ازالہ حیثیت عُرنی

اگر امن عامہ نافذ کرنےوالے اداروں نے اس وفاقی وزیر کےخلاف قانونی چارہ جوئی کی ہوتی جس نے چند ماہ قبل ایک ٹی وی اینکر کو تھپڑ مارا تھا تو یہی وزیر دوبارہ ایک دوسرے ٹی وی اینکر کو 6 جنوری 2020 ءکے دن منہ پر تھپڑ نہ مارتا‘ اراکین اسمبلی کا کام تو قانون سازی کرنا ہوتا ہے جس میں قانون کی پاسداری بھی شامل ہے وہی اگر قانون کی دھجیاں اڑانا شروع کردیں تو پھر عام آدمی سے کیا گلہ؟اس قسم کی حرکات سے وہ آخراس ملک کی نئی نسل کو کیا پیغام دے رہے ہیں‘مان لیا کہ بعض لوگ زرد صحافت کے مرتکب ہو رہے ہیں بغیر تحقیقات کے بعض سفید پوشوں اور شرفاءکی پگڑیاں اچھال رہے ہیں پر ان سے نبٹنے کا بھی ایک شریفانہ اور قانونی راستہ موجود ہے اور وہ ہے عدالتوں میں ہتک عزت کا دعویٰ۔ اگر کسی سیاستدان یا کسی اور طبقے سے تعلق رکھنے والے کو یہ گلہ ہے کہ میڈیا کا کوئی شعبہ اس کی کردارکشی کر رہا ہے تواسکے ہاتھ کس نے روکے ہیںکہ وہ عدالتوں کا دروازہ نہ کھٹکھٹائے؟ مشاہدے میں یہ آیاہے کہ اگر کسی سیاستدان کےخلاف کوئی خبر نشر یا شائع ہو جائے کہ جو اسکی دانست میں غلط ہو تو وہ خبر چھاپنے والے کو ہتک عزت کا نوٹس تو ضرور دیتا ہے پر اس کے بعد وہ ٹائےں ٹائےںفش ہو جاتا ہے‘ اپنے نوٹس کو اس کے منطقی انجام تک نہیں پہنچاتا اور اس کی بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ دل ہی دل میں جانتا ہے کہ اسکا دامن داغدار تو ہے ہی اور اگر وہ عدالت میں گیا تو وہاں پر قانون کے تحت اس پر الزام لگانے والا عدالت کے کٹہرے میں اس کو کھڑا کرکے اس پر جرح کرسکتا ہے اور اس جرح کے دوران ہو سکتا ہے۔

 اسکے دوسرے بہت سے عیوب جو اس وقت عوام کی نظروں سے پوشیدہ ہیں منظر عام پر آجائیں اور اسکو لینے کے دینے پڑجائیں‘چنانچہ وہ عافیت اس بات میں سمجھتا ہے کہ خاموشی اختیار کرکے معاملے پر مٹی ڈال دی جائے‘آپ کو یاد ہوگا کچھ عرصہ پہلے لندن کے روزنامے ڈیلی میل نے شہبازشریف کےخلاف ایک خبر چھاپی جس پر شہبازشریف نے بیان دیا کہ وہ ڈیلی میل کو عدالت میں لے جائےنگے‘ایک عرصہ ہوا ہے اس بیان کو اور ابھی تک موصوف نے کسی عدالت کا رخ نہیں کیا‘اگر ہتک عزت کے دعوﺅں کی اس ملک مےں رواےت پڑگئی تو رفتہ رفتہ پھگڑیاں اچھالنے کا سلسلہ ختم ہوجائے گا‘یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہتک عزت کا دعویٰ کرنےکی جرات وہی شخص کرسکتا ہے جسکا دامن کسی لحاظ سے داغدار نہ ہو اور یہ بات فی زمانہ مشکل نظر آتی ہے‘برطانیہ میں ایک دور ایسا بھی گزرا ہے جب زردصحافت اپنے عروج پر تھی پر جب سے وہاں کی عدالتوں نے لاءآف ٹارٹس کے تحت کاروائی شروع کی اور دروغ بیانی کرنےوالے اخبارات سے ازالہ حیثیت عُرنی کے تحت بھاری رقوم وصول کرکے مدعیان کو دینا شروع کیں تو رپورٹنگ میں زیادہ احتیاط کا مظاہرہ ہونے لگا۔

اس ملک میں الیکٹرانک میڈیا بڑی تیزی سے پھیلا ہے اور آج صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ اب قارئین اخبارات کو خبروں کےلئے نہیں خریدتے کیونکہ صبح تڑکے جو اخبارات ان کو ملتے ہیں ان میں چھپنے والی خبریں تو اس لحاظ سے باسی ہو چکی ہوتی ہیں کہ الیکٹرانک میڈیا پر وہ اسوقت تک کئی بارنشر ہو چکی ہوتی ہےں‘آج کل قارئین اخبارات خصوصی رپورٹوں ¾کالموں اور اداریوں کو پڑھنے کےلئے خریدتے ہیں ‘قارئین اخبارات سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اب تحقیقاتی جرنلزم کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ دیں یہ محنت طلب کام ہے پر صرف اسی سے ہی معاشرتی برائیوں کو اجاگر اور بے نقاب کرکے ان کےخلاف جہاد کیا جاسکتا ہے‘ دوسری اہم بات اس ضمن میں یہ ہے کہ جو خبریں بھی شائع ہو چکی ہوں ان پر فالواپ ضرور ہونا چاہئے اکثر قارئین اسوقت تشنگی محسوس کرتے ہیں جب وہ کسی خبرکو پڑھنے کے بعد اسکی فالواپ خبریں نہیں پڑھ پاتے وہ آغاز سے تو باخبر ہو جاتے ہیں پر انجام سے بے خبر رہتے ہیں۔

 

بشکریہ روزنامہ آج