افغان اور پاکستانی طالبان 245

افغان اور پاکستانی طالبان

باجوڑ دھماکے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی۔ داعش اور طالبان کے گٹھ جوڑ سے کسی کو انکار نہیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے بھی کہا تھا کہ وہ اس گٹھ جوڑ سے آگاہ ہیں۔حقیقت حال یہ ہے کہ افغانستان میں آپسی ناراضیوں کے سبب ا فغان اور پاکستانی طالبان نے اپنانام داعش رکھ لیا تھامگرکابل پر طالبان اقتدار کے بعد یہ سب ایک ہو گئے۔یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ٹی ٹی پی کو ساری فنڈنگ، ٹریننگ اور اسلحہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی’’ را‘‘ فرہم کرتی ہے۔جب امریکہ گیا اورطالبان کی حکومت آئی تو بھارت پریشان تھا اسے خطرہ تھا کہ اب اسے افغانستان سے نکلنا پڑے گا مگر ٹی ٹی پی نے طالبان حکومت اور بھارت میں رابطے کے پل کا کام کیا۔یوں بھارت کے افغانستان میں قدم مضبوط ہوئے۔ طالبان حکومت نے ٹی ٹی پی کومبینہ مشورہ دیا کہ پاکستان میں نام بدل کر دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھے،موجودہ نام کے ساتھ اگر یہ کام جاری رکھا گیاتو ہمارے لئے دشواریاں پیدا ہونگی،ہم دوحہ میں یہ وعدہ کر چکے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین اب کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔بہرحال ٹی ٹی پی نے جو کچھ کرنا ہے اسکی ذمہ داری قبول نہیں کرنی۔سو ٹی ٹی پی نے ایک نئی تنظیم کا نام استعمال کرنا شروع کردیا۔ژوب میں دہشت گردی کی ذمہ داری ’’جہادِ پاکستان آرگنائزیشن‘‘ نامی ایک تنظیم نے قبول کی۔اب باجوڑ دھماکے کی ذمہ داری داعش نے لے لی لیکن دہشت گردی کے ہر واقعہ کی تفتیش میں یہی پتہ چلا کہ دہشت گردوں کا تعلق افغانستان سے ہے۔افغانستان میں بھی ایجنسیوں نے جب ان کا کھوج لگایا تو یہی پتہ چلا کہ یہ لوگ انہی ٹھکانوں میں مقیم ہیں جو ٹی ٹی پی کے ہیں۔ایسی صورتحال میں پاکستان کیسے ٹی ٹی پی کیخلاف کارروائی کرنے سے رک سکتا ہے۔صرف یہی نہیں ٹی ٹی پی میں افغان طالبان کی ایک بڑی تعداد شامل ہے، ثبوت یہ ہے کہ ژوب کے حملے میں نو دہشت گرد ہلاک ہوئے ان میں سے چھ افغان طالبان تھے۔اب چونکہ طالبان کے پیچھے انڈین ذہن کام کررہا ہے۔اسلئے وہ اس کوشش میں ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی بھی کراتے رہیں اور افغانستان میں حکومت کے فوائد بھی حاصل کرتےر ہیں۔مگراب یہ دونوں کام اکٹھے نہیں چل سکتے۔امریکہ کے جانے بعد طالبان بھارت کی گود میں جا بیٹھے ۔جاتے ہوئے امریکہ کے ساتھ طالبان نے جو کچھ کیا ۔ امریکہ اسے بھول نہیں سکتا۔پاکستان کو چاہئے کہ وہ امریکہ سے بات کرے اور افغانستان میں دہشت گردی کے تمام مراکز بزورِطاقت ختم کردے۔چاہے وہ داعش کے ہیں یا تحریک طالبان پاکستان کے۔

علی مسجد جمرود میں خود کش دھماکے کے بعد تو یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے۔ ٹی ٹی پی نے ہی اپنا نیا نام، جہاد پاکستان آرگنائزیشن رکھ لیا ہے اور یہ بھی پتہ چل گیا ہے کہ پولیس لائن میں دہشت گردی کا واقعہ بھی اسی تنظیم نے کرایا تھا۔ علی مسجد میں خود کش بمبار نے تو اپنے آپ کو اڑادیا تھا مگر اس کا ہینڈلر گرفتار کرلیا گیا تھا۔ اس سے ڈھیروں معلومات حاصل ہوئیں۔ٹی ٹی پی کو افواج پاکستان نے تقریباًبالکل ختم کردیا تھا۔ زیادہ تر دہشت گرد یا تو مار دیے تھے یا گرفتار کر لئے تھے ۔ جو بچ گئے تھے وہ افغانستان بھاگ گئے تھے۔ بہت سے افغان جیلوں میں قید تھے۔جیسے ہی کابل پر طالبان کا قبضہ ہوا ۔ ٹی ٹی پی کے تمام دہشت گرد رہا کر دیے گئے ۔پاکستان نے انکے ساتھ مذاکرات کی پیش کش بھی کی جو طالبان حکومت کے دبائو میں ٹی ٹی پی نے شروع کئے۔ایک ماہ کی جنگ بندی بھی رہی مگرجیسے ہی ان کے کچھ لوگوں کو واپس پختون خوا میں آنے کا موقع ملا انہوں نے مذاکرات ختم کر دیے اور پھر حملے شروع کر دیے ۔جواباً پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے بھی افغانستان میں ٹی ٹی پی کے مراکز پر حملے کئے ۔طالبان نے صورتحال کو دیکھتے ہوئے ٹی ٹی پی کو پھر مذاکرات پر مجبور کیا۔ دوہزار بائیس میں انکی طرف سےیک طرفہ جنگ کا اعلان کیا گیا۔ دوبارہ مذاکرات شروع ہوئے مگر جب امریکی ڈرون حملے میں ایمن الظواہری مارا گیا تو ٹی ٹی پی نے مذاکرات ختم کر دیے کہ پاکستان امریکہ کا دوست ہے۔2023میں ٹی ٹی پی کا سب سے خوفناک حملہ پشاور پولیس لائن کی مسجد میں خودکش حملہ تھا ۔ جس میں ایک سو سے زیادہ نمازی شہید ہوئے ۔اس حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے افغان وزیرخارجہ نے کہا کہ یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے،وہ اپنے مسائل خود حل کرے۔اس بیان سے واضح ہوگیا کہ ٹی ٹی پی کی پشت پر افغان طالبان ہیں۔طالبان حکومت کی مدد سے ٹی ٹی پی کے تمام چھوٹے چھوٹے گروپ پھر سے یکجا ہوگئے۔جن میں داعش والا گروپ بھی شامل تھا۔مفتی نور ولی محسود جو افغان طالبان کی مجلس شوری کے ممبر تھے انکو ٹی ٹی پی کا سربراہ بنا یا گیا۔انہیں جدید ترین اسلحہ فراہم کیا گیا ۔ٹی ٹی پی کا میڈیاونگ مضبوط کرنے کیلئے اسی افغان حکومت نے فنڈنگ دی اورٹی ٹی پی اٹھارہ زبانوں میں پروپیگنڈا مواد تیار کرنے لگی ۔

پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کو ٹی ٹی پی اپنا اثاثہ قرار دیتی ہے ۔منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث زیادہ تر گرفتارشدگان بھی ا فغان مہاجرین ہیں ۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق طور خم کے بارڈر پر تعینات کسٹم کے ایڈیشنل کمشنر محمد طیب نے کہا ہے کہ پچھلے کچھ عرصہ میں منشیات کی اسمگلنگ کے جتنی بڑی تعداد میں کیس سامنے آرہے ہیں،انکی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان دونوں ایک پیج پر ہیں مگر اقتدار میں آنے کے بعد دونوں نے طریقہ کار بدل لیا ہے۔ انہیں اپنے آقائوں نے ’’دروغ مصلحت آمیز‘‘ کا سبق رٹا دیا ہے۔ یعنی اب وہ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ۔ سو پاکستان کے پاس اور کوئی حل نہیں۔ کراچی سے ازبکستان کی سرحد تک ایک وسیع و عریض آپریشن کی ضرورت ہے۔ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کو چن چن کر ختم کرناہماری قومی سلامتی کیلئے ناگزیر ہوگیا ہے۔

بشکریہ جنگ نیوزکالم