کی محمد ﷺسے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاںچیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں۔
محمد بن عبداللہﷺ کی ولات مشہور عام تاریخ کے مطابق 12ربیع الاول عام الفیل بمطابق570 یا571ءکو ہوئی۔آپﷺتمام مذاہب کے پیشواﺅں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔آپﷺ کی نسبت ابوالقاسم تھی۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ ”اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت (بنا کر) بھیجا ہے۔“
جب حضرت محمد ﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ رتشریف لائے تو آتے ہی انصار مدینہ کے دونوں قبائل”اوس“ اور ”حزرج“ کے ساتھ یہودی قبائل اور اردگرد کے دیگر قبیلوں کو ملا کر ایک ریاستی نظم قائم کیا جو اس سے پہلے موجود نہ تھا۔اسے ”ریاست مدینہ“ کے نام سے تعبیر کیاجاتا ہے۔اس کے ذریعے تمام متعلقہ قبائل کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جو کہ ”میثاق مدینہ“ کہلاتا ہے۔اس کے سربراہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺتھے۔
اس معاہدہ کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اسلام کو پھیلایا جائے اور لوگوں کو بت پرستی،سورج اور چاند کی پوجا سے روکا جائے اس کے علاوہ مسلمان آپس میں اتحادو اتفاق سے رہیں۔
نبی کریمﷺکی ریاست میںبڑے چھوٹے کے لیے قانون یکساں تھا۔نبی کریمﷺ کی ریاست میں انصاف اور عدل کا بول بالا تھا۔جب بنو مخزم کی ایک نامی گرامی عورت نے چوری کی اور نبی کریمﷺ کے محبوب صحابی اسامہ بن زیدؓ اس کی سفارش لے کرآئے تو نبی کریمﷺ نے سفارش قبول نہ کی اور فرمایا کہ اگر میری پیاری بیٹی فاطمہؓ بھی چوری کرتیں تو میں ان کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا اور فرمایا کہ تم سے پہلی قومیں اس وجہ سے تباہ ہوئی ہیںکہ امیرون کے لیے اور قانون اور غریبوں کے لیے اور قانون ہوتا تھا۔حضرت محمدﷺ کی ریاست مدینہ میں اقلیتوں کو بھی برابر حقوق ملتے تھے۔ریاست مدینہ دفاعی طور پر بھی مضبوط ریاست کے طور پر سامنے آٰئی تھی۔
یہ ریاست تقریباًًدس سال کے عرصہ میں پورے عرب کو حصار کر چکی تھی۔حضرت محمد ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابونکر صدیقؓنے حکمرانی قبول کی اور نہت سے علاقے فتح کیے حضرت ابونکر صدیقؓکے بعد یہ حکمرانی حضرت عمرؓ،حضرت عثمان اور حضرت علیؓ کو ملی ان صحٓابہؓ کے ادواروں میں بھی بُرائی کو مکمل ختم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ان صحابہؓ کے قوانین کو آج بھی دنیا پیروی کرتی ہے بہت سے ممالک میں حضرت عمرؓ کے نام سے قوانین بنے ہوئے ہیں۔
ریاست مدینہ کے بعد پاکستان وہ واحد ریاست ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں آئی۔پاکستان کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان اسلام کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔پاکستان کے قیام کے لیے مسلمانوں نے اپنی جانوں کے نظرانے دینے سے دریغ نہ کیا۔پاکستان کے قائم ہونے کے بعد قائداعظم سے پوچھا گیا تو قائداعظم نے فرمایا ”پاکستان کی قانون سازی آج سے 1400سال پہلے ہو چکی تھی۔“میں نے اپنے بزرگوں کو کہتے سنا ہے کہ قیام پاکستان کے وقت دریائے راوی میں لاشیں اس قدر موجود تھیں کہ لوگوں نے اُسے چل کر عبور کیا۔ریاست مدینہ پاکستان کی عملی تصویر ہے۔
افسوس یہ ہے کہ قائداعظم کی وفات کے بعد ہم ریاست مدینہ کے تصور کو بھول گئے ہیں۔پاکستان کے حکمرانوں نے تین مرتبہ قانون کو تشکیل دیا لیکن ریاست مدینہ کی بات نہیں کی۔جب اگست 2018میں جناب وزیراعظم پاکستان عمران خان نے پاکستان کو ”ریاست مدینہ“ بنائے کا کہا تو یہ ایک اچھا قدم تھا کہ پاکستان کو اسلامی اقدار کے مطابق تشکیل دیا جائے لوگوں نے جناب وزیراعظم پاکستان عمران خان کو تنقید کا نشان بنایا۔اگر یہ تنقید مثبت انداز میں ہوتی تو اچھا ہوتا لیکن جو لوگ اس حکومت پر تنقید کر رہے ہیں وہ پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کی بات بھی نہیں کرتے ہیں لیکن اس بات سے بھی انکار نیہں کیا جاسکتا ہے کہ اب تک جناب وزیراعظم پاکستان عمران خان پاکستان کو ”ریاست مدینہ“ نہےں بنا سکے ہیں۔ہم عوام بھی کچھ اپنے اعمال پر غور کریںکہ ہم ذخیرہ اندوذی کرتے ہیں،جھوٹ بولتے ہیں،ایک دوسرے کے خلاف سازیش کرتے ہیں،ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ہیں ہم پیسے کے لیے سب کچھ کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیںچاہیے وہ حکمران ہوں یاعوام اگر ہم دنیا اور آخرت میں کامیابی چاہتے ہیں تو ہمیں دنیا میں اچھے اعمال کرنے ہوں گئے اگر ہم حضرت محمدﷺ کی زندگی کو مشعل راہ بنا لیں تو وہ وقت دور نہیں ہے جب پاکستان دنیا میں وہ واحد ملک ہوگا جہاں اسلامی اقدار کی حکمرانی ہوگی۔عدل و انصاف ہوگا۔آئیں ہم سب اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ ہم سب سچ بولیں گئے چائیے ہماری جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔اﷲتعالیٰ ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
میںقارئین کی نظر ایک نعت پیش کرتا ہوں۔
وہ نبیوںمیں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی برلانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
فقیروں کا ملجا ضیفوں کا ماویٰ
یتیموں کا والی غلاموں کا مولیٰ
خطاکار سے درگزر کرنے والا
بداندیش کے دل میں گھر کرنے والا
مفاسد کا زیروزبر کرنے والا
قبائل کو شیرو شکر کرنے والا
اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا
اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا
مس خام کو جس نے کندن بنایا
کھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا
عرب جس پہ قرنوں سے تھا جہل چھایا
پلٹ دی بس اک آن میں اس کی کایا
رہاڈر نہ بیڑے کو موج بلا کا
ادھر سے ا±دھر پھر گیا رخ ہوا کا
466