2041

"ولن سے ہیرو تک کا سفر"

زندگی خواب اگر چھینے مگر پھر بھی؛ حوصلہ

               نہ ہارنے والے کو میں نے امر دیکھا ہے 

3 اپریل 2016 ' کرکٹ کی تاریخ میں وہ دن جب ایک ٹیم کے لئے" ریڑھ کی ہڈی "کی حیثیت رکھنے والے کھلاڑی اس دن کھیلے گئے میچ کے بعد اپنی ٹیم کے لئے " ولن " بن گئے ۔۔۔۔۔ 

ایشیائی ملک بھارت کا شہر کولکتہ ؛ اس دن ٹی ٹونٹی ورلڈکپ  2016 کا فائنل اپنے خوبصورت گروائند " ایڈن گارڈنز" میں منعقد کروا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

میچ اس وقت سنسنی خیز لمحات میں داخل ھوا جب انگلینڈ کی طرف سے دئیے گئے ہدف کا تعاقب کرتی ویسٹ انڈیز  المعروف" کالی آندھی" کو آخری 6 بالز پر  19 رنز درکار تھے ۔۔۔۔۔ 

انگلینڈ کے کپتان ٹیم کے سب سے نمایاں آل راوئنڈر  بین سٹوکس کے ہاتھ میں گیند تھما دیتے ہیں اور امیدوں کی ایک بھاری بھرکم پھوٹلی بین سٹوکس کے ناتواں کندھوں پہ لاد دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

بین سٹوکس آخری آوور کی پہلی گیند کرانے کے لئے دوڑتے ہیں ۔۔۔سامنے کریز پر موجود" کارلوس بھریت ویٹ "ویسٹ انڈیز کے لئے امید کی آخری کرن ہیں ۔

گیند کارلوس بریتویٹ کے بلے س لگ کے باوئنڈری کے اس پار چلی جاتی ہے اور امپائر دونوں ہاتھ اٹھا کر 6 کا اشارہ کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔ 

بین سٹوکس کے دوسرے ؛ تیسرے ؛ اور چھوتے مسلسل گیندوں پر کارلوس بریتویٹ گیند کو فضائی راستہ دکھاتے ہیں اور ایک جیتی ھوئی بازی انگلینڈ کے ہاتھوں سے چھین لیتا ہے۔۔۔۔۔۔ 

کل تک ٹیم کا سب سے اہم پلئر پچ پر مایوسی کی حالت میں بیٹھ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

"بین سٹوکس کہتے ہیں کہ اس میچ کے بعد اکثر مجھے ان چار چھکوں کا طعنہ دیا جاتا۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ میں جہاں سے گزرتا لوگ ہر قسم کے جملے کستے مگر میں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی محنت جاری رکھی ۔"

انتہائی سخت حالات  کے باوجود بین سٹوکس مایوس نہ ھوا  اور پھر ایک دن کرکٹ کی تاریخ کا ایسا واقع رونما ھو جاتا ہے کہ دنیا دنگ رہ جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔ 2 سال پہلے ٹیم کو فائنل نہ جتوانے والے" ولن"  اپنے اوپر لگے اس بدنما داغ کو مٹانے کے لئے ایک بہترین موقع پاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ 

لارڈز کرکٹ گروائنڈ ؛ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے سال 2019 میں ھوئے ایک روزہ کرکٹ کے تاریخ کے سب سے دلچسپ ورلڈ کپ فائنل کی میزبانی کی۔۔۔۔۔۔

کرکٹ کی دو بہترین ٹیمیں انگلینڈ اور نیوزیلینڈ لارڈز کرکٹ گروائنڈ پر ٹرافی کے حصول کے لئے گھتم گھتا تھیں۔۔۔۔۔۔

کرکٹ کا یہ فائنل اس وقت دلچسپ ھوا جب  بظاہر 242 رنز کا آسان  ہدف حاصل کرنے کے لئے انگلینڈ کی ٹیم شدید مشکلات کا شکار ھوئی ۔۔۔۔۔ مگر اس تمام مشکل صورتحال میں  2016 کے وہی ولن جی ہاں بین سٹوکس سیسہ پلائی دیوار بنے رہے ۔۔۔۔۔ ۔۔۔اگر یوں کہا جائے کہ بین سٹوکس تن تنہا اس وقت لڑ رہے تھے تو غلط نہ ھو گا کیونکہ نن سٹرائیک اینڈ "پر موجود کوئی بھی کھلاڑی مشکل وقت میں بین سٹوکس کو ؛ صحیح ساتھ نہ دے سکا ۔۔۔۔۔ 

کرکٹ کو دنیا میں شناخت دینے والے ؛ کرکٹ کے موجد اپنے پہلے عالمی کپ کے حصول سے بس 15 رنز کی دوری پر تھے اور ان کے پاس 4 گیندیں ہی باقی تھیں ۔۔۔۔ مگر انگلینڈ کو سکون دینے والی بس ایک ہی بات تھی ؛ وہ یہ کہ بین سٹوکس اب بھی کریز پر موجود تھا ۔۔۔۔۔۔ 

آوور کی تیسری گیند کرانے کے لئے ٹرینٹ بولٹ بالکل تیار کھڑے تھے ۔۔۔۔۔ اب کی بار بین سٹوکس کے لئے2016 کے مقابلےمیں معاملہ بالکل  الٹ تھا ۔۔۔۔۔ آوور کی اس  گیند پر سٹوکس نے باولر کو خوبصورت  چھکا رسید کیا ۔۔۔۔ گراوئنڈ تماشائیوں کی آواز سے گونج اٹھا ۔۔۔۔۔ بین سٹوکس ولن سے ھیرو کی جانب محو سفر تھا بس اسے اب 3 بالز پہ 9 رنز درکار تھے ۔۔۔۔۔۔۔ 

باولر کے اگلی گیند پر سٹوکس نے زوردار شاٹ کھیلنے کی کوشش کی مگرگیند باوئنڈری کے اس پار نہیں گئی۔ بین سٹوکس ایک رن بنانے کے بعد دوسرے رن کے لئے دوڑے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قسمت کی دیوی انگلینڈ اور بین سٹوکس پر مہربان ھوئی اور فیلڈر کے تھرو کو کیپر بروقت نہیں پکڑ سکے اور اوور تھرو کے  4 رنز اضافی مل گئے ۔۔۔۔  یوں اب انگلینڈ کو میچ جیتنے کے لئے 2 بالز پر صرف 3 رنز درکار تھے۔۔۔۔۔ بین سٹوکس نے اگلی گیند پر 2 رنز لینے کی کوشش کی مگر  ایک رن ہی لے سکے اور دوسرا رن لینے کی کوشش میں" نن سٹرائیکر "رن آووٹ قرار پائے مگر انگلینڈ کے لئے خوش قسمتی یہ تھی کہ سٹوکس اب بھی سٹرائیکر اینڈ پر موجود تھا ۔۔۔اب 1 بال پہ ،2  رنز چاہئے تھے ۔۔۔۔۔ بین سٹوکس نے گیند کو آہستہ سے کٹ کیا کہ شاید 2 رنز مل جائیں مگر قسمت کو کچھ اور منظور تھا ۔۔۔۔۔ اس آخری بال پر ایک ہی رن بن پایا یوں مقابلہ برابر ھوا۔۔۔۔۔ ۔۔

سپر آوور میں  انگلینڈ نے نیوزیلنڈ کو 15 رنز کا ٹارگٹ دیا جو کہ پھر برابر ھوا مگر انٹرنیشنل کرکٹ کے رولز کے مطابق میچ میں سب سے زیادہ چھکے چوکے لگانے والے ٹیم کو فتحیاب قرار دیا گیا یوں  انگلینڈ تاریخ میں پہلی بار عالمی کپ کا سہرا سر پر سجانے میں کامیاب ھوا اور یوں بین اسٹوکس اپنی ٹیم کو پہلی بار عالمی کپ جتوانے میں کامیاب ھوئے ۔

کچھ عرصے قبل ٹیم کے لئے ڈراونا خواب ثابت ھونے والے بین سٹوکس اب ایک ھیرو کی حیثیت اختیار کر چکے تھے.  ۔۔۔۔ ان کے ہی اننگز کے بدولت انگلینڈ ایک ہارتا ھوا میچ واپس اپنی طرف کھینچ لایا۔۔۔۔۔۔۔۔

صاحبو!!!!!!! دنیا کے اس عظیم کرکٹر کی زندگی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ زندگی کے کسی بھی موڑ پہ نا امید نہیں ھونا چاہئے ؛ چاہے کتنے ہی زخم ہمیں ملے ہم نے حوصلہ نہیں ہارنا ۔۔۔۔۔ کیونکہ "ولن" سے "ھیرو " تک کا سفر مشکل ضرور ہے پر ناممکن بالکل بھی نہیں ۔۔۔۔۔

بشکریہ اردو کالمز