خطہ کشمیر کے نامور شعراء میں ایک تابندہ نام ”عابد محمود عابد “ کا ہے ۔ آپ یکم مٸی 1980ء کو آزادکشمیر کے تاریخی شہر میرپور میں پیدا ہوئے ۔ آپ نے گورنمنٹ ہائی اسکول چیترپڑی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا ۔ ایف ۔ اے ، بی ۔ اے اور
ایم ۔ اے اردو کی تعلیم گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج میرپور سے حاصل کی ۔ ایم۔ فل اردو کی ڈگری علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے حاصل کی ۔ (ایم۔ فل اردو کا تحقیقی و تنقیدی مقالہ بعنوان "محمد اکرم طاہر ادبی خدمات" تھا ۔)
عابد محمود عابد طنزیہ و مزاحیہ شاعری کے باب میں ایک خاص مقام و مرتبہ رکھتے ہیں ۔ آپ کی شعری تصنیف ” اداس ہنس لیں “ کی اشاعت 2021ء میں ہوئی ۔ تحقیق وتدوین کے حوالے سے بھی ارمغان (منظومات محمد اکرم طاہر ) ایک قابل ستاٸش کارنامہ ہے ۔ مختلف جرائد میں ادارت کے فرائض سرانجام دٸیے جن میں سروش ( 2014 ء ، گورنمنٹ گرلز پوسٹ گریجویٹ کالج میرپور آزادکشمیر )، معرفت ( 2012ء ، گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین چیچیاں ، میرپور آزادکشمیر ) شامل ہیں ۔ خوش نما (مزاح پر مشتمل مجلہ) میں معاون مدیر مجلہ "الافضل " (گورنمنٹ ایجوکیشن کالج افضل پور ) میں مدیر کی حیثیت سے فرائض سرانجام دیئےہیں ۔ حال میں گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج میرپور میں تدریسی فرائض سر انجام دے رہے ہیں ۔
عابد محمود عابد کا شمار ان شعرا میں ہوتا ہے جو اپنے کلام سے مسکراہٹ کے پھول کھلانے اور دکھی انسانوں کو مسرت سے سرشار کرنے کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں ۔ آپ کی مزاح پر مشتمل شعری تصنیف ” اداس ہنس لیں “ ادب کے باب میں ایک شاہکار ہے ۔ جس کی عظمت کا اعتراف بہت سے نامور شعرا کر چکے ہیں ۔ اس کتاب میں پروفیسر انور مسعود ، سرفراز شاہد ، ڈاکٹر انعام الحق جاوید ، ڈاکٹر طاہر شہیر کے مضامین شامل ہیں جو کتاب کی عظمت کو بلند کرتی ہے ۔ چند اقتباس عابد محمود عابد کے حوالے سے جو ان کی فنی عظمت کا ایسا ثبوت ہے جس سے انکار ممکن نہیں ہے۔
پروفیسر انور مسعود
”میں سمجھتا ہوں کہ شگفتہ بیانی میں عابد کی مشق و ریاضت کا سلسلہ جاری رہا تو اس سے بڑی توقعات وابستہ کی جاسکتی ہیں ۔ ظریفانہ شاعری کا وہ ایک ہونہار نمائندہ ہے ۔ اللہ اس کی توفیق میں اضافہ فرمائے۔“
سرفراز شاہد
” عابد محمود عابد کا شمار ان شعراء میں کیاجا سکتا ہے جو زندگی کی یکسانیت میں مسکراہٹ کے پھول کھلانے اور ذہن و دل کے دریچوں سے تازہ ہوا کے جھونکوں کو دکھی انسانوں تک پہنچانے اور انھیں مسرت سےسرشارکرنے کا فریضہ ادا کر رہے ہیں ۔ ان کے بعض اشعار یوں نظر آتے ہیں کہ گویا انھوں نے ظرافت اور متانت کے پہلو میں میں بیٹھ کر زعفرانی سیلفیاں کھینچی ہیں اور انھیں قرطاس ادب پر چسپاں کر دیا ہے ۔ بلاشبہ یہ مجموعہ کلام فکاہی ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہے ۔“
ڈاکٹر انعام الحق جاوید
” عابد محمود عابد طنزیہ و مزاحیہ شاعری کے باب میں ایک اہم اضافے کا درجہ رکھتے ہیں ۔ میں نے اس نوجوان کا کلام سنا بھی ہے اور پڑھا بھی ہے ہے جس کے نتیجے میں برملا کہہ سکتا ہوں کہ عابد ایک سنجیدہ مزاح نگار ہے اور اس نے پوری سنجیدگی سے اس میدان کو اپنایا ہے ۔ “
ڈاکٹر طاہر شہیر
” عابد کا شعری مجموعہ ” اداس ہنس لیں “ ان اداس نسلوں کے لیے تریاق کی حیثیت رکھتا ہے جن کی سوچ اور جذبات میں زمانے کی تلخیوں نے زہر گھول دیا ۔ عہد حاضر کے مساٸل ، نوجوانوں کی جذباتی زندگی ، مصنوعی معاشرتی نظام ، ٹیکنالوجی کا احساسات پر کنٹرول اور عاٸلی زندگی پر عابد محمود عابد کے محبوب موضوعات ہیں ۔ “
محمد عارف (مزاح گو شاعر )
"اداس ہنس لیں" نوجوان مزاح گو شاعر عابد محمود عابد کا پہلا مزاحیہ شعری مجموعہ ہے، اس میں قطعات، غزلیات، نظمیں اور فردیات شامل ہیں۔ عابد کے ہاں مزاح تضمین و تحریف ، انگریزی و پنجابی زبانوں کے الفاظ، اور منفرد قوافی و ردیف کے زیرِ اثر نظر آتا ہے، کہیں کہیں صورتِ حال کے مزاح کی جھلکیاں بھی ملتی ہیں موضوعات متنوع ہیں اور مزاح کے شانہ بشانہ طنز بھی ملتا ہے۔ “
راشد راج
” بلاشبہ عابد محمود عابد کی شاعری معاشرے پر اُن کی گہری نظر کا پتہ دیتی ہے اُن کے موضوعات میں تنوع ہے۔کلام میں یکسانیت کا عنصر نہیں ہے سو ہر صفحے پر تازگی کا احساس ہوتا ہے اور نئے اسرار کھلتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ عابد محمود عابد نے اپنی شعری تصنیف میں زندگی کی تلخ حقیقتوں کو بھی موضوع ِ سخن بنایا ہے جس سے شاعر ایک عوامی شاعر کے طور پر ابھرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ "اداس ہنس لیں " جسے شاعر نے اپنی 20 سالہ محنت و ریاضت کا حاصل کہا ہے بلا شبہ علم و ادب میں ایک شاہکار اضافہ ہے۔ “
خورشید حسن
”جہاں تک زبان و ادب کا تعلق ہے ، اداس ہنس لیں ایک اعلیٰ معیار کی کتاب ہے ۔ پنجابی محاورے ، انگریزی الفاظ (جنھیں اکثر پنجابی لہجے کے وزن پر باندھا گیا ہے) اور خوب صورت فارسی تراکیب جابجا ملتی ہیں ۔ اردو کی قریب قریب تمام کثیرالاستعمال بحور میں اشعار دکھائی دیتے ہیں ۔ قوافی کو تمام محاسن کے ساتھ برتا گیا ہے ۔ الفاظ کے چناؤ اور الفاظ کی نحوی نشست داخلی آہنگ کو خوب تر بناتی ہے ۔ بیان و بدیع کو کام میں لایا گیا ہے ، تشبیہات بالخصوص لائقِ تحسین ہیں ۔
عنوانات داد و تحسین کے مستحق ہیں ۔“
سعید ارشد
” طنزومزاح کے پیرائے میں لکھنے کےلیے درکار سنجیدگی عموماً سنجیدہ لکھنے والوں میں بھی مفقود ہوتی ہے ۔ ایک غیر سنجیدہ مزاح کلام میں شگفتگی کے بجائے ابتذال اور پھکڑ پن کی صورت میں نمود پاتا ہے۔ عابد محمود عابد اس اعتبار سے اپنے دامنِ سخن میں شگفتگی کے پھول رکھتے ہیں۔موصوف کے طنزو مزاح پر انور مسعود کا اثر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ یعنی ان کے قہقہے کو نچوڑ کر آنسو ٹپکائے جا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عابد محمود عابد کو ممتاز مزاح نگار انعام الحق جاوید نے ایک سنجیدہ مزاح نگار قرار دیاہے۔“
ڈاکٹر عبدالرشید آزاد
” اپنے کلام سے اک زمانے کو پیچھے لگا رکھا ہے بلکہ پاکستان سے باہر کے پریشان حال لوگ بھی ان میں دلچسپی رکھتے ہیں اور ان کا کلام میرے جیسے ریٹائرڈ ( بیشک نام کے ہی سہی ) پڑھ کر دوائی سے زیادہ ان کے کلام میں شفا ڈھونڈتے ہیں کیونکہ ادویات مہنگی تو ہوجاتی ہیں گارنٹی شفا کی پھر بھی نہیں دیتیں ۔
عابد محمود عابد اپنے ظاہری حلئے سے تو کسی فلم کے ہیرو لگتے ہیں لیکن ان کی وہ فلم ابھی ریلیز نہیں ہوئی اور پیشے کے لحاظ سے وہ خیر سے استاد یعنی لیکچرار ہیں اور ایم فل کیا ہوا ہے لیکن اس کے باوجود شاعر ہیں اور شاعر بھی ایسے کہ جن کا کلام پڑھ کر ان کے لئے بے ساختہ دل سے دعا نکلتی ہے کہ جیتے رہو اور ہنساتے رہو ۔یہ بڑا کام ہے جو آپ سرانجام دے رہے ہو ۔“
ان تمام قیمتی آرا سے عابد محمود عابد کی شعری عظمت کا اندازا باخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔ عابد محمود عابد ایک اچھے شاعر ہونے کے ساتھ بہترین انسان بھی ہیں ۔ آپ کے اشعار میں بھی زندگی کے مساٸل اور اور موجودہ معاشرتی نظام کی جھلک بھی دکھاٸی دیتی ہے جس کو شاعر نے لطیف پیراٸے میں بیان کیا ہے ۔ کلام ملاحظہ کریں :
☆☆☆
ہمارا پیٹ پالا اور خود کو
کبھی بُھوکا کبھی پیاسا سُلایا
وہ اس پرچے میں اوّل آیا جس کو
سبق ماں نے محبّت کا پڑھایا
(ماں تجھے سلام )
☆☆☆
جاو میرے قریب مت آو
یعنی دل کا سرور ہو جاو
میں نے پہنی ہے دور کی عینک
میری نظروں سے دور ہو جاو
☆☆☆
مہینے ہجر کے گھڑیوں کی صورت اڑتے جاتے ہیں
فراق یار کا ہر سال سال گزرا ہے مہینوں میں
جوانوں کی ہتھیلی پر نظر آتا ہے موبائل
”یدبیضا لیے پھرتے ہیں اپنی آستینوں میں “
(ہینڈ بیضا)
☆☆☆
ہر ملک سے عشاق تحائف اسے بھیجیں
شاپنگ میں کبھی اس کا تو خرچہ نہیں ہوتا
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں ” اندر “
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو ” پرچہ “ نہیں ہوتا
(لاقانونیت)
☆☆☆
میں نے شادیاں چار کی ہیں ابھی تک
مسلسل لبھاتی رہی ہیں ادائیں
بلاتا ہوں چاروں کو آواز دے کر
اذیت مصیبت ملامت بلائیں
( چار جاٸز )
☆☆☆
ہر روز مر رہے ہیں مسلسل یہاں وہاں
جینا تمام عمر کا مشکل بنا دیا
مہنگائیاں سمیٹ کے سارے جہان کی
جب کچھ نہ بَن سکا تو مرا بِل بنا دیا
( ہائے میرا بِل )
☆☆☆
یہ تجھی سے سوال کرتا ہوں
یا خدا ! یہ معاملہ کیا ہے
بیوی سےخوش نہ دل ربا سےخوش
آخر اس ”مرد“ کی دوا کیا ہے
(معمہ)
☆☆☆
پاٶں پر منجی کا پاوا آ گیا
یوں لگا رب کا بلاوا آ گیا
(اوٸی)
☆☆☆
معذرت دال سبزیو! تم سے
چٹنی کیچپ کا ساتھ کافی ہے
مجھ اکیلے کے واسطے عابد
بوٹیوں کی پرات کافی ہے
(کافی ہے)
☆☆☆
گوشت کی بانٹ میں چلتی ہے سیاست اب تو
کیوں رویّہ نہیں سمجھا ہے زمانے والا
تم تبسّم کو بھی اثبات سمجھتے ہو مگر
گوشت دیتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
( غلط فہمی )
☆☆☆
سیاسی ٹائلٹ میں کچھ سیاست دان لوٹے ہیں
الیکشن جیتنے کا آج کل امکان لوٹے ہیں
ہوئی لوٹوں کی جب "لوٹم شماری" تو یہی جانا
زمانے بھر میں پاکستان کی پہچان لوٹے ہیں
ہمارا ملک سارا کھا چکے ہیں یہ کرپشن سے
مگر لوگو! بظاہر بے سروسامان لوٹے ہیں
جو پوچھا اک حسینہ کو "کہاں سے مال آتا ہے؟"
وہ بولی مسکرا کر "میرے ابّاجان لوٹے ہیں"