163

یادوں کی زنبیل سے کچھ اشعار

باعث رنج و سخن غیض و غضب پوچھتے ہیں ہم سے کیا بات ہوئی سوئے ادب پوچھتے ہیں رسم دنیا سے بھی آگاہ نہیں وہ کافر ورنہ بیمار سے احوال تو سب پوچھتے ہیں اس غزل کا ایک اور شعر دیکھئے کیا کہیں ان سے جو خوشبو سے شناسا ہی نہیں کیا کبھی پھول سے بھی نام و نسب پوچھتے ہیں اس تحریر کا باعث یہ ہے کہ اس سے پیشتر جو کالم میں نے اعلیٰ اشعار کے حوالے سے لکھا تو اس کو بہت زیادہ پذیرائی ملی میں نے سوچا کیوں نہ آپ سے وہ اشعار شیئر کئے جائیں جو تنہائی کے لمحوں اپنے سیاق سباق کے ساتھ شام جاں مہکاتے ہیں۔ مثلاً سب سے پہلا شعر جو میری ذات کا حصہ بنا وہ خدائے سخن میر کا تھا: آگے کسو کے کیا کریں دست طمع دراز وہ ہاتھ سو گیا ہے سرہانے دھرے دھرے اس شعر کے تعاقب میں مجھے اپنے پیارے استاد حامد حسن یاد آ جاتے ہیں جنہوں نے میٹرک میں یہ شعر ہمارے حافظے کا حصہ بنایا: احسان ناخدا کا اٹھائے مری بلا ‘کشتی خدا پہ چھوڑ دوں لنگر کو توڑ دوں میرا مقصد کوئی سلیبس کے اشعار آپ کو پڑھانا نہیں ہے کئی اور دلچسپ شعر ہم دہرائے رہے۔ مثلاً اسد ملتانی کا شعر ہے: رند بخشے گئے قیامت کو شیخ کہتا رہا حساب حساب ابتدا ہی میں ہمیں شعر کا چسکا لگ گیا تھا کہ سب ہی تو گھر میں شاعر تھے۔ مجھے یاد ہے دادا حضور نے پہلی کتاب جو ہمیں دی وہ شہزاد احمد کا شعری مجموعہ صدف تھا۔ پھر شہزاد احمد صاحب سے تعلق خاطر ہوا تو دوسرے شعری مجموعے بھی سامنے آئے۔ شہزاد صاحب ایک بہت مزے کی بات یاد آ گئی کہ ان کا پبلشر ان کی ایک کتاب چھاپ کر لایا تو اس پرمبہم سا ایک اور رنگ کا بیک گرائونڈ تھا۔ شہزاد احمد روٹی پلانٹ میں بہت بڑے افسر تھے وہ ہنس کر پبلشر سے کہنے لگے میں روٹی پلانٹ میں ضرور ہوں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ میری کتاب دسترخوان پر چھاپی جائے اس کتاب کا ایک شعر یاد کا حصہ ہے: اپنا حق شہزاد چھینیں گے مانگے گے نہیں رحم کی طالب نہیں بے چارگی جیسی بھی ہے ان ہی دنوں ہم بھی سخن کے جنون میں تھے کوئی اچھا شعر ملتا تو خوشی کا ایک احساس اندر سرایت کر جاتا وہ ماحول ہی ایسا تھا کبھی کہیں مشاعرہ اور کبھی کہیں۔ مجھے 1982یا 83کا مشاعرہ یاد ہے جو پنجاب یونیورسٹی کے فیصل ایڈیٹوریم میں تھا۔ میرا پہلا مشاعرہ مجھے اقبال ساجد کا شعر یاد رہا: پچھلے برس بھی بوئیںتھیں لفظوں کی کھیلتیاں اب کے برس بھی اس کے سوا کچھ نہیں کیا اقبال ساجد سے بے تکلفی ہوئی تو کئی دلچسپ باتیں ان کے ساتھ ہوئیں انہوں نے ایک شعر کہا: فراق و فیض و ندیم و فراز کچھ بھی نہیں نئے زمانے میں ان کا جواز کچھ بھی نہیں فراز نے اقبال ساجد کو پکڑ کر کہا اوئے تو مجھے بھی ساتھ ہی تل دیا۔ اقبال ساجد کہنے لگے اوئے تو تو قافیے کی مجبوری ہے ساتھ آ گیا وگرنہ وہ تینوں کہاں اور توں کہاں۔ سچ مچھ وہ کیا ادب کا ماحول تھا۔اس زمانے کی یاد خالد احمد کا شعر بھی تو ہے: ترک تعلقات پہ رویا نہ تو نہ میں لیکن یہ کیا کہ چین سے سویا نہ تو نہ میں ایک مرتبہ پھر مجھے اپنے بہت ہی پیارے بزرگ شاعر بشیر احمد بشیر یاد آ گئے۔ کیا کمال آدمی تھے ان کی پنجابی کی چھوٹی نظم کتنی مزے کی ہے: کملے ہو گئے آں‘جتھے ترا ناں سنیا‘گلاں سنن کھلو گئے آں خالد احمد نے ایک مرتبہ ان سے بے تکلفی برتتے ہوئے کہا کہ آپ میر کے رنگ میں خوب لکھتے ہیں پھر فی البدیہہ ایک شعر پڑھا: بشیر میر کی تقلید چھوڑ دو فوراً اٹھو گے حشر میں ورنہ کبھو کبھو کرتے اصل میں اب تو لوگوں میں فاصلے بڑھ گئے ہیں کچھ تو سوشل میڈیا فرصت نہیں دیتا اور کچھ کرونا کی احتیاط نے ہمارے رویے بدل دیے ہیں۔ وہ دن عجب تھے خالد علیم کے پاس منڈلی جمتی اور وہاں حفیظ الرحمن احسن سیارہ کے مدیر بھی ہوتے۔ بالکل اوائل کی بات ہے جب میں بیانیا محفلوں میں جانا شروع ہوا تو حفیظ الرحمن صاحب مجھے کہنے لگے یار میرے چہرے مہرے پر نہ جانا۔ تم اپنا وہ شاعر ہاتھ سے لکھ کر دو۔ کتنا نازک ہے وہ پری پیکر جس کا جگنو سے ہاتھ جل جائے ان دنوں میری دوستی پرویز ہاشمی اور ازکار ازہر درانی سے ۔اب ازہر درانی کا شعر دیکھ لیں کس قدر مقبول ہوا: شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے ہمیں خبر ہے لٹیروں کے ہر ٹھکانے کی کیا کچھ یاد آ رہا ہے وہاں کینٹ ہی میں سرور مجاز کیا اعلیٰ شخصیت کے مالک تھے انہوں نے اپنے شعری مجموعہ پر اپنے ہاتھ سے اپنی مشہور غزل لکھ کر دی: زرخیز زمین کبھی بنجر نہیں ہوتیں دریا ہی بدل لیتے ہیں رستہ اسے کہنا بہت دوست یاد آ رہے ہیں ان کی باتیں بھی۔ چلیے پھر کبھی سہی آصف شفیع کے ایک خوبصورت شعر کے ساتھ کالم ختم کرتے ہیں: دشت سے شہر میں کچھ سوچ کے آنا آصف زندگی بھر کی ریاضت پہ نہ پانی پڑ جائے

بشکریہ نایٹی ٹو نیوز کالمز