چمن سرحد پر افغان سکیورٹی اہلکاروں کی بلا اشتعال اور بلا امتیاز پاکستان کے عام شہریوں پر فائرنگ پہلا واقعہ نہیں لگ بھگ ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں گڑ بڑ اور جھگڑا ہو رہا ہے۔ابھی پچھلے مہینے ایسے واقعہ میں پاکستان کا ایک سرحدی محافظ شہید ہوا تھا۔ 11دسمبر کو ہونے والی بلا امتیاز فائرنگ نے 6پاکستانی شہریوں کی جان لی اور 17افراد زخمی ہوئے۔بلوچستان کے سرحدی علاقے میں چمن کا باب دوستی 7قبائلی اضلاع کے لوگوں کے لئے افغانستان جانے کا راستہ ہے۔ افغانستان کے شہر قندھار اور اس کے قرب و جوار کے شہروں کے لئے پاکستان سے خوراک‘ ادویات‘ سبزیاں وغیرہ اسی باب دوستی سے افغانستان بھیجا جاتا ہے۔ پاکستان برادر مسلم ہمسائے کی بین الاقوامی مشکلات کم کرنے کی کوشش میں رہا ہے‘ یہ کوششیں اب بھی جاری ہے۔چند ہفتے قبل وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر افغانستان گئیں۔پاکستان افغانستان میں غیر قانونی مسلح گروپوں کی غیر ذمہ دارانہ سرگرمیوں پر تحفظات رکھتا ہے۔یہ گروپ روز بروز افغان سرزمین پر ٹھکانے بنا رہے ہیں۔افغانستان میں پاکستان کے سفارت کاروں پر حملہ کیا گیا۔سرحدی کشیدگی میں وقفے وقفے سے اضافہ کیا جاتا ہے۔کبھی پاکستان سے جانے والے ٹرک سے پاکستان کا پرچم اتار لیا جاتا ہے‘ کبھی سرحدی محافظوں پر فائرنگ کر دی جاتی ہے اور کبھی پاک افغان سرحد پر نصب باڑ کو اکھاڑنے کی کوشش ہوتی ہے۔یہ سب واقعات برادرانہ تعلقات کے منافی ہیں۔ افغانستان سے امریکی انخلا کے لئے مذاکرات کے جتنے ادوار ہوئے ان میں طالبان کو اقتدار سونپنے کی بات ہوتی رہی۔ان مذاکرات میں افغان طالبان سے تقاضا کیا جاتا رہا ہے کہ امریکی انخلا کے بعد اگر وہ اقتدار میں آتے ہیں تو انہیں افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا ہو گا۔ انخلا کے دوران اور اس کے بعد تک افغان طالبان یہ اقرار کرتے رہے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کسی ہمسایہ ملک کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے لئے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔حالیہ واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ افغان طالبان کی حکومت انخلا کے دوران کئے گئے وعدے کا پاس نہیں کر رہی بلکہ کئی بار تحریک طالبان افغانستان اور دہشت گرد گروپوں کے درمیان رابطے اور تعاون کی شکلیں بھی نظر آتی ہیں۔ پاکستان نے بارہا تحریک طالبان افغانستان کو سیاسی رابطوں کے دوران کہا کہ افغان سرزمین پر پاکستان مخالف عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔یہ کارروائی اس لئے بھی اشد ضروری ہے کہ امریکی قیادت میں مغربی ممالک کے اتحاد نے افغانستان میں نان سٹیٹ ایکٹرز کو پھیلنے پھولنے کی گنجائش دیے رکھی جس سے افغانستان کی سرزمین سے علاقائی امن کے لئے خطرات پیدا ہوتے رہے۔پاکستان نے افغانستان کے مسلح گروہوں اور خود افغان طالبان کے سامنے کئی بار احتجاج کیا کہ وہ علاقے کے امن کو خطرے میں نہ ڈالیں لیکن پاکستان کی یہ اپیل اور کوشش ہر بار بیکار جاتی رہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج کی صلاحیت پر کسی کو شک نہیں۔افغانستان کی جانب سے جب کبھی سرحدی جھگڑا شروع کیا گیا پاک فوج نے ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کیا۔افغان اہلکاروں کی اشتعال انگیزی کے جواب میں بہت محدود انداز میں صرف اس قدر فوجی ردعمل دیا گیا جو بہت ضروری تھا۔اس سے افغانستان کے شہریوں کی جان محفوظ رہی۔ پاک فوج کی اس حکمت عملی سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان اپنے برادر ہمسایہ ملک کے لئے خیر خواہی کے جذبات رکھتا ہے۔ طالبان حکومت پر منحصر ہے کہ وہ مسلح اور پرتشدد واقعات کے ذمہ داروں کو روکتے ہیں یا پھر ان کی امن دشمن سرگرمیوں سے آنکھیں موندے رکھتے ہیں۔یہ بات تو طے ہے کہ افغان طالبان زیادہ عرصہ ایسے شرپسند عناصر کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔دنیا افغان طالبان کو پوری طرح قبول نہیں کرتی۔افغان طالبان نے اگر عالمی برادری سے کیا گیا وعدہ پورا کرنے میں سستی دکھائی تو افغانستان میں حالات نئی کروٹ لے سکتے ہیں۔افغان طالبان کے خاموش تماشائی بنے رہنے سے ناصرف پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بداعتمادی پیدا ہو گی بلکہ خطے میں سکیورٹی کے امور بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ پاکستان نے افغانستان کی ہمیشہ مدد کی‘ہمیشہ چاہا کہ برادر ملک میں امن ہو‘افغانستان کی تجارتی و معاشی حیثیت اجاگر کرنے کی کوشش کی۔افغان عوام جب سوویت جارحیت کا شکار ہوئے تو پاکستان نے مال اور جان کی قربانیاں دیں۔ 50لاکھ مہاجرین کو پناہ دی۔نائن الیون کے بعد پاکستان مدد نہ کرتا تو آج حالات کچھ اور ہوتے۔اس سب کے بدلے صرف یہ چاہا کہ افغان سرزمین پاکستان کی سلامتی کے خطرہ نہ بنے۔پاکستان نے طالبان حکومت کے حق میں عالمی مذاکرات میں پرزور حمایت دکھائی۔اب جب پاکستان چاہتا ہے ٹی ٹی پی اور اس کے اتحادی کالعدم گروپوں کے خلاف افغان طالبان کارروائی کریں تو ان کا ردعمل اطمینان بخش نہیں۔افغان طالبان نے ان گروپوں کے خلاف کارروائی نہ کی تو افغان سماج ایک بار پھر گروہی لڑائی کا شکار ہو جائے اور سرحدی کشیدگی بڑھنے سے افغانستان کی تجارت و معیشت بھی بحران کا شکار ہو جائے گی۔ ٭٭٭٭٭
311