یہ چار دن آج بروز جمعہ سے شروع ہو رہے ہیں۔ یعنی جمعہ ہفتہ، اتوار اور سوموار۔ امکان ہے کہ سوموار پندرہ مئی تک صورت حال جوں کی توں رہے گی۔ جگہ جگہ احتجاج ہو نگے، گرفتاریاں ہونگی۔ کالج اور اسکول بند رہیں گے۔لوگ زخمی ہوں گے، شہادتوں کا بھی خطرہ ہے۔ پندرہ تاریخ تک فیصلہ ساز حالات کا جائزہ لیں گے پلس چیک کریں گے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ سنیں گے۔ اس عرصہ میں عمران خان پر دباؤ بڑھائیں گے۔ کہا جارہا ہے کہ فیصلہ ساز ذاتی طور پرعمران خان سے مایوس ہیں۔ ان چار دنوں میں کتنی تباہی ہوتی ہے۔اللہ خیر کرے۔شاید انہیں اس سے بھی کوئی غرض نہیں۔یعنی عمران خان کی گرفتاری جس کیس میں کی گئی ہے۔ وہ اصل مسئلہ نہیں۔ اصل مسئلہ انتخابات ہیں۔ اصل مسئلہ پاکستانی قوم ہے جو عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے۔اس کے لیے اپنی فوج کے جرنیلوں سے لڑنے پر تیار ہو گئی ہے۔
ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل طلعت مسعود نے کہا ہے کہ ”بظاہر اس پورے معاملے میں بڑا نقصان فوج اور ملک کا ہوا ہے۔ پہلی بار عوام جی ایچ کیو اور فوجی رہائش گاہوں میں داخل ہوئے۔ جس وقت تک فوج سیاست میں مداخلت کرتی رہے گی بحران مزید بری صورت اختیار کرتے رہیں گے۔“
میری پی ٹی آئی کے ایک نقاب پوش کارکن سے بات ہوئی۔ میں نے اس سے سوال کیا کہ یہ جو کچھ تم کر رہے ہو تمہارے خیال میں درست ہے۔ تمہارے لیڈر نے زندگی بھر قانون ہاتھ میں نہیں لیا تو وہ کہنے لگا۔ ”ہم 75 سالہ بادشاہت کا خاتمہ چاہتے ہیں اور بادشاہتیں اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوا کرتیں۔امام خمینی نے ایران میں شاہ ایران کی بادشاہت کا خاتمہ کیا تھا تو سینکڑوں ایرانیوں کو جان کے نذرانے دینے پڑے تھے۔‘‘
عمران خان کو جس کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔ وہ ایک یونیورسٹی بنانے کامقدمہ ہے۔ تصوف کی یونیورسٹی۔ جس میں دنیا بھر سے طالب علم بھی اس وقت تعلیم حاصل کررہے ہیں پھر وہ یونیورسٹی پرائیویٹ نہیں۔ ایک ٹرسٹ کے تحت چلائی جارہی ہے۔ اس ٹرسٹ کی سربراہ عمران خان کی وائف بشریٰ بی بی ہیں۔اس یونیورسٹی کیلئے القادر ٹرسٹ کو یہ زمین بحریہ ٹاؤن کے مالک نے عطیہ کے طور پر دی ہے۔یہ زمین سوہاوا میں ہے اور اس زمین کی قیمت بھی کچھ زیادہ نہیں تھی۔ ہاں یونیورسٹی کی تعمیر کے بعد اردگرد کی زمینوں کے ریٹ بڑھ گئے ہیں۔ الزام یہ ہے کہ عطیہ کرنے والوں نے یہ زمین اس لئے عطا کی ہے کہ بحریہ ٹائون کی جو ساٹھ ارب روپے کی رقم برطانیہ میں منجمد ہونے کے بعد پاکستانی حکومت کے حوالے کی گئی۔ وہ بحریہ ٹاؤن کراچی کے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بحریہ ٹاؤن کے ذمے واجب الادا 460 ارب روپے کی رقم میں ایڈجسٹ کر دی جائے۔ یہ ایڈجسٹمنٹ کر دی گئی۔ اس میں غیر قانونی کوئی عمل ہوا نہیں۔ بحریہ ٹاؤن کے جو ساٹھ ارب حکومت کے پاس تھے بحریہ ٹاؤن والوں کو واپس کرنے کی بجائے حکومت نے اپنے پاس رکھےاور اس رقم میں ایڈجسٹ کرلیا جو حکومت نے بحریہ ٹاؤن سے لینی تھی۔ پھر یہ فیصلہ بھی عمران خان کا نہیں کیبنٹ کا تھا جسے عدالت میں بھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ کجا کہ نیب اس پر کوئی کیس بنائے۔ یونیورسٹی کو یہ زمین بحریہ ٹاؤن والوں نے دی تھی۔ نہ تو نیب والوں نے بحریہ ٹاؤن والے کو گرفتار کیا نہ اس سے پوچھ گچھ کی گئی۔ الٹا عمران خان کو اس کیس میں گرفتار کرلیا گیا۔ یہ کیس بنتا ہی نہیں۔خیر کیس تو ایک سو چھبیس اور بھی بنائے ہوئے ہیں۔ کیسوں سے کوئی فرق نہیں پڑتامگرقوم نے عمران خان کی گرفتاری کو قبول نہیں کیا۔
حکومت کی طرف سے مسلسل یہی کہا جارہا ہے کہ پی ٹی آئی شرپسندوں کا ایک ٹولہ ہے۔اگر یہ صرف ایک ٹولہ ہے۔پوری پاکستانی قوم نہیں تو پھر حکومت انتخابات سے کیوں بھاگی پھر رہی ہے۔ کہتے ہیں پاکستان وہ ملک ہے جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ایسی صورت میں الیکشن میں دھاندلی کرا کے حکومت جیت سکتی ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ دھاندلی میں دس پندرہ فیصد ووٹ ڈالے جا سکتے ہیں۔ یہاں تو یہ صورتحال ہے کہ حکومتی امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہو جائیں گی۔
عمران خان کوچاہے جیل میں رکھیں چاہے باہر، چاہے کسی اور دنیا میں مگر اب عمران خان سے جان نہیں چھڑائی جا سکتی۔اگلے چار دن پلس چیک کرنے والوں کو مکمل اندازہ نہیں کہ یہ نام صدیوں کسی آسیب کی طرح ان کا تعاقب کرے گا۔اب موجودہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی کہہ دیا ہے کہ ”پیپلز پارٹی شروع سے نیب کے خلاف ہے، پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ ہمیں نیب کے ادارے کو بند کرنا ہو گا۔ پاکستان کی تاریخ میں بہت سے سیاہ روز ہیں، پیپلز پارٹی اصولی طور پر کبھی خوشی نہیں مناتی جب کوئی سیاستدان گرفتار ہو، سیاست دان گرفتار ہوتے ہیں تو پوری سیاست کا نقصان ہوتا ہے، سیاست دانوں کی گرفتاری پر ہم کبھی جشن نہیں مناتے، نہ مٹھائی بانٹتے ہیں“۔ لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی اپنی عزت بچانے کا سوچ رہی ہے۔ اسے اندازہ ہو گیا کہ پنجاب سے نون لیگ فارغ ہو گئی ہے اگر یہی صورتحال رہی تو سندھ سے پیپلز پارٹی بھی فارغ ہوسکتی ہے۔
عمران خان کے پرانے ساتھی اور پی ٹی آئی کے بانی رکن مظہر ساہی نے کہا ہے۔ ”حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ جتنے لوگ اس وقت سڑکوں پر ہیں کیا پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی اتنے لوگ باہر نکلے ہیں۔ یہ اس بات کی گواہی ہے کہ پوری قوم کے دل عمران خان کے ساتھ دھڑک رہے ہیں“۔