آتھر پروفائل لنک۔
https://urducolumns.pk/news/8563
یہ فقرہ زبان زدہ عام ہے کہ جب سے موبائل فون اور لپ ٹاپ کی ایجاد ہوئی ہے کتاب کون خرید کر پڑھتا ہے۔اب تو پی ڈی ایف میں آسانی سے کتب دستیاب ہوتی ہیں۔ چھوٹے سے فون میں ہزاروں کتابیں رکھی جاسکتی ہیں اور لپ ٹاپ میں لاکھوں۔ پی ڈی ایف کتابیں مفت میں مل رہی ہیں ۔کون مہنگے داموں کتاب خریدے اور گھر میں کاغذ کا ذخیرہ جمع کرے۔ کتابیں رکھنے کے لیے گھر میں معقول جگہ بھی چاہیے جہاں پر کتابوں کو قرینے سے رکھا جا سکیں تاکہ کمرے کا حسن بھی دوچند ہو۔کتاب گھر میں رکھنے سے ایک اور پریشانی کا سامنا رہتا ہے کہ کاغذ میں جھینگر لگتا ہے جو کتاب کو کتر کتر کر خراب کرتا ہے۔پھر ایسی کتاب پڑھنے کا من نہیں کرتا جس کا ورق ورق جالی کا منظر پیش کر رہا ہو۔ جھینگر سے بچانے کے لیے ان کتابوں میں عطر رکھنی پڑتی ہے۔ ان کو ترتیب اور سلیقے سے رکھنا پڑتا ہے۔ غرض کتابوں کو گھر میں رکھنا بڑا مشکل کام ہے۔جس بندے کے پاس کتابوں کا اچھا خاصا ذخیرہ جمع ہو وہ روزی روٹی کی فکر کرے یا گھر میں دن بھر کتابیں جھاڑتا رہے ۔محنت کش تھک ہار کر آرام کرے یا کتابوں کی ترتیب درست کرے۔ اس سبک خرام دور میں کون ہر ماہ ان کتابوں کو جھاڑ سنبھال کر رکھے۔
اکثر کہتے ہیں کہ فون کی ایجاد کے بعد کوئی کتاب خرید کر نہیں پڑھتا، یہ ایک غلط فہمی ہے۔کاغذ کی مہک اور خوشبو اور وہ لطف جو کتاب زانو پہ رکھا کر آتا ہے فون کے سکرین اور لپ ٹاپ کے پردے میں کہاں۔؟ آپ کے فون اور لپ ٹاپ میں بھلے ہی لاکھوں کتابیں ہوں ان کتابوں سے آپ کے فون اور لپ ٹاپ کی رونق نہیں بڑجاتی۔ہاں گھر میں ہزاروں نہیں اگر دو تین سو ہی کتابیں ہوں تو کمرہ پر اور جاذب نظر لگتا ہے۔یہ سچ ہے کہ ہر نئی ایجاد سے پرانی شے کا استعمال کم ہوتا ہے اور لوگ پرانی چیز کے بدلے نئی ایجاد کو ترجیع دیتے ہیں۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ چیزوں کا متبادل نئی ایجاد کردہ چیز نہیں ہوتی۔میری ذاتی رائے ہے کہ کتاب کا متبادل پی ڈی ایف نہیں حالانکہ وہ بھی کتاب ہی ہے۔ہاں یہ ہے کہ اس سے سہولیت آئی کہ ایک چھوٹے سے فون میں ہزاروں کی تعداد میں کتابیں آسانی سے ہر جگہ ساتھ رکھی جا سکتی ہے اور وقت ضرورت ان کا مفید استعمال کیا جا سکتا ہے۔انسان سو کتابیں بھی اپنے ساتھ نہیں اٹھا سکتا لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہمیں کتابیں پڑھنا چھوڑ دینی چاہیے اور پی ڈی ایف یا ڈئیجٹل لائبریوں کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔یہ بات بھی طے ہے کہ کتابیں گھر میں ہوں تو کسی بھی وقت ان کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔فون گر گیا یا لپ ٹاپ خراب ہوا تو پی ڈی ایف میں جمع کیا ہوا خزانہ ضائع ہوجاتا ہے۔ہاں یہ ہے کہ ایسی سائٹس ہیں جن میں کتابیں محفوظ کی جا سکتی ہیں لیکن میرا ذاتی تجربہ ہے کہ پی ڈی ایف کتاب کے دو تین صحفے پڑھنے کے بعد ہی آنکھوں میں سوئیاں چھبنے لگتی ہیں اور سر گھومنا شروع ہوجاتا ہے جبکہ کتاب کو آپ دن بھر پڑھتے رہے نہ آنکھیں ہی دکے گئیں اور نہ سردرد ہی ہوگا۔
پہلے زمانے میں کتاب خریدنے اور کتب خانہ بنانے کا شوق اور مطالعہ کا ذوق تھا۔ایسے بھی لوگ گزرے ہیں جہنوں نے کتاب خریدنے کے لیے اپنے گھربار کو بیچ دیا اور ان کتابوں کے مطالعے کی ہی برکت ہے کہ تاریخ میں ان کا نام سنہرے حروف میں درج ہے۔بعص حضرات کو مطالعے کا اتنا شوق تھا کہ ایک طرف بیٹا فوت ہوا ہے اس کی میت کو کفنانے دفنانے کے لیے کسی اور کو منتخب کرتے ہیں اور خود مطالعہ میں غرق ہیں۔ ایسی بھی افراد گزرے ہیں جو سفر میں ،اٹھتے بیھٹے ،چلتے یہاں تک کہ بیت الخلاء میں بھی کتاب کا مطالعہ کیا کرتے تھے۔ایسا بھی ہوا کہ بیوی اپنے شوہر سے فقط اس لیے ناراض رہتی تھی کہ اس کی طرف توجہ نہیں کرتا ،بچوں کی طرف دھیان نہیں دیتا ،گھر کی پرواہ نہیں کرتا بلکہ کتاب کو ہی اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے۔ ان کتابوں کے مطالعے کی ہی برکت ہے ایسے لوگوں کے نام تاریخ میں درج ہیں۔آج بھی ایسے لوگ ہیں جن کو جنوں کی حد تک شوق ہوتا ہے کہ وہ کتابیں خرید کر جمع کرتے رہتے ہیں۔علم کا خزانہ جمع کرنے کا شوق برا بھی نہیں لیکن ان کتابوں کا مطالعہ کرنے کا وقت اس کے پاس نہیں ہوتا۔لیکن وہ لگاتار اور بے شمار کتابیں خرید کر لاتے ہیں۔یہ اچھی عادت بہترین عادتوں میں شمار تب ہوگی جب وقت نکال کر ان کتابوں کا مطالعہ بھی کیا جائے ۔
کتاب سے دوری کا ایک سبب انٹرنیٹ ، فیس بک واٹس ایپ اور اس جیسی دیگر سوشل سائٹس ہیں۔ اب تو تفریح کا معنی اور مفہوم ہی بدل گیا ہے ۔پہلے کتاب بہترین دوست اور رفیق ہوا کرتی تھی۔کتاب ہی زندگی گزارنے اور جینے کا سبق دیتی تھی۔کتاب نہ صرف ذہین و فطین لوگوں کی ساتھی تھی بلکہ مشغوف محبت کتاب کو محبوب کے چہرے سے تشبیہ دیتے تھے۔ زمانے نے کروٹ لی اور اس تیزی سے بدل رہی دنیا میں لوگوں کے پاس وقت ہی نہیں کہ وہ کتب فروش کی دوکان پہ جاکر کتاب خریدے اور اس کا مطالعہ بھی کرے۔اب تو پورا پورا دن سوشل میڈیا پر گزرتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ پھر سے کتابوں کو اپنا دوست بنایا جائے تاکہ پھر سے ہمیں ایک بہترین دوست اور رفیق کا ساتھ میسر آئے۔