ماہ رمضان مسلمانوں کیلئے نہ صرف روزہ رکھنے اور عبادات کرنے کا مقدس مہینہ ہے بلکہ یہ صبر، شکرگذاری ، رحمت ، سخاوت اور محتاجوں کی مدد کا بھی مہینہ ہے ۔ قرآن مجید نازل ہوا، نیکیوں کے ثواب میں اضافہ ہوتا ہے ، غریبوں کو حقوق دینے کا حکم ہے اور مسلمان ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں اس لیے رمضان کی اہمیت بہت زیادہ ہے ۔ حکومت پنجاب نے رمضان میں عام شہریوں ، خاص طور پر کم آمدنی اور مالی طور پر مضبوط نہ ہونے والے خاندانوں کو اشیا ء خورد نوش سستی دستیاب کروانے اور مالی مشکلات کم کرنے کیلئے مختلف اقدامات کیے ہیں ۔ حکومت پنجاب نے کل 47ارب روپے کے رمضان ریلیف پیکج کی منظوری دی ہے ۔ جس کا مقصد کم آمدنی والے مستحق اور مزدورخاندانوں کو رمضان میں مالی و خوراکی امداد فراہم کرتا ہے ۔ تقریباً42لاکھ خاندان جو ماہانہ آمدن پینتالیس ہزار سے کم رکھتے ہیں اس پروگرام سے فائدہ اٹھائیں گے ہر اہل خاندان کو دس ہزار روپے نقد امداد فراہم کی جائیگی یہ رقم رمضان نگہبان کارڈ کے ذریعے براہ راست دی جائیگی تاکہ لوگ عزت کے ساتھ اپنی ضروریات پوری کرسکیں نگہبان کارڈ کے ذریعے اہل افراد اشیا روزمرہ حاصل کرسکتے ہیں یا نقعد دس ہزار روپے وصول کرسکتے ہیں ، سہولت بازار اور ماڈل بازار بنائے گئے ہیں ۔ جہاں اشیاء خورد نوش سبسڈائزڈ نرخوں پر ملتی ہیں جس میںآٹا ، مرغی ، اور انڈے پر بھی خصوصی رعایت دی گئی ہے ۔ علاوہ زایں سرکاری قیمت نامے اور نرخ بھی مقرر کیے گئے ہیں ۔ پرائس کنٹرول مجسٹریٹ اور فوڈ اتھارٹی بھی متحرک ہیں ۔ خلاف ورزی پر سخت اقدامات اور جرمانے بھی کیے جارہے ہیں۔ رمضان بازار مختلف شہروں اور اضلاع میں قائم کیے گئے ہیں تاکہ عوام کو کم قیمت اشیاء آسانی سے حاصل کرسکیں ، یہ بازار 9بجے سے 5بجے شام تک کھلے رہتے ہیں ۔ پنجاب کے کئی اضلاع میں نگہبان دسترخوان جیسے مراکز قائم کئے گئے ہیں جہاں روزانہ کئی افراد کو افطاری مفت فراہم کی جاتی ہے ۔ حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات نے رمضان کے دوران عوام کو ریلیف ، اشیاء ضروریہ کی دستیابی اور مالی بوجھ کم کرنے میں ایک مضبوط حکمت عملی فراہم کی ہے ان اقدامات سے کم آمدن والے خاندان اپنے روزمرہ کے اخراجات میں آسانی محسوس کرسکیں گے اور مقد س ماہ کی برکتوں میں شریک ہوسکیں گے ۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق غریب کی مدد صرف سماجی خدمت نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ اور عبادت ہے ۔ ماہ رمضان میں احترام رمضان کا قانون بھی نافذ ہو جاتا ہے جو لوگ سرعام کھانے پینے کی اشیاء رکھتا ہے اس قانون کے تحت دکاندار اور ہر عام کھانے پینے والے لوگوں کے خلاف بھی کاروائی کی جاتی ہے ۔ پنجاب بھر میں قانون احترام رمضان کا عملدرآمد شاید اس طرح نظر نہیں آیا جس طرح ضلع ڈیرہ غازیخان جیسے پسماندہ علاقے میں نظر آیا ۔ تحصیل کوٹ چھٹہ کے علاقہ مانہ احمدانی میں اسسٹنٹ کمشنر کوٹ چھٹہ ریسٹورانٹ ، جوس والے اور دیگر دکانداروں کو کچرے والے لوڈر رکشے میں کھڑا کر کے پورے شہر میں گھماتا رہا ان کے ہاتھوں میں رسیاں بھی بندھی ہوئی تھیں ۔ یہ سب لوگ قصور وار سہی لیکن کیا یہ انسانیت کی توہین نہیں؟ ان سب "مجرموں" کوجرمانہ اور دیگر سزائیں بھی دی جاسکتی تھیں لیکن ایسی تذلیل کیوں روا رکھی گئی ؟ ۔ ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازیخان نے عوامی دبائو کے نتیجے میں تحقیقات کا حکم دیا تاکہ حقائق کا میں پتہ چل سکے ۔ یہ واقعہ اتنا دلخرا ش اور سنگین تھا کہ ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان کے ہاتھوں سے یہ معاملہ نکل گیا۔ صوبائی حکومت کے نوٹس میں جب یہ واقع آیا تو اسسٹنٹ کمشنر کوٹ چھٹہ کو معطل کرکے لاہور رپورٹ کرنے کا حکم صادر ہوا۔ اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب کسی افسر کو دور دراز علاقے میں بھیج دیاجائے تو وہ اپنے تبادلہ کیلئے عملاً ایسے کرتا ہے تاکہ دور دراز علاقہ سے اسکا چھٹکارا ہو سکے ۔ ڈیرہ غازیخان کے لوگ تو افسران کی قدر کرتے ہیں اسی لئے افسر شاہی میں یہ بات مشہور کہ افسر ان روتے ہوئے آتے ہیں اور روتے ہوئے واپس جاتے ہیں ۔ لوگ پہلے ہی علاقے میں چوری ڈکیتی اور قتل جیسی وارداتوں سے تنگ آچکے ہیں ۔ امن و امان کی صورتحال مخدوش ہو تی جارہی ہے ۔ خیبر پختون خواہ اور بلوچستان ملحقہ صو بے ہونے کی وجہ سے کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلہ کے مختلف دروں سے سمگلنگ بھی جاری رہتی ہے اور ان علاقوں سے دہشت گرد وں کی آمد و رفت کو روکنے کے لئے غازی گھاٹ کے اکلوتے پل پر ہمارے رینجرز کے جوان گاڑیوں کی مکمل پڑتا ل کرتے ہیں جس سے ملتان ڈیر ہ غازیخان مسافروں کی آمد و رفت ٹریفک کی لمبی قطاروں کی وجہ سے پہیہ جام رہتا ہے ۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے اور عوامی شکایات کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر نے کمشنر ڈیرہ غازیخان سے نیشنل ہائی وے حکام ٹریفک کو روکنے کے نظام کو غازی گھاٹ پل سے پہلے دورویہ سڑک پر یا پھر پل عبور کرکے کھلی جگہ پر روکی جائے تاکہ مسافروں کو پریشانی نہ ہو اور مشکوک افراد پر بھی نگاہ رکھی جاسکے ۔ یہ دیرینہ عوامی مطالبہ ہے جو شاید عوامی نمائندوں کی ترجیحات میں نہیں ہے ۔ عوامی مسائل حل نہ ہوں تو اس کی امید رکھی جاسکتی ہے کہ ایک دن ضرور ہونگے لیکن جس طرح انسانی تذلیل روا رکھی جاتی ہے وہ کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہے ۔ امید ہے ا عادہ نہیں ہوگا کہ ایک دن ضرور ہونگے ۔
80