اسامہ اصغر گجر کی سیاست کا پہلا قدم  279

اسامہ اصغر گجر کی سیاست کا پہلا قدم 

اسامہ اصغر گجر کیلئے یہ خوش قسمتی کی بات ہے کہ اسے چوہدری اصغر علی گجر کی سیاسی جدوجہد کا ایسا میدان ملا جہاں کسی تعارف اور محنت کی ضرورت نہیں،چوہدری اصغر علی گجر کو یہ فیصلہ 2018کے الیکشن میں کر لینا چاہیئے تھا مگر دیر آید درست آید،اسامہ اصغر گجر نے بھی اپنے والد کی طرح مزاحمتی سیاست کا انتخاب کیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کا انتخاب ان کی سیاست کا پہلا قدم ہے اور ایک ایسے وقت میں تحریک انصاف کا انتخاب جب اس کے خلاف انتقامی کارروئیاں عروج پر ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے خلاف مقامی انتظامیہ نے ایک غیر قانونی حکومت کے ایما پر غیر قانونی کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے ان کے کاروبار کو ختم کرنے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے،ان کے دوست احباب کو پولیس ہراساں کر رہی ہے اور خود اسامہ اصغر گجر کی ذات پولیس اور انتظامیہ کا نشانہ ہے،وقت گزر جاتا ہے لیکن اپنے پیچھے بہت سے پچھتاوے چھوڑ جاتا ہے،ن لیگ کی نگران حکومت بھی شاید اسے بھگتے،سیاست میں انتقامی کارروائیاں مسلم لیگ ن کا ہمیشہ خاصہ رہی ہیں،اسامہ اصغر کو چوہدری اصغر علی گجر کی ماضی کی مزاحمتی سیاست کو زندہ کرنا ہوگا،ووٹ بنک کی وہ فکر نہ کریں پاکستان تحریک انصاف کا نوجوان ان کیلئے الیکشن کے روز ان کی توقع سے زیادہ نکلے گا اور پاکستان تحریک انصاف کی عوامی مقبولیت کی لہر میں شاید ان کے مد مقابل کا چہرہ بھی نظر نہ آئے،میں کہتا ہوں کہ چوہدری اصغر علی گجر نے اپنی سیاست کو بچا لیا ہے اور اسامہ اصغر گجر کے ساتھ عوامی حمایت کا ایک کاررواں کھڑا کردیا ہے ن لیگ کی سیاست کا یہ حال ہے کہ میاں نواز شریف دوسرا جلسہ نہیں کرسکے،اب اسامہ اصغر گجر سے ان ورکروں کے لواحقین نے بھی امیدیں باندھ لیں جنہیں 9مئی کی آڑ میں مقدمات کا سامنا ہے وہ ایک لائر ہیں امید ہے وہ ورکروں کے لواحقین کی امیدوں پر پورا اُتریں گے اور عدالتوں سے انہیں ریلیف دلائیں گے،اسامہ اصغر گجر کی تحریک انصاف میں شمولیت سے ورکروں کو ایک نیا ولولہ اور جوش ملا ہے اور وہ ورکرز جو کسی امیدوار نہ ہونے سے تذبذب کا شکار تھے،بد دل سے ان میں حوصلہ دیکھ رہا ہوں،تاہم پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز جو امیدوار نہ ہونے سے کسی اور کشتی میں سوار ہونے کا سوچ رہے تھے وہ امید کے ساتھ اب باہر نکلیں گے،اسامہ اصغر کی شمولیت سے ایک بڑا نقصان ملک ہاشم سہو کے حصے میں آئے گا کیونکہ اس کے ساتھ پی ٹی آئی کے ورکرز نے امیدیں باندھ لیں کہ کڑے وقت میں وہ تحریک انصاف کو جوائن کرلین گے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا اور بازی چوہدری اسامہ اصغر گجر لے گئے،ویسے بھی جس طرح دو آزاد امیدواروں لالہ طاہر رندھاوا اور رفاقت گیلانی نے منتخب ہونے کے بعد عوامی ووٹ کی قیمت وصول کرکے کیا، اس سے اب آزاد امیدواروں کے حق میں عوام شاید وہ کردار ادا نہ کر سکیں جو انہوں نے 2018کے الیکشن میں کیا،رفاقت گیلانی،قیصر مگسی،لالہ طاہر رندھاوا اپنی سیاست کا وقت گزار چکے،اب عوامی شعور اس سطح پر نہیں کہ عوام پارٹی وفاداریاں تبدیل کرنے والے کو منتخب کریں یا کسی آزاد امیدوار کو جتوائیں جو کل عوام کے ووٹ کا سودا کر سکے،قسمت بار بار آپ کے دروازے پر دستک نہیں دیتی،اسامہ اصغر گجر کی یہ خو ش قسمتی ہے کہ انہیں الیکشن مہم چلانے کی ضرورت نہیں،8فروری کو عوام ووٹ ڈالنے کیلئے نہیں انتقام لینے کیلئے باہر نکلیں گے،جو لوگ سمجھتے ہیں کہ خلائی مخلوق ان کو جتوادے گی وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں،مقابلہ میدانوں میں ہوتا ہے بند کمروں میں نہیں،عوامی طاقت کے سامنے کبھی کوئی کھڑا نہیں ہوسکتا،میانوالی اور لیہ میں ن لیگ کی نگران حکومت نے مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کے نام تبدیل کر دئے ہیں اس پر پھر لکھوں گا،اعجاز اچلانہ سے اتنا کہنا ہے کہ کریڈٹ اسے ہی ملتا ہے جس نے کام کرایا ہو،مہر فضل سمرا مرحوم کے منصوبوں پر آپ نے اپنے نام کی تختیاں لگوائیں،لیکن مہر فضل سمرا مرحوم کے کریڈٹ کو آپ ختم نہ کرسکے،کوئی امیدوار جو اپنے آپ کو مضبوط سمجھتا ہے اس کا مقابلہ اسامہ اصغر گجر سے نہیں عوام سے ہے،لیہ کی نشست پر ایم این اے کی طرف سے من پسند امیدوار لانے کی وجہ سے ن لیگ ایک بار پھر بدترین شکست سے دوچار ہونے والی ہے،دیر بالا،کرک،سوات،کرم کے جلسوں میں انتظامیہ کی طاقت عوامی طاقت کو نہیں روک سکی،اسامہ اصغر گجر کو دیکھتے ہیں کہ اپنی مزاحمتی سیاست میں کہاں تک کامیاب ہوپاتے ہیں؟

بشکریہ اردو کالمز