پختون سردارگجوخان

 قوموں کی تاریخ میں ان کے مشاہیر اور ہیروز کے کردار پر بحث کرنے کی ضرورت اس لئے نہیں کہ وہ ایک مصدقہ حقیقت ہے جو ہر کوئی تسلیم کرتا ہے‘ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو قومیں اپنے ہیروز کو بھول جاتی ہیں تاریخ ان سے منہ موڑ لیتی ہے اوروہ مٹ جاتی ہیں۔آج ہم پختون قوم کے یوسفزئی قبیلے کے ایک ایسے ہی بہادر جرنیل اور سردار کا ذکر کرنے جا رہے ہیں جو نوجوان نسل کی نظروں سے اوجھل ہوتا جا رہا ہے۔ ویسے تو اس قبیلے نے بڑے نامور جرنیل پیدا کئے ہیں مگر ان میں گجو خان بابا کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے جو تاریخ میں ’ خان گجو ‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔گجو خان 1490ءمےں یوسفزئی قبیلے کے ملک قرع خان کے ہاں کابل شہر میں پیدا ہوئے‘ ان کے دادا بہزاد خان ہندوستان کے بادشاہ سکندر لودھی کے دربار میں مشیر تھے ۔ گجو خان کی پیدائش کے سال ہی افغانستان کے مغل بادشاہ الغ بیگ کو اس کے مشیروں نے ورغلایا اور اسے باور کرایا کہ یوسفزئی قبیلہ آپ کی سلطنت پر قبضہ کرنے والا ہے‘ اسی دوران الغ بیگ نے یوسفزئی قبیلہ کے چیدہ چیدہ سرداروں کو دربار میں کھانے پر مدعو کیا اور جیسے ہی کھانا شروع ہوا تو اپنے مسلح دستوں کو سب کے سر قلم کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ اس دھوکے کے نتیجے میں یوسفزئی قبیلہ کے 700 سرکردہ افراد کو قتل کیا گیا اور وہ مجبوراً کابل شہر چھوڑ کر پشاور کی طرف آ گئے اور ہشتنگر کے علاقے میں آباد ہوئے‘ اس وقت گجو خان ماں کی گود میں تھے اور قبیلے کی سربراہی ملک احمد خان کر رہے تھے۔

 جن کی عمر چودہ پندرہ برس تھی۔بچپن ہی سے گجو خان میں لیڈر شپ کی صلاحیتیں اور خوبیاں موجود تھیں۔ اپنی بے پناہ صلاحیتوں کا مظاہرہ انہوں نے ملاکنڈ کی مشہور لڑائی میں کیا تھا جو یوسفزئی قبیلہ نے پرانے سواتیوں کےخلاف لڑی تھی۔ اس لڑائی میں وہ شدید زخمی بھی ہوئے مگر انہوں نے حوصلہ نہیں ہارا اور لڑائی جاری رکھی۔ ایک فیصلہ کن معرکہ میں جو سال 1520ءمیں کاٹلنگ کے مقام پر دلہ ذاک قوم کےخلاف لڑی گئی تھی‘ گجو خان نے اپنی بلند ہمت اور جوان مردی کا سکہ جمایا اور دلہ ذاکوں کو سبق آموز شکست سے دو چار کیا۔ اس جنگ میں وہ اپنے فوج کے سپہ سالار تھے اور اس میں سلیم خان سربدال خیل بھی انکے ہمراہ تھے جو ملک احمد خان کی حکومت میں وزیر تھے۔سال 1515ءمیں جب ملک احمد خان یوسفزئی قبیلہ کے حکمران مقرر ہوئے تو شیخ ملتون کو وزیر اعظم جبکہ گجو خان اور سلیم خان انکے کابینہ کے اراکین مقرر کئے گئے‘ یہی وہ دور تھا جب دریائے سندھ کے اس پار کا سارا علاقہ یوسفزئی کی سلطنت میں شامل ہو گیا تھا ۔ 1530ءمیں جب ملک احمد خان وفات پا گئے تو یوسفزئی قبیلہ کے جرگے نے متفقہ طور پر گجو خان بابا کو قبیلے کا سربراہ مقرر کیا‘ حالانکہ انکے دو بیٹے اللہ داد خان اور اسماعیل خان جوان تھے مگر وہ حکمرانی کا بار گراں اٹھانے کے اہل نہیں تھے۔

 جرگے کا یہ فیصلہ نہایت دانشمندانہ تھا۔1530ءمیں گجو خان نے دوسرے پختون قبیلوں کے ہمراہ پشاور پر حملہ کیا جہاں کے خلیل اور مومند قبائل مغلوں کے باجگزار تھے۔ یہ جنگ بھی گجو خان جیت گئے اور اس طرح پشاور اور گردونواح ان کے قبضے میں آگئے‘ 1552ءمیں گجو خان نے دریائے سندھ کی دوسری جانب موجود پنجاب کی ریاست مانگڑہ پر حملہ کیا جس میں وہاں کے بادشاہ سلطان غیاث الدین کو شکست دی اور غیاث الدین ٹیکس دینے پر آمادہ ہوا۔ اسی سال گجو خان اپنی فوج لیکر ریاست گکڑ پر حملہ آور ہوا اور وہاں کے سلطان آدم خان کو شکست دی۔ سلطان آدم خان نے خود آکر گجو خان بابا کے سامنے ہتھیار ڈال دےئے۔ایک سال بعد یعنی 1553ءکو مغل بادشاہ ہمایون کابل کی طرف سے پشاور پر حملہ آور ہوا اور قلعہ بالا حصار پر قبضہ کر لیا۔ اسی دوران گجو خان نے منصوبہ بندی کرکے اپنے گھڑ سوار اور پیادہ فوج کےساتھ قلعہ بالا حصار پر حملہ کیا۔ مغل بادشاہ ہمایون نے جب گجو خان کی فوج کی بہادری دیکھی تو راتوں رات کابل کی طرف بھاگگئے۔ البتہ اسکا جرنیل سکندر ازبک اپنے سپاہیوں کےساتھ قلعہ میں پھنس گیا۔

گجو خان نے قلعہ بالا حصار کا محاصرہ کیا جو تقریباً ایک ماہ تک جاری رہا۔ آخر کار سکندر ازبک نے معافی کی درخواست کی اور جرمانہ ادا کرنے پر راضی ہوا۔ گجو خان نے اسکی معافی منظور کر لی اور اسے کابل جانے کی اجازت دےدی‘جنگوں اور لڑائیوں کےساتھ ساتھ گجو خان بابا‘ صاحب قلم بھی تھے۔ انہوں نے اپنی ہنگامہ خیز زندگی میں تقریباً ایک درجن کتابیں بھی لکھیں‘چونکہ گجو خان بابا پر بہت کم تحقیق ہوئی ہے اسلئے چند ہی افراد کو علم ہے کہ گجو خان کو اللہ نے صاحب قلم و تلوار کی صفات سے نوازا تھا۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں کئی مدرسے اور سکول کھولے اور طالب علموں کو مفت کتب اور وظائف دیا کرتے تھے ۔پختونوں کی معاشی ترقی کیلئے انہوں نے پختونخوا کے کئی علاقوں میں منڈیاں قائم کیں ۔ زراعت کو ترقی دینے کیلئے انہوں نے اپنی سلطنت میں کئی ایک بارانی ڈیم تعمیر کروائے‘ انہوں نے عسکری منصوبہ بندی کے تحت اپنا دارالخلافہ صوابی میں دریائے سندھ کے کنارے گاڑ منارہ نامی گاو¿ں میں بنایا تھا جہاں سے وہ آسانی کیساتھ دریائے سندھ کو کشتیوںکے ذریعے عبور کر کے پنجاب میں واقع ریاستوں پر حملہ کر سکتے تھے‘ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ پختونوں کے ایسے بہادر سپوتوں کے نام اور کارنامے ہمارے تعلیمی نصاب میں شامل نہیں جبکہ دوسری اقوام کے مشاہیر کے کارناموں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیاگیا ہے ۔کسی پشتو شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ ’زما کتاب ماتہ قصے دہ مغل والی کوی۔۔ما گجو خان دلتہ دہ سڑک پہ نامہ اوپیجندو ‘۔ ترجمہ: " میری کتاب میں تو مغلوں کے قصے کہانیاں ہیں‘ میں نے گجو خان کو صرف ایک سڑک کو دیئے گئے نام سے پہچانا ‘۔ضعیف العمری میں گجو خان بابا ضلع صوابی کے چھتہ گاو¿ں منتقل ہوئے اور وہیں 1565ءمیں وفات پائی۔ یہ پورا علاقہ گجوانو میرہ کے نام سے مشہور ہے جہاں سال 2011ءمیں امیر حیدر ہوتی کی ذاتی دلچسپی سے گجوخان کاایک شاندار مقبرہ تعمیر کروایا گیا۔

 

بشکریہ روزنامہ آج