کیا ھے تو نے متاعِ غرور کا سودا
فریبِ سود و زیاں لا الہ الااللہ،
کیا دنیا محض ایک فریب ھے ، دھوکہ ہے ،؟ یہ سوالات اکثر زیر بحث ریتے ہیں ، علماء کرام ، دعوت و فکر دینے والے ان الفاظ اور طرزِ دعوت کو زیادہ استعمال کرتے ہیں ، کیا قرآن بھی ایسا ہی کہتا ہے ؟ اور کیا نظام قدرت بھی یہی عندیہ دیتا ہے ؟ یہ بڑے بڑے سوالات ہیں ، اقبال کا مؤقف کس کے قریب تر ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مقبول دعا ھے ، اے اللہ تو میرے لئے دنیا اور آخرت کو شاندار بنا دے اور جہنم کے عذاب سے بچا ، قرآن مجید نے اسے متاعِ غرور بھی کہا حدیث میں آخرت کی کھیتی بھی قرار دیا گیا ، اصل کیا ہے اور اقبال کس طرح اس کی حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہیں ؟
قرآن مجید کا مطالعہ ہو یا حدیث کا یا کسی فکر و دعوت کے فلسفے کا، ھم یا بہت پیچھے رہ جاتے ہیں یا ادھر ادھر نکل جاتے ہیں ، اس میں دو طبقات ہیں ایک اپنے مفاد کی خاطر بھٹکا دیتے ہیں اور دوسرے بھٹک جاتے ہیں ، دنیا کے فریب سود و زیاں کو اگر لا الہ الااللہ کی ضرب سے توڑیں گے تو پھر ہر چیز اپنی جگہ آ جائے گی ، جو لوگ یہ کہتے ہیں دنیا کچھ نہیں ، فریب ھے ، دھوکہ ھے ، کچھ بھی نہیں ، بالکل نفی کر دیتے ہیں ، وہ مایوسی کی پوری مشین ہیں ، جو اس کو سب سمجھ کر اول و آخر کو بھول جاتے ہیں وہ بری طرح بھٹک چکے ہیں ، یہ ان دونوں کے درمیان کا راستہ ھے جہاں سے اچھے طریقے سے گزرنے والا ہی اصل منزل پہ پہنچے گا ، دنیا کا اصل سفر شروع ھوتا ھے معرفتِ ذات سے جب یہ پہچان مل جائے تو دنیا بھی حسین اور آخرت بھی پائدار ، دو پاٹوں میں پسنے کی بجائے آنا اور غرور نہیں ، مقصد تخلیق اور ذات کی معرفت ضروری قرار دی گئی ہے اقبال بھی اسی سفر سے آغاز کر کے دنیا کی حرص و ہوس کا بت توڑنا چاہتے ہیں ، قرآن کا بھی اصل مقصود یہی ہے کہ دنیا کو عمل و جدوجہد کا محور بنایا جائے اب وہ عمل بڑا ھمہ جہت ھے جہاں خدا کی مرضی اور منشاء کو جانے بغیر آگے نہیں بڑھا جا سکتا ، یہ کہہ دنیا کہ دنیا کچھ نہیں ، یہ بھی درست نہیں اور یہ سمجھ لینا کہ دنیا سب کچھ ھے ، اس کو بھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا ، اسی لئے میانہ روی اختیار کرنے کا حکم ھے ، اب یہ میانہ روی کیا ھے کہ مختصر عرصے کے لیے اپنے آپ کو چند حدود میں رکھنا ہے جس کا اختیار بندے کے پاس اور ھدایت رب کے پاس ھے اختیار کے ذریعے آپ نے نیت اور کوشش کرنی ہے ، ھدایت اور رہنمائی کے لیے قرآن مجید اور اللہ تعالیٰ کا فضل ساتھ ھے ، ھم یہ طے کر لیں کہ میرے حقوق و فرائض کیا ہیں ، اس کا ایک مکمل نظم بیان کر دیا گیا ہے کہ والدین سے احسان ، قریبی لوگوں اور رشتہ داروں کے حقوق ، یتیم اور مسکین کا خیال ، مسافروں اور سفید پوش افراد کی خدمت کو اولیت دی گئی ، کیونکہ تربیت اور معاشرہ انہی سے بنتا ہے جس کی اجتماعی شکل جہاں انسانیت ھو وہی اللہ کو پسند ھے ،جہاں دنیا احسن لگتی ہے ، حقوق اللہ میں نماز سب سے بڑی عبادت ، دعا اور علم حاصل کرنا اس کو آگے پہنچانا بڑی عبادات ہیں ، باقی تمام عبادات روزہ ،زکوٰۃ ، حج بعض شرائط کے ساتھ ضروری قرار دی گئیں ،
اقبال بھی خودی کے درس سے مسلسل عمل کی طرف لانا چاہتے ہیں تاکہ انسان کا سفر جو الست سے چلا تھا جاری رہے ، بالکل آسان سمجھنا چائیں تو دنیا ایک مسلسل عمل کا گھر ہے جہاں جتنا بھی رہنا ھے ، اللہ کی رضا سے رہنے کی مسلسل کوشش اور عمل کو یقینی بنانا ہے ، اس کے بعد آپ اپنی مرضی کی چائس کے قابل بن جاتے ہیں جہاں" بتا تیری رضا کیا ہے" کا فارمولا لگتا ہے ، نیت ، مسلسل کوشش ، یقین اور استقامت کا راستہ اپنانے کے لیے قدم اٹھانا پڑے گا اس میں معاش اور معاشرت دونوں میں اعتدال پیدا کرنا ہے ، راستے بہت منزل ایک ھی ھے ،
کیا ھے تو نے متاعِ غرور کا سودا ،
یہ وہ دولت ھے جس کو انسان نے تباہی میں دھکیل دیا ہے حالانکہ کہ یہاں فایدہ و نقصان نہیں سوچا جاتا بلکہ سفر مسلسل وہ بھی اصل کی طرف جاری رکھنا ہے ، مایوسی کو اسی لئے کفر قرار دیا گیا کہ آپ کے راستے میں اگر سنگلاخ چٹانیں بھی آ جائیں تو کوہکن بن جانا ہے سفر در سفر ، تلاش در تلاش اور سبق صرف لا الہ الااللہ! یہی آپ کی حرص و طمع کو توڑ دے گا ، سرکشی اور ظلم کو نہیں پہنپنے دے گا ، جب یہ طے کر لیں کہ اللہ موجود ہے ، اس کو جواب دینا ہے ، پھر طاقت و ظلم پھیل نہیں سکتا ، طاقت ،بادشاہت اور جلال صرف اسی کو زیب دیتا ہے ، انسان اپنے خالق کا بنایا ہوا ایسا کردار ہے جس نے عمل سے ثابت کرنا ہے کہ وہ کتنا بہترین ھے وہ اپنے خالق کی کیسے پہچان کراتا ہے سب انسانوں کے لیے یہ اصول طے شدہ ھے ،دونوں جہاں کی خوشنودی مگر کیسے؟
انہی سوالات سے آغاز کیا تھا جس کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے ، کسی مصلح ، مبلغ اور مفکر کی طرح نہیں آسان الفاظ میں کہ علامہ اقبال کا فلسفہ و فکر دراصل انسان کو شدت پسندی اور مایوسی دونوں سے نجات کے لیے ھے دنیا کو یہ کہہ کر نظر انداز کر دینا کہ یہ کچھ نہیں اور یہ سمجھ لینا کہ دنیا سب کچھ ھے ، ایک مایوسی اور دوسرا غرور اور لالچ ھے ، جئیے اور جینے کا درس دیں ، سفر بہرحال جاری رکھنا ہے ، وہ بھی مسلسل ، رکاوٹ کوئی نہیں ہے
433