عالمی سطح پرمیڈیکل دنیا میں انقلابی اقدامات برپاکرنے والا پاکستانی نوجوان
امریکہ میں بیٹھ کر دنیا بھر کے میڈیکل اسٹوڈنٹ کے لیے آسانیا ں پیدا کرتا ہوں
آئی ایم جی ہیلپنگ ہینڈزکے بانی و سی ای او ڈاکٹر زین العابدین کا پرکشش انٹرویو
تحریر: ظفر اقبال ظفر
مختلف شعبہ جات میں نمایاں کارکردگی سے پاکستان کا نام روشن کرنے والے سینکڑوں لوگ اس دھرتی پر کامیابیوں سے پہنچانے جاتے ہیں مگرکچھ اس دھرتی پر جنم لینے والے ایسے دیوانے بھی ہیں جو اس ملک پاکستان کو ناصرف اندرونی طور پر بلکہ بیرونی طور پر بھی انسانیت کے اعلی خدمت گزاروں کے طور پر پیش کرنے میں نتیجہ کن مقام پر مثال کے طور پر کھڑے ہیں یہی لوگ انسانیت و پاکستانیت کے حقیقی سفیر ہوتے ہیں جن کے اندر احترام آدمیت کا جذبہ اس انداز میں مچلتا رہتا ہے وہ انسانیت کو مسیحا کی نظر سے دیکھتے ہوئے ان کے وجود پر بیماریوں کے لگے گہرے زخم بھرنے کے واسطے اپنے وجود کو مرہم کی ماند بنا لیتے ہیں اور بنا کسی انتظار کے کہ کوئی ضرورت مند ان تک پہنچے بلکہ یہ تکلیف زدہ انسانوں تک پہنچنے کی راہیں تراشتے رہتے ہیں یہ کوئی کہانی نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ایک ایسے نوجوان کی داستان حیات ہے جس نے دنیا کو یہ بتایا کہ پاکستان کی دھرتی پر بسنے والے خدا کے محبوب نیک محب وطن والدین کے بچے اپنے خون و تربیت کے کردار کی طاقت سے ملک و قوم کا نام روشن کرنے میں اپنا لوہا منوا سکتے ہیں تو آئیے آپ کو پاکستان کے بیٹے سے ملواتے ہیں۔ ڈاکٹر زین العابدین ایک ٹریل بلیزنگ ڈاکٹر ہیں جو پاکستانی پنجاب کے ایک چھوٹے سے شہر ٹوبہ ٹیک سنگھ میں تجارت و کاشتکاری سے منسلک گھرانے میں پیدا ہوئے اوراسی شہر میں پرروش پاتے ہوئے اپنی ابتدائی تعلیم کو عالمی سطح کے عروج تعلیم تک لیکرپہنچے۔ڈاکٹر زین نے اپنے معاشرے میں علاج اور ادوایات سے محروم لوگوں کے درد کواپنے سینے میں محسوس کیا اور فیصلہ کیا کہ وہ اپنی زندگی کو میڈیکل کے شعبے میں لگا ئیں گے اور اس پیمانے پر کام کریں گے کہ پوری دنیا میں جہاں بھی علاج اور دوائی سے محروم لوگ بستے ہیں ان کی نا صرف مدد کی جائے بلکہ انہی کے حلقے سے میڈیکل کے سٹوڈنٹ کو عالمی سطح کی سہولیات سے ہمکنار کرکے بیماریوں میں پھنسے انسانوں کی دیکھ بھال پر لگایا جائے تاکہ کوئی بھی بیماری سے لڑتی انسانی زندگی علاج سے محروم ہو کر موت سے پہلے مرجانے والے حاداثات کا شکار نہ ہو۔ ڈاکٹر زین نے میڈیکل کالج فیصل آباد سے میڈکل کیا گھریلو ملازمت سے فارغ ہو کر اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ چلے گئے جہاں بیمار و دکھی انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار ڈاکڑ زین دنیا کے سب سے قابل ترین طاقتور طبیب راہنماؤں میں سے ایک بن گئے۔ان کا بنیادی مقصد امریکہ کے ڈاکٹروں کو پاکستان کے مریضوں سے جوڑنے کے لیے ٹیلی میڈیسن کا استعمال شروع کرنا ہے تاکہ متاثرہ و مستحق افراد کو مفت طبی امداد فراہم ہو سکے جہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت بھی ہے وہ اس منصوبے کو اگلے دس سالوں میں سب سے آگے جانے والوں منصوبے کے طور پر دیکھتے ہیں ڈاکٹر زین نے دور حاضر کے جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دنیا بھر میں طبی سہولیات کی ترقی و فراہمی کے لیے 2022میں ایک پلیٹ فارم کا آغاز کیا جس کا نام آئی ایم جی ہیلپنگ ہینڈز رکھا جس کے زریعے ڈاکٹر زین اور ان کی ٹیم نے گزشتہ سال چوبیس فیصد اضافے کے ساتھ دنیا بھر کے میڈیکل تعلیمی اداروں کے تین سو پچاس سے زائد سفیروں کے ساتھ شاندار اشتراک کرتے ہوئے طبی کامیابی کے سفر طے کیے اپنے وژن اور لگن کے ساتھ ڈاکڑ زین طبی پیشہ ور افراد کا ایک عالمی نیٹ ورک بنانے کی راہ پر گامزن ہیں جو مذہبی ملکی تفریق کے بغیر فقط انسانیت کے رشتے سے دنیا بھر کے بیماریوں میں جکڑے انسانوں کو صحت مند زندگی گزارنے کی سہلولیات سے منسلک کرئے گا اور پہلے سے ہی صحت مند افراد کو بیماریوں سے تحفظ دلانے والے اقدامات پیش کرنے جا رہے ہیں۔آئی ایم جی ہیلپنگ ہینڈز کے بانی و سی ای او ڈاکٹر زین میڈیکل اسکول کے دوران ایک راہنما کے طو رپر متعدد تنظیموں میں اپنی قابلیت کا حصہ ڈال کر محروم کمیونٹی کی مدد کرنے میں بھی تاریخ رقم کر چکے ہیں وہ EMEDفلاحی تنظیم کے جنرل سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں ایک ہی وقت میں متعدد ریاستوں میں طبی کامیابیوں پر مبنی تجربہ حاصل کرنے ڈاکڑ زین نیو یارک میں ایک محدود لائسنس یافتہ معالج کے طور پر کام رہے ہیں ڈاکڑ زین طبی برادری میں بھی معروف شخصیت کے طور پر قابل اہمیت سمجھے اور مانے جاتے ہیں ملکی میڈیکل طلباء اور بین الاقوامی میڈیکل گریجویٹس کے درمیان اس کمیونٹی کی مدد کرنے کے لیے انہوں نے امریکن ریڈ کراس ہینڈز انٹرنیشنل ڈیلماروا بلڈ بنک اور میڈیکل سوسائٹی آف ڈیلاویئر میں آسانیوں کامیابیوں سے منسلک منفرد نتائج دلانے میں خاص رول ادا کیا مختلف ممالک میں طبی مشن کی کامیابیوں میں حاصل ہونے والے تجربات میں ماہر نفسیات کی طرح اپنے میڈیکل تجربات کے اشتراک سے طبی دنیا کے لیے نئے راستے اورطریقے اتجادکیے اور ان پر گہری گفتگو بھی کرتے ہیں یہ شاید قدرت کا کوئی کرشمہ ہے یا قدرت ان سے کوئی بڑا کام لینا چاہتی ہے جو ان کو زمینی علوم کے ساتھ ساتھ آسمانی علوم سے بھی ملواتی ہے تاکہ دُکھی انسانیت کی خدمت کرکے قدرت کا ہاتھ بٹایا جا سکے۔ایک خود قابل بننا اور دوسرا دوسروں کو اس قابلیت تک پہنچانا کسی عام انسان کے بس کا روگ نہیں وہ نا ممکن کو ممکن بنا کر میڈیکل دنیا میں انقلاب برپا کر رہے ہیں ڈاکٹر زین اپنی عمر سے بڑے مقام اور قابلیت پر سچائیوں کے ساتھ پہنچے وہ انسان ہیں جو میڈیکل دنیا کے طالب علموں کے لیے ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پائے ہوئے مقام پر پہنچانے کا عزم رکھتے ہیں وہ میڈیکل تعلیمی اداروں میں اپنی تبلیغ پہنچانے کا حوصلہ رکھتے ہیں ان کی دعوت میڈیکل طالب علموں کو کامیابی سے ہمکنار کروانے کا کھلا اور عام پیغام ہے تاکہ میڈیکل سے منسلک احباب اور طالب علم بیمار معاشرے میں صحت پر انقلابی اقدامات سے پہچانے جائیں اسی لیے انہوں نے دنیا بھر کے میڈیکل اسٹوڈنٹ کے لیے IMGsآئی ایم جی ہیلپنگ ہینڈزکی بنیاد رکھی۔ڈاکٹر زین انوکھے چیلنجوں کو نا صرف سمجھتے ہیں بلکہ ان کے حل پر بھی مکمل عبور رکھتے ہیں اسی قابلیت پر انہیں مختلف پلیٹ فارم سے اعزازی تعریفی سرٹیفکیٹ ایوارڑ شیلڈ سے نوازا جاتا ہے ملکی و غیر ملکی مختلف پرنٹ اینڈ الیکڑونک میڈیا پر انہیں میڈیکل مسائل اور ان کا حل جیسے موضوعات پر بلوایا جاتا ہے جس پر ڈاکٹر زین احسن انداز میں گفتگو کرتے ہوئے ناصرف اپنے تجربات و قابلیت سے آسانیاں پیدا کرتے ہیں بلکہ اپنے شعبے کے ثمرات سے ملوانے کا بھی پیغام دیتے ہیں وہ ایک ٹیم کے ساتھ بڑی محنت و کوشش سے دنیا بھر میں اپنے پلیٹ فارم کے دائرے کو بڑھاتے چلے جارہے ہیں ڈاکٹر زین کے ادارے سے کئی افراد ناصرف مستفید ہو چکے ہیں بلکہ اپنے اپنے مقام پر حیرت انگیز نتائج سے کامیابیاں بھی سمیٹ رہے ہیں۔ڈاکٹر زین کا کہنا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب دنیا بھر کے میڈیکل اسٹوڈنٹ نا صرف موجودہ بلکہ آنے والے وقت میں بھی طبی تقاضوں کی ضروریات کو کامیابی سے پورا کرنے کے لیے ہمارے پلیٹ فارم سے فائدہ اٹھائیں گے بلکہ وقت ثابت کرئے گا کہ میڈیکل دنیا کے لیے آئی ایم جی ہیلپنگ ہینڈزجیسا ادارہ کتنا ضروری ا ور مددگار اہمیت کا حامل ہے۔ سرکاری ہسپتال و دیہی مراکزکے انتظامی امور پر بڑے پیمانے پر عوام کو علاج سے مستفید کرنے کے لیے ڈاکٹر زین جیسے قابل انسان سے مشاورت کرکے پالیسی و قوانین تشکیل دئیے جائیں تو انقلابی ثمرات حاصل ہو سکتے ہیں ڈاکٹر زین نے دنیا بھر میں طبی ضروریات پوری کروانے والے احباب کے لیے اپنے دل کے دروازے کھول رکھے ہیں