 کیٹیگریز ہیں ۔ ایک کو “اہل سلوک یا راہ سلوک کے لوگ” اور دوسرے کو “جذب و مستی اور مجذوب لوگ “ ۔کہا جاتا ہے۔۔

 

اہل سلوک وہ لوگ ہوتے ہے جو کچھ بھی کرتے اور عین قرآن و حدیث کے مطابق کرتے ہے اور اسی لحاظ سے وہ منزلیں طے کرتے جاتے ہیں  اور ان کی روح پرواز کرتی جائے گی۔۔ یہ افراد بھی اپنی جان پر غیر معمولی  سختی کرتے ہیں۔۔ جو کم وبیش تمام دیگر مزاہب کے اہل روحانیت سے مشابہ ہے۔۔جبکہ اس کے مقابل عیسائی ، ہندو ، یہودی یا کوئی بھی مذہب کچھ خاص مشقتوں کو ترجیح دیتا ہے۔ تصوف کو کو مزید سمجھنے کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ اسرائییات/ یہودیت ، عیسایت ، ہندومت  اور اہل فارس کے پاس  روحانیت یا (تصوف) کیا تھا ؟ ان سب کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اپ کو پتا چلے کہ برصضیر کے اندر کیسا تصوف جسے اسلامی روحانیٹ کا نام دیا گیا ہے۔رائج ہے۔ یہاں تمام مذاہب میں موجود روحانی مراحل کو میں ان مذاہب کا تصوف لکھوں گا۔۔ 

 

● تصوف اسرائییات / یہودیت :- 

 

یہودیت میں ایک عام لوگ ہوتے ہے اور ایک خواص ہوتے ہے جن کے پاس ایک خاص قسم کا تصوف یا روحانیت  ہوتی ہے جس کی وہ مشقت  اور محنت کرتے ہے اور اس پر عمل پیرا ہیں یہ یہودیت بزرگ شمار ہوتے ہے ۔ یہ جس کو تصوف کہتے ہے وہ ایک مخصوص جادو (قبالہ) ہے جس کا دنیا میں کوئی توڑ نہیں ہے۔ یہ کالے جادو سے زیادہ سخت اور عملی ہے۔۔  اس لفظ کی وجہ تسمیہ ہیبریو۔ عبرانی میں موجود ہے جو کہ مخفف ہے تین الفاظ کا۔ ق۔ ب۔ ل جسکے معنی ہیں “وصول کرنا” یا متبادل طور پر “منہ سے کان” یا “غیرتحریرشدہ قانون” اور تمام تر ایسی باطنی روایات کے مطابق اسکی خفیہ تعلیمات اصل طور پر صرف زبانی ہی منتقل کی جاتی ہیں۔ یہ لفظ “قبل” لفظِ قبال کا ہم معنی اور ایک جیسا بھی ہے جس کے معنی ہوتے ہیں خفیہ تحرک یا باطنی جبلت کے ہیں ۔۔ اس کی ابتدا حضرت سلیمان ٌ کے دور میں ہوئی ۔ اور اس کو قرآن میں ہاروت و ماروت کے واقعے میں بیان کیا گیا کہ یہ وہ علم تھا جو شیطان ان کو سکھاتا تھا تاکہ میاں بیوی میں جدائی ہوں ۔ موجودہ دور کے دو مصنفین جن میں قدرت اللہ شہاب اور بابا یححیٰ خان نے اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے کہ کس طرح اسرائیلی تصوف (قبالہ) والے مسلمان اہل تصوف کے ساتھ کیسے روحانی لڑائی لڑتے رہے ہیں ۔۔  قبالہ کرنے والے کے لئے عمر کی حد 40 سال مقرر ہے۔  انگریزی لفظ Q سے لکھا جانے والا قبالہ تمام سفلی اور شیطانی علوم ہیں، جن کو فری میسن اور الیماناٹی استعمال  کر رہے ہے اور یہی اس وقت پوری یہودیت کو چلا رہا ہے ۔ قبالہ میں ایک "علم جیومیٹریہ" ہے وہ بلکل ایسا ہے جیسا ہمارا علم اعداد ہے ۔ ہمارا علم اعدار قبالہ کی جیومیٹری سے نکلا ہے ۔ قبالہ میں دوسری چیز "نوٹریکون" ہے اور یہ مخفف الفاظ short codes کے ذریعے پیغام رسانی کا کام لیا جاتا ہے اور تعویزات لکھے جاتے ہے اور عمل کیے جاتے ہے جن کو سمجھنا نا ممکن ہے کیونکہ 15 ویں صدی میں بکس نما اشکال بنا کر اس میں حروف ڈالے جاتے تھے جن کو پڑھنے پر وہ ہر طرف سے ایک جیسے دکھتے تھے۔ نوٹریکون کے مخفف الفاظ جن کو بھیجے جائینگے ان کو سمجھ بھی آئینگے اور محسوس بھی کر لےگا ۔ جس طرح آج کل کے  برصفیر کے چنداہل تصوف مسالک  میں 7 یا 10لطائف ہیں ،جو جسم کے مختلف حصوں کو روحانی منازل طے کراتے ہیں ۔ مختلف اذکار کو پڑھا جاتا ہے اور وہ لطائف روشن ہوتے ہے بلکل اسی طرح قبالہ میں 10 لطائف ہے جس کو Qabala Tree کہا جاتا ہے اور اس میں منزل طے کرکے ایک مقام تک پہنجا جاتا ہے۔ 

 

● تصوف ہندومت:- 

 

ہندوازم میں بھی ایک خاص قسم کا تصوف پایا جاتا ہے۔ چونکہ ہندومت قدیم ترین مذہب ہے اس لئے یہ وحدت الوجود کا قائل ہے اور اس میں حلول کے فلسلفے پر عمل پیرا ہے۔ اس فلسفے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز میں اللہؔ / خدا موجود ہے اور اس میں کسی انسان ، جانور یا شے کو پوچنا دراصل اس شے یا چیز میں موجود خدا کو پوجنا ہوتا ہے ۔ اس فلسفے کی مخالفت میں اسلام میں وحدت الشہود کا فلسفہ دیا ہے جس کے مطابق اللہؔ پاک نے 6 دنوں میں زمین اور آسمان کو بنایا اور وہ عرش پر تشریف فرما ہوئے اور اللہؔ پاک ہر شے یا چیز پر اختیار رکھتے ہے اور شاہرگ سے بھی قریب ہیں ۔ ہندومت تصوف میں بت پرستی ، اصنام پرستی، جانور پرستی ,شخصیت پرستی اور دیوتاوں کو اس لئے فروغ دیا کہ ان کے نزدیک ان تمام چیزوں میں خدا موجود ہے اور ان تمام کو پوچنا دراصل اس شے یا چیز کو نہیں بلکہ اس خدا کی پوچا ہے جو انکے اندر موجود ہے۔ اس سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان سب کے حصول کے لئے مختلف مشقتیں اور راستے اپنائے گئے ۔ حضرت سلیمان کی سلطنت ٹوٹنے کے بعد عیسائی اور یہودی رہبانیت کی راہ پر چل دئیے اور سب کچھ چھوڑ کی صحراؤں اور پہاڑوں میں نکل گئے اور یہی کام رہبانیت والا برصضیر میں ہندوؤں نے کیا ۔ وہ جنگلوں اور غاروں میں چلے گئے اور وہاں رہنا شروع کر دیا اور اپنے جسم کو ریاضتوں اور مشقتوں میں ڈال اپنے آپ کو تکالیف پہنچا کر جیسے کہ گرمی ، سردی، بارش اور رتیلی زمینوں پر ننگے بدن کے ساتھ پڑے رہتے ، کنویں میں لٹکے رہتے، کئی دن بھوکے رہتے اس طریقے سے اپنے جسم کو روحانیت اور تصوف میں مضبوط کرتے اور یہ وہ تمام چیزیں ہے جو آپ کو آج کل کے برصضیر کے مسلمان تصوف میں نظر آئینگی ۔ اسے راہ سلوک یا تصوف میں سمجھا ہی نہیں جا سکتا جب تک وہ جسم کو مختلف آزمائشوں میں نہ ڈال لے۔۔حالانکہ اسلام میں جسم پر تشدد کسی صورت جائز نہیں۔۔ نفس کو سدھارنے کا اسلام کا نقطہ نظر تزکیہ ہے ناکہ تشدد۔۔

 

●عیسائیت کاتصوف:- 

 

عیسائیت کے تصوف میں عیسائی حضرت عیسیٰ اور  حضرت یحیی کو اپنا مشعل راہ سمجھتے ہے کیونکہ یہ دونوں انبیاء غربت میں رہے اور شدید سختیاں گزاری اور رہبانیت کو اپنے سامنے رکھا اور ایک مجرد زندگی گزاری جس میں دنیاوی تمام عیاشیاں ختم کر دی ۔جب عیسائیت دینوی کامیابیوں کے سبب مظلوموں کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کا مذہب بننے لگی تو پاپائیت کے منصب کی روحانی اور سیاسی قوت بھی کئی گناہ بڑھ گئی اورچرچ نے عیسٰی کی بھیڑوں سے منہ موڑ کر اپنا رشتہ ظلم اور شاہی سے جوڑنا شروع کیا۔دین اور دنیا کے اس گٹھ جوڑ کے نتیجے میں جو نظام وجود میں آیا وہ کچھ یوں تھا جس میں بچوں پر لازم تھا کہ وہ والدین کا ہر حکم بجا لائیں۔والدین پر پادری اور رزق دینے والے جاگیردار کی تعمیل لازم قرار پائی۔پادری بشپ کے رحم و کرم پر ہوگیا۔بشپ نے بادشاہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے جاگیریں اور قلعے حاصل کرلئے۔جبکہ بادشاہ بشپ کے توسط سے پاپائے روم کو جوابدہ بنا۔حالت یہ ہوئی کہ پوپ نہ صرف دین کا حتمی شارح قرار پایا بلکہ سب سے بڑا جاگیردار اور شہنشاہ بھی بن گیا۔مالی حالت سے قطع نظر ہر شخص پر لازم تھا کہ وہ اپنی آمدنی یا پیداوار کا دسواں حصہ چرچ کے سپرد کرے۔ ان کو آپ آج کے دور کے سجادہ نشین یا وہ مولوی کہہ سکتے ہے جنھوں نے مذہب میں آنے کے بعد Religious Prostitutes کو پیدا کیا جن کو ان دیویوں سے مشابہت دی گئی جن کا مقصد اپنا جسم اس لئے پیش کرنا کہ وہ مزہبی رہنما یا سجادہ نشین یا بزرگ خوش ہو۔۔اور یہ  مزہبی پیشواء ،بابا یا سجادہ نشین یا بزرگ سے خدا خوش ہے، کیونکہ بابا یا سجادہ نشین یا بزرگ  نے زندگی کو چھوڑا ہے اس لیے ان عورتوں نے اپنا جسم ان مقدس ہستیوں کے لئے وقف کر دیا ، اس کی مثال ہندو دھرم میں بھی ملتی ہے ۔ 15ویں صدی عیسویں تک آتے آتے پادری اور پوپ نے اس حد تک اجارہ داری بنا دی کہ وہ جنت کے ٹکٹ فروخت کرنے لگے۔۔ اور گنہگار کو پیسوں اور عیاشیوں کے عیوض جنت  خریدنے کی اجازت ملنے لگی۔۔ آج ہمارے بابا یا سجادہ نشین یا بزرگ اور مولوی حضرات بھی اسی طرح اپنی من مانگی چیزوں کو حصول پر جنت کے ٹکٹ فروخت کررہے ہے اور اگر آپ نے  بابا یا سجادہ نشین یا بزرگ کی بات نہیں مانی یا انکی مانگ پوری نہیں کی یا پیسے نہیں دیے تو آپ جھنمی ہوگئے اور آپ جنتی تب ہی بن سکتے ہین جب آپ ان کو خوش کر دیں اور ان کی خوشی تمام دنیاوی لذتوں پر مشتمل ہے گاڑی گھر ،عورت زیور ۔ یہ سب  تصوف آپ برصضیر کے تصوف میں ہر آستانے پر دیکھ سکتے ہیں اس میں مسلک اور مذہب کی کوئی تمیز نہیں ۔

 

●اہل فارس کاتصوف:- 

 

برصغیر میں سب سے زیادہ اثر سلطنت فارس ( جسے آج شاید ایران سے تشبیہ دی جاتی ہے )کا رہا ہے ۔ سلطنت فارس میں اسلام سے قبل باطنی تصوف پایا جاتا تھا جس کے مطابق جو کچھ آپ کسی شخص میں دیکھ رہے ہے وہ در اصل وہ شخص نہیں ہے جو نظر آرہا ہے اصل شخص وہ ہے جو اندر ہے اور جو کتاب آپ پڑھ رہے ہے اس کے اصل معنی تو کچھ اور ہیں ۔ لیکن ظاہری معنی جاہلوں اور عام لوگوں کے لئے کچھ اور ہین۔۔اسی لئے اس تصوف کو انھوں نے باطنیہ کا نام دیا اور اس باطنیہ میں یہ اتنے مضبوط تھے کہ جب اہل فارس مسلمان ہوئے تو سب سے پہلا نعرہ دنیا میں لگایا گیا وہ یہ تھا کہ قرآن اور حدیث کا آصل مفہوم کچھ اور ہے اور یہ جو سامنے باتیں ہورہی ہے وہ کچھ اور ہیں ۔ اسی لئے آج کل جو شخص روحانیت میں تھوڑا سا آگے جاتا ہے وہ قرآن اور حدیث کے کچھ اور معنی ڈھونڈنے شروع کر دیتا ہے بجائے اسکے جو اسکو سمجھ آرہے ہے ۔ اس چیز نے بہت بڑا تضاد پیدا کیا مذہب میں اور پھر لوگوں نے قرآن اور حدیث کی وہ تاویلیں کرنی شروع کی جو لوگوں کو پسند آتی تھی اور اس طرح لوگ ان لوگوں کے گرد جمع ہونا شروع ہوئے اور اس سلسہ تصوف نے باطن باطن پر اتنا زور دیا کہ اس سلسلے کو اسلام میں سلسلہ باطنیہ کہتے ہے ۔ قرآن کا واضح اعلان ہے کہ 

ترجمہ : وہی ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری اُس میں بعض آیتیں محکم ہیں (جن کے معنیٰ واضح ہیں) وہ کتاب کی اصل ہیں اور دوسری مشابہ ہیں (جن کے معنیٰ معلوم یا معین نہیں)، سو جن لوگو ں کے دل ٹیڑھے ہیں وہ گمراہی پھیلانے کی غرض سے اور مطلب معلوم کرنے کی غرض سے متشابہات کے پیچھے لگتے ہیں، اور حالانکہ ان کا مطلب سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں جانتا اور مضبوط علم والے کہتے ہیں ہمارا ان چیزوں پر ایمان ہے یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہی ہیں، اور نصیحت وہی لوگ مانتے ہیں جو عقلمند ہیں۔ ( آل عمران )

 اہل فارس میں ایک پرانا مذہب جس کو ٹانٹنزم. totemism کہتے ہیں وہ دراصل مظاہر پرستی ہے جو چیز آپ کے سامنے ہے جیسے سورج ، چاند ، درخت، پہاڑ ، جانور کی پرستش کی جائے ۔ یہ آپ کو آج بھی برصغیر کےاسلامی تصوف اور مخصوص مذہب یا فرقہ میں مخصوص جانور جیسے شیر ، گھوڑا وغیرہ کا بہت بڑا کردار نظر آئے گا ۔ یونانیوں میں آپ کو بیل، گائے اور دنبہ شیر اور گھوڑے جیسے جانور کا کا بہت بڑا کردار نظر آئے گا ۔ 

 

●تعویذات  : 

اسی طرح تعویزات کے تصور میں کچھ تو مشہور زمانہ تعویزات ایسے لکھے جاتے ہیں جیسے پہیلی ۔۔ یہ تصور شاید  جسے ایک رومن نے محض دل لگی کی غرض سے بنایا تھا، اس نے کبھی سوچا بھی نہ ہو گا کہ دو ہزار سال بعد بھی یہ بڑے بڑے محققین کے لیے ایک معمہ بنی رہے گی۔ اور وہ ہے ایک 5×5  خانوں کا تعویز جسے ہر طرف سے ایک جیسا پڑھا جا سکے ۔۔ اسے اسکوائر کہا جاتا ہے ۔۔سکوائر کی اصلیت کچھ بھی ہو، یہ تاریخ کا حصہ رہا اور تبدیل ہوتا گیا۔

صدیوں کے دوران اس میں جادوئی خصوصیات  شامل ہوئیں اور اسے برائی یا بیماری سے بچنے کے لیے ایک تعویذ کے طور پر پہنا جاتا رہا ہے۔

یہ کتے کے کاٹنے اور ریبیز سے لے کر دانتوں کے درد، پانی کے خوف، یا پاگل پن تک کسی بھی چیز کا علاج کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

 

قرون وسطی کے جرمنی میں، خیال کیا جاتا تھا کہ سکوائر کے ساتھ کھدی ہوئی ایک ڈسک آگ کو بجھانے کے قابل ہے۔

 

آئس لینڈ میں یرقان کے علاج کے لیے اسے ناخنوں پر کندہ کیا گیا تھا۔ برازیل میں سانپ کے کاٹنے کے علاج کے لیے اسے استعمال کیا گیا۔

 

اسی طرح اگرچہ اس کے اصل معنی اور یہاں تک کہ قدیم ترین تشریحات بھی ختم ہو چکی ہیں لیکن سیٹر سکوائر ایک ایسے دھاگے کی مانند رہا ہے جو وقت اور فاصلے کے باوجود صوفیوں کو آپس میں جوڑتا رہا ہے۔۔۔

 

اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ قرآن دنیا کے بنائے ہوئے ان خداوں ،پیشواؤں اور بزرگوں کے مقابل کیا علم و عقیدہ فراہم کرتا ہے۔۔ اب ہم قرآن کی روشنی میں  سب سے پہلے دئیے گئے  سوالات کو جائزہ لیں گے۔۔ جیسے

سوال نمبر 1۔۔پیر و مرشد غلط نہیں ہوتا ہے اور نہ وہ غلطی کرتا ہے ۔ وہ خدا میں جذب ہو چکا ہوتا ہے ۔  

 

جواب:- 

قرآن سب سے پہلے حضرت یونس کا واقعہ بیان کرتا ہے کہ انھوں نے اپنی قوم کی تعلیم و تربیت کی ۔ قوم 5 لاکھ افراد پر مشتمل تھی ۔ جب قوم نے انکار کیا تو اللہؔ نے فرمایا میں ان کو عذاب دونگا اورسامنے عذاب آگیا ۔ عذاب کا طریقہ یہ تھا کہ عذاب سے پہلے فرشتہ آکر وقت کے نبی کو replace کرتے تھے اور نبی تب تک وہاں ٹہرتا ہے جب تک فرشتے وقت کے نبی کو replace نہ کر لے۔ حضرت یونس جلیل القدر نبی ہیں اور انکا دیا ہوا وظیفہ / دعا  “لَّآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنتَ سُبْحَٰنَكَ إِنِّى كُنتُ مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ” قیامت تک لوگوں کی نجات کے لئے ہے لیکن حضرت یونس سے یہ ہوا کہ جب انھوں نے عذاب کو آنکھوں سے آتا ہوا دیکھ لیا تو آپ قوم کو چھوڑ کے نکل گئے۔ اللہؔ کریم نے اس بات پر اپنے نبی کو پکڑ لیا اور حضرت یونس کو دریا میں پھینک دیا اور مچھلی نے انھیں نگل لیا ۔ جب حضرت یونس کو اللہؔ پاک پکڑ سکتا ہے تو کیا کسی بابے یا سجادہ نشین کو اللہؔ پاک انکے اعمال پر نہیں پکڑ سکتا ہے لہذا قرآن کا ماننے والا کوئی بھی بزرگ خود کو ہر وقت اپنے شاگردوں کے سامنے محاسبہ کے لئے تیار رکھے گا۔۔ ۔ اللہؔ پاک قرآن میں یہ بات بتا رہا ہے کہ نبی کی پکڑ ہوسکتی ہے اگر وہ اپنا کام پورا نا کرے ۔ یہاں ایک اور واقعہ بتانا ضروری ہے کہ وہ حضرت عزیر اللہؔ کے نبی ہے  اور یہودی ان کو خدا کا بیٹا کہتے ہے۔ حضرت عزیر جب یروشلم بیت المقدس میں داخل ہوئے جب سارا  بیت المقدس تباہ ہوچکا تھا حضرت عزیر کے زہن میں سوال آیا کہ کیسے اللہؔ پاک مردے کو زندہ کرے گا ۔ صرف اتنا سوچنے پر اللہؔ پاک نے انکو ۱۰۰ سال نیند میں سلا دیا اور جب اٹھے تو انکا کھانا گرم پڑا تھا اور گدھا مر چکا تھا ۔ ۱۰۰ سال کی پکڑ صرف اس بات / سوچ پر کہ اللہؔ انسان کو مارے گا کیسے اور مردے کو زندہ کیسے کرےگا ۔ جب وقت کے نبی کی پکڑ ہوسکتی ہے تو کیا اگر کوئی بابا یا سجادہ نشین ایسا سوچے تو کیا اس کی پکڑ نہیں ہوگی۔ نبی وہ ہوتا ہے جس کا اللہؔ خمیر ہی الگ بتانا ہے اور ولی وہ ہوتا ہے جس کو اللہؔ نبی کے خمیر سے رنگ لگاتا ہے اور وہ پیدائشی ولی ہوتا ہے ۔ جو مشقت اور محنت سے ولی بنتا ہے وہ صاحب روحانیت ہوتا ہے ۔

اب میں آپ کو  اس بھی سخت آیات  بتا تا ہون جن میں اللہؔ پاک نبی پاک ﷺ کو تنبہیہ کی ہے ۔ کہ اگر خدانخواستہ وہ بھی حق نبوت میں کوتاہی فرمائیں گے تو ان کی بھی گرفت ہو گی۔۔ 

 

سورہ الحاقہ 

 

تَنزِيلٌۭ مِّن رَّبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ

یہ رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے(43

 

وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ ٱلْأَقَاوِيلِ

اور اگر اس (نبی) نے خود گھڑ کر کوئی بات ہماری طرف منسوب کی ہوتی(44)

 

لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِٱلْيَمِينِ

تو ہم اِس کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے(45)

 

ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ ٱلْوَتِينَ

اور اِس کی رگ گردن کاٹ ڈالتے(46)

 

فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَٰجِزِينَ

پھر تم میں سے کوئی (ہمیں) اس کام سے روکنے والا نہ ہوتا(47)

 

علماء کے نزدیک یہ آیات نبی کریمﷺکے لئے نازل کی گئین۔۔ اگر ایسا ہے تو رحمتہ الالعالمین، وجہ تخلیق کائنات بعد از خدا بزرگ کو رعایت نہیں تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کسی بزرگ کو کسی قسم کے مواخذہ سے فرار مل جائے۔۔

 

ایک مرتبہ حضرت عمر خطاب فرما رہے تھے اور کہا اے لوگوں سنوں تو اس بات پر حضرت سلیمان فارسی کھڑے ہوئے اور کہا کے نہ سنے گے اور نا اطاعت کرینگے اس سے پہلے ایک بات کا جواب مانگا اور حضرت عمر نے اس بات کا مکمل جواب دیا ۔ حضرت عمر سے زیادہ جلال والے صحابی کوئی نہیں تھے اور اس وقت وہ امیر المومنین  بھی تھے جو 24 لاکھ مربع میل کے فرمانروائی کر رہے تھے، پھر بھی آپ نے جواب دیا ۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی ایک ولی یا بزرگ سجادہ نشین کا نام دیکھائیے جو مجمعے میں کھڑے ہوکر کسی مرید کے سوال کا جواب دے اور وہ ولی یا بزرگ سجادہ نشین کہے میں بہت اونچی چیز ہوں اور مجھ سے سوال کروانے والے کو مار ڈالوں گا تو اس بات کا صاف مطلب ہوا کہ وہ ولی کامل نہیں ہے کیونکہ اس کے اندر وہ صبر پیدا نہیں ہوا جس کا وہ دکھاوا کرتا ہے ۔ اگر بات ہو نبی پاک ﷺ کی تو آپ پر کفار مکہ نے بہت مظالم کئے اور جب آپ نے قابو پالیا تو سب کے لئے عام معافی کا اعلان کر دیا ۔ ولی اور بزرگ اس بات کا دعوہ کرتے ہے کہ ہم تو نبی پاک ﷺ کی محفل میں ہوتے ہے تو انکا یہ ظرف ہوگا کہ کوئی سوال کرےگا تو وہ خندہ پیشانی سے اسکا جواب بھی دینگے اور اگر وہ ولی اپکے سوال پر ناراض ہوجاتا ہے تو پھر وہ ولی نبی پاک ﷺ کی محفل میں نہیں بلکہ وہ قبالہ جادوگر ہے ، عیسائیت کا راہب ہے ، اہل فارس کا مظاہر پرست ہے کیونکہ یہ نبی پاک ﷺ کی اور صحابہ کی سنت نہیں ہے ۔ حضرت عمر کو خنجر مارنے والے کا خوں آپ نے معاف کر دیا ۔ اگر وہ واقعی آللہؔ کا ولی ہوگا وہ بدلہ نہیں لے گا ۔ لیکن آپ مجھے حلفیہ یہ بتا دیں کہ آپ میں سے کسی نے اپنے بزرگ ،خلیفہ سجادہ نشین امام مسجد سے محفل میں سوال کیا ہو یا تنقید کی  اور اس نے خندہ پیشانی سے جواب دیا ہو۔۔

 

سوال نمبر 2۔۔پیر و مرشد کے گھر والوں ، آباؤ اجداد اور خاندان کو کچھ بولنا یا ان کے اوپر بات کرنا ایسا ہے جیسے آپ اپنے لئے دنیاوی اور آخروی عذاب کو دعوت دے رہے ہے ۔ 

جواب:- 

 نبی پاک ﷺ کے پاس ایک دن حضرت فاطمہ تشریف لائیں ۔ آپ ﷺ کو مال غنیمت کے 5 واں حصےمیں کچھ غلام ملے ہے ۔ قرآن نے نبی پاک ﷺ کے لئے جتنا بھی مال غنیمت ہے اس میں 5واں حصہ اللہؔ اور اللہؔ کے رسول پاک ﷺ کے لئے مختص کیا ہے ۔

 

ترجمہ : اور جان لو کہ جو کچھ غنیمت لو تو اس کا پانچواں حصہ خاص اللہ اور رسول و قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کا ہے ( الانفال)

 

 نبی کریم ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں ستائیس غزوات میں بنفس نفیس شرکت فرمائی اور تقریبا سینتالیس مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو فوجی مہمات پر روانہ فرمایا۔یہاں صرف  غزوہ حنین میں حاصل ہونے والا مال غنیمت جس میں چوبیس ہزار اونٹ، چالیس ہزار سے زیادہ بکریاں، چار ہزار اوقیہ چاندی (ایک لاکھ ساٹھ ہزار درہم کے مساوی) شامل تھی کا پانچواں حصہ جو نبی مکرم کو ملا وہ ۔4800 اونٹ۔8000 بکریاں  32000 درہم 24 لاکھ روپے ،اور 800 اوقیہ  چاندی ۔۔ایک اوقیہ 200 گرام کا ہے یعنی 3کروڑ 50 لاکھ کی چاندی صرف حضور کے حصے میں آئی ۔  حضرت فاطمہ حضرت علی کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے پاس تشریف لائی اور اپنے لئے غلام کی درخواست کی نبی کریم ﷺ نے حضرت فاطمہ سے کہا کہ آصحاب صفہ کا مجھ پر بہت بڑا ذمہہ ہے اور اسکے بعد انکا زمہ ہے جو یتم ہوگئے جنگوں میں اور اسکے بعد انکا زمہ ہے جو بیوہ ہوگئیں جنگوں میں تو میرے پاس کچھ بھی نہیں بچتا میں آپ کو وظیفہ دیتا ہوں آپ ۳۳ مرتبہ سبحان اللہؔ ، ۳۳ مرتبہ الحمد اللہؔ اور ۳۳ مرتبہ اللہؔ اکبر پڑھا کرے اللہؔ آپ کے لئے آسانی کرےگا ۔ نبی کریم ﷺ نے ایک غلام اپنی بیٹی کو نہیں دیا وہ امت کے لئے رکھ دیا اور ہمیں آج کل کے آستانے والے بابے کہتے ہے کہ ولی کے گھر کو چلانا نبی پاک ﷺ کی سنت ہے اور یہ مریدین کی زمہ داری ہے۔ اگر مان بھی لیا جائے کہ ولی کے گھر کو چلانے کی زمہ داری مرید کی ہے لیکن اگر ولی گھر / کوٹھی بنانی شروع کر دے ، مہنگی مہنگی گاڑیاں خریدنا شروع کر دے اور مرید دن بہ دن تباہ ہونا شروع کر دے تو یہ تصوف نہیں بلکہ وہ قبالہ جادوگر ہے ، عیسائیت کا راہب ہے ، اہل فارس کا مظاہر پرست ہے۔ نبی پاک ﷺ کی پوری حیات پاک میں کسی بی بی یا کسی اولاد پاک کی کوئی جائیداد دیکھی ہوں یہاں تک کہ حضرت فاطمہ اپنی چادر مبارک رکھ کر نبی پاک ﷺ کے مہمان کے کھانے کا بندوبست کرتی ہے، حضرت علی اپنے ہاتھوں سے کما کر کجھور لاتے ہے اور نبی پاک ﷺ کوکھلاتے ہے جبکہ وہ نبی پاک ﷺ  کے داماد ہے ۔ آپ آج کل کے سجادہ نشین اور ولی صاحبان کو دیکھے تو وہاں داماد لڑ رہے ہے اور سجادہ نشین اور ولی صاحبان  کی گاڑیوں کے ایک ایک پہیہ کی قیمت 5 لاکھ ہے اور جو مرید دے گا پیسے تو ٹھیک ورنہ وہ مرید جہنم میں جائے گا ۔ اس طریقہ کی دولت سے کئی گھر بن گئے لیکن آج بھی مزید کی کوشش جاری ہے ۔ اور اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق نے 6000 درہم سے زیادہ کا زاد راہ صرف نبی پاک ﷺ  کے ساتھ ہجرت کے وقت ساتھ لیا تھا جو  اج کل کے حساب سے ساڑھے 4 لاکھ روپے بنتے ہیں ، سواری کےاونٹوں کی قیمت علیھدہ ہے اور آپ جب خلیفہ بنے تو 600 درہم ماہوار اپنے لئے مقرر کئے جو آج کل کےب45 ہزار روپے ماہوار بنتے ہیں۔۔

 

پیر و مرشد کے گھر والوں ، آباؤ اجداد اور خاندان کو کیوں کچھ نہ بولا جائے کیوں نہ ان کی عیاشیوں پر تنقید کی جائے  ۔ جب قرآن حضرت نوح کے بیٹے کے بارے میں فرماتا ہے کہ یہ غلط فعل تھا کیونکہ وہ حضرت نوح کے مشن دعوت و تبلیغ میں شامل نہیں ہوا تھا  اور اپنی موج مستی میں تھا اور حضرت نوح کی بیوی آپ پر ہونے والی وحی کو اپنے قبیلے کے لوگوں کو بتا دیتی تھی اور جب اللہؔ پاک کا عذاب آیا نہ بیٹا بچا اور نہ بیوی جبکہ حضرت نوح کے متعلق اللہؔ پاک قرآن میں فرماتے ہے کہ “ہم نے آپ کو عالمین کے لئے بھیجا نبی بنا کر “ رسالت اور نبوت دونوں تھی آپ کے پاس ۔ ایک پیر صاحب جو دعوت و تبلیغ کر رہے ہوں اور ان پیر صاحب کا بیٹا دنیاوی تماشوں میں لگا ہو،اور ہم سے کہا جائے کہ اس کے بارے میں کچھ نہ کہا جائے گا جبکہ اللہؔ کے رسول کا بیٹا اور بیوی نہیں بچ سکتی تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہؔ کو رسول کے صحابہ کے پیروں کی خاک کسی ولی / پیر کا بیٹا تمام زلالت، نشہ اور زنا کررہا ہو ، گمراہی کر رہا ہوں اور ہم یہ کہیں کہ ہمیں اجازت نہیں ہے کہ اسکے بارے میں بات کرے ۔ اللہؔ پاک قرآن میں سورہ تحریم میں فرماتے ہے 

 

ترجمہ: “ نوح کی عورت (واعلہ) اور لوط (علیہ السلام) کی عورت (واہلہ) کی مثال بیان فرمائی ہے، وہ دونوں ہمارے بندوں میں سے دو صالح بندوں کے نکاح میں تھیں، سو دونوں نے اُن سے خیانت کی پس وہ اللہ (کے عذاب) کے سامنے اُن کے کچھ کام نہ آئے اور اُن سے کہہ دیا گیا کہ تم دونوں (عورتیں) داخل ہونے والوں کے ساتھ دوزخ میں داخل ہو جاؤ” 

 

اگرحضرت نوح اور حضرت لوط کی بیویاں اور حضرت نوح کا بیٹا عذاب میں آسکتے ہے اور فرعون کی بیوی بخشی جا سکتی ہے تو بات سمجھنے کی ہے ۔ آج کل کے ولی اللہؔ جو واقعی اللہؔ کا ولی ہوگا اس کی سب سے پہلی نظر اپنے گھر پر ہوگی اور جو سجادہ نشین ہوگا ، قبالہ جادوگر ہوگا ، عیسائیت کا راہب ہوگا ، اہل فارس کا مظاہر پرست ہوگا تو اس کے گھر میں صرف دنیا ہوگی ۔ عملیات والے گھروں میں زنا،ناجائز دولت کا حصول  عام ہوگا ،عامل  اور اسکے بچوں میں بھی یہ تمام خباثت موجود ہو گی آج کے سوشل میڈیا میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں کہ اس طرح کے سجادہ نشین اور پیر فقیر عورتوں پر دست درازی کر رہے ہوتے ہیں یہ نفس اور شیطان ہے۔۔ روحانیت یا تصوف نہیں ۔۔

 

سوال نمبر 3۔۔پیر و مرشد "صاحبِ تصرف" ہوتے ہے اور وہ آپ کی ہر چیز پر ہر طرح کا اختیار رکھتے ہے ۔ 

 

جواب :-

تصرف کے لفظی اردو معنی ہے کہ "کسی کو کسی پر کاروائی کا آختیار ہوں ، کسی کے خلاف اقدام اٹھانا ، کوئی کسی کے اختیار میں دخل دے سکتا ہوں ، کسی کی کارکرگردگی کو متاثر یا کم یا بڑھا سکتا ہو"۔ تو جو شخص صاحب تصرف ہوگا اس کا روحانی طور پر اپنے بچوں اور مریدوں پر اختیار ہو گا اور وہ ان کے معاملات میں دخل دے سکتا ہوگا اور ان کی کارکرگردگی کو متاثر یا کم یا بڑھا سکتا ہوگا ۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو شیطان بھی صاحب تصرف ہوا اور اس تصرف کی اجازت اس نے اللہؔ پاک سے مانگی ہے اور اللہؔ نے اجازت دی ہے 

 

ترجمہ: “اور ان میں سے جس کو تو اپنی آواز کے ساتھ بہکا سکے بہکا لے اور اپنے سوار اور اپنے پیادے ان پر چڑھا کرلے آ اور اموال اور اولاد میں ان کا حصہ دار بن اور انھیں وعدے دے اور شیطان دھوکا دینے کے سوا انھیں وعدہ نہیں دیتا” ( الاسراء)

 

اگر اصل تصرف شیطان کا ہے تو کیا اللہؔ کے ولی کا انسان پر تصرف نہیں ہوگا اور وہ اتنا طاقتور ہوگا کہ وہ شیطان کے تصرف سے نکال کر ایمان کے راستے پر لے ائے۔ اب یہاں یہ کیسے پتا چلے گا کہ ولی کے ساتھ اللہؔ کا تصرف ہے یا شیطان کا ۔ وہ صاحب تصرف جو ولی اللہؔ ہوگا جس کے پیچھے اللہؔ ہوگا اور آپ جب اس سے ملیں گے تو آپ کی دنیا سے رغبت ختم ہو جائے گی کیونکہ وہ صاحب تصرف ہوگا اور اسکے پاس تصرف روحانی ہوگا اللہؔ کا نور ہوگا تو وہ آپ کے اندر سے وہ گندگی نکال دے گا اور اپ کے دل کے اندر خود بہ خود رب کی محبت آجائے گی اور عبادت کی طرف رغبت شروع ہو جائے گی اور اگر ایسا نہیں ہورہا تو اسکا مطلب وہ ولی ولی الرحمان نہیں بلکہ ولی الشیطان ہے ، قبالہ جادوگر ہے ، عیسائیت کا راہب ہے ، اہل فارس کا مظاہر پرست ہے ۔ اس وقت دنیا میں آپ کو جتنے بھی آستانے نظر آرہے ہے یا وہ جگہیں جہاں عملیات اور تعویزات یا علم الاعداد سے علاج ہو رہے ہیں یہ (یہودیت نے بنیاد رکھی)ہوئی ہے وہاں اللہؔ کا نام نہیں چل رہا ہوتا ۔ جب کوئی دنیا کے مسائل کا حل ان کے پاس مانگنے جاتا ہے تو دنیاوی لذتوں کا حصول دراصل نفس ہے لہذا یہ ایسے نفس پرست کو خوب لوٹتے ہیں ۔۔ کیونکہ یہ بھی اندر سے پرستش نفس میں مبتلا ہیں۔۔

 

اگر آپ اور ہم یہ سمجھتے ہے کہ کسی بھی پیر صاحب کا بیٹا یا عملیات کرنے والے کسی بزرگ کے بچے کو اور اس کی بیوی کو کچھ نہ کہا جائے تو اسکا مطلب یہ ہے کہ یزید کو بھی کچھ نہ کہا جائے وہ بھی تو صحابی کا بیٹا ہے ۔ اگر یزید کو گالی دی جاسکتی ہے اور اس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔۔کیونکہ اس نے اللہؔ کے نبی کے نواسے کی بےحرمتی کی بیشک وہ صحابی کا بیٹا تھا اور صحابی کا درجہ ولی سے بہت اوپر ہے تو اس کا مطلب صاف ہے کہ وہ لوگ ایسے عملیات والے جنکا تعلق شیطان سے ہے اور وہ شیطان کے تصرف میں ہے انکی اولاد کو سپورٹ کرتے ہے اور انکے سامنے کھڑے نہیں ہوتے ہے تو اسکا مطلب صاف ہے کہ ایسے لوگ یزیدیت کو سپورٹ کر رہے ہیں۔۔ اور یزید کے عمل کو جائز جانتے ہیں۔ حسینیت کو سپورٹ نہیں کر رہے ہے ۔ اور نہ ہی حسین سلام اللہ علیہ کی قربانی کی قدر کرتے ہیں۔۔ جو انہوں نے جھوٹے کو بے نقاب کرنے میں ادا کی۔۔

 

مین اس  مصمون کے زریعہ آپ کو دعوت دیتا ہوں کبھی اگر اپنے پیرو مرشد اور حضرت صاحب کو آزمانا ہوں جن پر آپ نے بہت پیسا لگایا ہوں اور اپنی عزت آبرو سب کچھ نچھاور کیا ہوں تو کبھی ان سے ایک ماہ کا خرچہ مانگ کر دیکھں۔۔ چند روز کے لئے ان کے گھر کی گاڑی اپنے استعمال کے لئے مانگیں ، ان کی بیوی کا زیور یا کپڑا کسی فنکشن کے لئے مانگیں۔۔کہ وہ آپ کو کیا عطا کرتے ہے۔  نبی پاک ﷺ اور صحابہ اکرام رضوان اجمعین اور تمام اولیاء اکرام جو بڑے بزرگ گزرے ہے ان کے پاس جب بھی کچھ آیا ہے وہ سب انھوں نے اللہؔ کی مخلوق کو دے دیا ۔۔ نبی کریمﷺ ایکڑ وز ایک نیا کرتہ جو انہیں تحفہ ملا پہن کر محفل میں تشریف لائے ۔۔ ایک صحابی نے تعریف کر دی ۔۔ آپ کریمﷺ واپس اندر گئے اور اپنا پرانا کرتہ پہن کر وہ نیا کرتہ ان صحابی کو دے دیا ۔۔

حضرت نظام الدین اولیاء سے ایک سید کچھ مانگنے آئے اس وقت ان کے پاس کچھ نہیں تھا آپ نے اپنی جوتیوں کا جوڑا انہیں دے دیا۔۔ جسے حضرت امیر خسرو  نے 5 لاکھ میں خریدا۔۔ اور اس طرح اس سید کی مدد ہوئی۔۔ آج کا سجادہ نشین یا بابا ہوتا تو  اپنے جوتے بھی نہ دیتا اور اس مرید کو جو 5 لاکھ اس غریب کو دے رہا ہوتا اس سے خود لے کر سید کو 1000 روپے دے کر  جلالی آنکھوں سے دعا دیتے کہ اس بے چارے کی مزید کچھ مانگنے کی ہمت ہی نہ بنتی۔۔

 جنھوں نے اس لیے ذکر و اثکار کی محفلیں اور عبادات  و ازکار  اور گیارہویں کی دیگیں شروع کی کہ انکے بنگلے ، گاڑیاں اور انکی اولادوں کی امریکا / یورپ میں مقیم ہو اور آمدن میں اضافہ ہو یہ قابل گرفت ہین۔۔ آج کے مرید کو ان سے پوچھنا چاہئے کہ مرید کے حالات اتنی تیزی سے کیوں تبدیل نہیں ہو رہے جتنی تیزی سے ان آستانوں ان کے بال بچوں کے دن بدل رہے ہیں۔۔۔

امام بخاری اور امام مسلم کی روایت کردہ متفق علیہ حدیث میں ہے کہ ایک روز جبریل امین علیہ السلام بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں انسانی شکل میں حاضر ہوئے اور امت کی تعلیم کے لیے  تین سوالات عرض کیے : 

 جبریل امین علیہ السلام نے تیسرا سوال احسان کے بارے میں کیا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

 

الإحسان اَنْ تَعْبدَ اللهَ کَانَّکَ تَرَاهُ، فإنْ لَمْ تَکنْ تَرَاهُ فَإنَّه يَرَاکَ.

 

’’احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو (تجھے یہ کيفیت نصیب نہیں اور اسے) نہیں دیکھ رہا تو (کم از کم یہ یقین ہی پیدا کر لے کہ) وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔‘‘

 

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق احسان عبادت کی اس حالت کا نام ہے جس میں بندے کو دیدار الٰہی کی کيفیت نصیب ہوجائے یا کم از کم اس کے دل میں یہ احساس ہی جاگزین ہو جائے کہ اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے۔ یہ مسلمان کا اصل تصوف ہے کہ وہ اپنے ہر فعل میں یا تو یہ سمجھے کہ وہ خدا کے سامنے یہ کام انجام دے رہا ہے  یا یہ سمجھے کہ ہر حال میں اسے خدا دیکھ رہا ہے۔۔ 

 

اُٹھّو! مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو

کاخِ اُمَرا کے در و دیوار ہِلا دو

 

گرماؤ غلاموں کا لہُو سوزِ یقیں سے

کُنجشکِ فرومایہ کو شاہیں سے لڑا دو

 

سُلطانیِ جمہور کا آتا ہے زمانہ

جو نقشِ کُہَن تم کو نظر آئے، مِٹا دو

 

جس کھیت سے دہقاں کو میسرّ نہیں روزی

اُس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو

 

کیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں پردے

پِیرانِ کلیسا کو کلیسا سے اُٹھا دو

 

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب

بشکریہ اردو کالمز