وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد جنہیں گومل یونیورسٹی کے ملازمین گومل یونیورسٹی کا افتخار کہتے ہیں نے بطور وائس چانسلر گومل یونیورسٹی اپنی مدت ملازمت میں عزت، پیار ، محبت کا ایسا بیج بویا جس نے گومل یونیورسٹی میں قومیت کو ختم کرکے سب کو صرف گوملین فیملی کے ہار میں پیرودیا ۔وائس چانسلر کی سربراہی میں گومل یونیورسٹی جہاں طلباء کو تعلیمی میدان میں کامیابی سے ہمکنار کرانے کیلئے اساتذہ دن رات محنت کرر ہے ہیں وہیںطلباء کیلئے ہم نصابی سرگرمیاں، مختلف کھیلوں کے مقابلے کا انعقاد کروانا بھی وائس چانسلر کی ترجیحات رہی ہیں ۔ اسی تناظر میں گومل یونیورسٹی میں آل پاکستان ہم نصابی سرگرمیوں کے مقابلے میں پاکستان کے تمام صوبوں سے طلباء کی بڑی تعداد نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اسی طرح وائس چانسلر لٹریری ایوارڈ اور آل ڈیرہ ہم نصابی سرگرمیوں کا انعقاد بھی کروایا جا چکاہے۔
گومل یونیورسٹی میں مختلف ممالک سے آئے ہوئے زیر تعلیم غیر ملکی طلباء کو اپنے اپنے ممالک کی ثقافت کو اجاگر کرنے کے حوالے سے تقریبات کا انعقاد کروانا وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد کا احسن اقدام ہے جس کا مقصد ان غیر ملکی طلباء کو یہ باور کروانا کہ یہ غیر ملکی طلباء اپنے آپ کو اکیلا نہ سمجھیں اور ان کو بھی اپنی ثقافت کو اجاگر کرنے کیلئے مکمل آزادی ہو ۔
گومل یونیورسٹی میں اساتذہ اور ملازمین جو ہر وقت اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں ان کیلئے صحت مندانہ تفریح کی فراہمی کیلئے وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد کی خصوصی ہدایت پرمیراتھن ریس ، کرکٹ میچ، بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کروائے گئے تاکہ اساتذہ اور ملازمین کو بھی مثبت اور صحت مندانہ تفریح کے مواقع فراہم ہو ںجو نہ صرف ان کو جسمانی بلکہ ذہنی سکون کا باعث بھی بنے ۔
وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد کے دور میں گومل یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں کے تقریبا7 وائس چانسلرز صاحبان نے گومل یونیورسٹی میں وزیرستان کے علاقہ میں بائیو ڈائیورسٹی کے حوالے سے پہلے قومی مشاورتی اجلاس میں شرکت کی۔ اسی طرح گومل یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایم اے/ایم ایس سی کے طلباء داخلے میں توسیع اوربی اے پرائیویٹ طلباء کیلئے ایسوسی ایٹ ڈگری ان آرٹس(ADA)کو پرائیوٹ طلباء کیلئے اجراء کے اہم ترین مسئلہ پر صوبہ خیبرپختونخوا کی تمام پبلک یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی آن لائن میٹنگ کا انعقاد کروانا بھی وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد کی کاوشوں میں شامل ہے۔
گزشتہ کچھ مہینوںسے وائس چانسلرگومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد کی ہدایت پرگومل یونیورسٹی میں سیمینار، ورکشاپس، سمپوزیم کا انعقاد کروایا جا رہا ہے جس کا مقصد طلباء کو انکے متعلقہ شعبہ میں دی جانیوالی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی عملی زندگی میں دو ر حاضر کے جدید تقاضوں کے مطابق رہنمائی فراہم کرنا ہے اور اس وقت گومل یونیورسٹی میں سمر سمسٹر بھی شروع ہے جہاںطلباء ایک طرف سمر سمسٹر میں اپنی رجسٹریشن کروا رہے ہیں تودوسری طرف سمر میں اسطرح کے سیمینار اور ورکشاپس کے انعقاد سے گومل یونیورسٹی میںریسرچ کلچر کو فروغ مل رہا ہے ۔ وائس چانسلر کی ہدایت پر گومل یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات میںہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)اسلام آباد کی معاونت اورتعاون سے کام کرنیوالے وزیراعظم کامیاب جوان مرکز جس کا نام بعد میں تبدیل ہو کرپرائم منسٹر یوتھ ڈویلپمنٹ پروگرام ہو گیا کے گومل یونیورسٹی میں فوکل پرسن ڈاکٹر شیر زمان کی زیر نگرانی گومل یونیورسٹی کے مین کیمپس اور قائداعظم کیمپس میںسیمینار، ورکشاپس، سمپوزیم کا انعقاد شروع کیاگیا۔ جس میںگومل یونیورسٹی کی فیکلٹی آف ویٹرنری اینڈ اینمل سائنسز(فواس) کے انسٹیٹیوٹ آف مائیکرو بائیالوجی کا''صحت کی دیکھ بھال کے نظام میں بائیو سیفٹی اور بائیو سیکیورٹی کی ضرورت '' کے عنوان پراورشعبہ اینمل اینڈ پولٹری پروڈکشن اور کامیاب جوان مرکز کے زیر اہتمام ''پریکٹیکل ہسٹو پیتھالوجی'' کے عنوان ورکشاپس کا اہتمام کیا گیا اسی طرح شعبہ پبلک ریلیشن سیکشن کاگومل یونیورسٹی کے طلباء اورڈیرہ اسماعیل خان کے پرنٹ ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا سے وابسطہ صحافیوںکیلئے''میڈیااور سوشل میڈیاکا ذمہ دارانہ استعمال''کے عنوان ،انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (آئی ای آر)کے زیر اہتمام ''تدریس بطور پیشہ '' کے عنوان پر گومل یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس کے زیر اہتمام ''اقتصادی ترقی میں حالیہ رجحانات'' کے موضوع پر'گومل یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف کیمیکل سائنسز(آئی سی ایس)کے زیر اہتمام '' اکیڈمیا انڈسٹری لنکیجز'' کے عنوان پر گومل یونیورسٹی کی فیکلٹی آف فارمیسی کے گومل سنٹرآف فارماسوٹیکل سائنسز(جی سی پی ایس)کے زیر اہتمام ''پیٹنٹ فائلنگ'' کے حوالے سے 'گومل یونیورسٹی کے شعبہ کامرس کے تعاون سے ایموزون فی لانسنگ جبکہ انسٹیٹیوٹ آف فزکس کے زیر اہتمام یونیورسٹی اساتذہ اور شعبہ فزکس کے گریجویٹ طلباء کی صلاحیتوں کو نکھارنے کیلئے سہ روزہ ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا اسی طرح گومل یونیورسٹی میں پرائم منسٹر گرین یوتھ موومنٹ کے زیر اہتمام درخت اگانے اوران کو بچانے کیلئے گرین یوتھ موومنٹ کلب اورگومل یونیورسٹی کی گرین یوتھ موومنٹ( جی وائی ایم ) کی اورسائیٹ کمیٹی کے اراکین نے گومل یونیورسٹی میں درختوں کی پانی کے ذریعے صفائی کرکے انہیں بچانے کے حوالے سے واک کا بھی اہتمام کیا۔ ان سیمینارز، ورکشاپسز، سمپوزیم میں پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، معروف سکالرز، ریسرچرز کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک کے سکالرز اور ریسرچرز نے آن لائن شرکت کرکے اپنے شعبہ کے حوالے سے اپنے تجربات اور عملی زندگی میں پیش آنیوالے مشکلات اور ان کے حل کے بارے میں طلباء ، اساتذہ کو رہنمائی دی۔ جووائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد کی مثبت سوچ اور تعلیم دوستی کا ثبوت کو ظاہر کرتا ہے ۔
ان پروگراموں میں خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلرگومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمدکا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کا کام ورکشاپس اور سیمینار کا انعقاد کروانا ہوتا ہے جس کا مقصد متعلقہ شعبہ میں تعلیم کے ساتھ ساتھ تحقیق کو فروغ دینا ہوتا ہے ۔ طلباء و اساتذہ کے ساتھ ساتھ متعلقہ شعبہ جات سے وابستہ علاقے کے لوگوں کی بڑی تعداد بھی اس سے استفادہ حاصل کر تی ہے۔یونیورسٹیوں میں تعلیم کے ساتھ ساتھ آگاہی و معلوماتی سیشن سے قوم کے معماروں کی تربیت میں دور حاضر کے جدید تقاضوںکو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کے بارے میں مدد اور رہنمائی ملتی ہے جو انکی عملی زندگی میں انکی پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں نکھار پیدا کرتی ہیںاورانکے لئے فائدہ مند ہوتی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ میں وزیراعظم پاکستان، ہائیرایجوکیشن کمیشن(ایچ ای سی) اسلام آباد اور حکومت پاکستان کا بھی مشکور ہوں کہ جن کے تعاون سے اس طرح کے تعلیمی پروگراموں کے انعقادمیں یونیورسٹیوں کے ساتھ تعاون کیا جا رہا ہے کیونکہ قوم کے معماروں کی بہترین تشکیل نو کیلئے یونیورسٹیوں کو اسی طرح مثبت اقدامات کرنا بہت ضروری ہوتا ہے معاشرے کی بہتری اورملک کی ترقی کا باعث بنتے ہیں۔
وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد کا مزید کہنا تھا کہمیں کبھی نہیں چاہوںگا کہ جو تکلیف اور مسائل ہم نے دیکھے وہ ہمارے طلباء دیکھیں' ان ورکشاپس، سیمینار، سمپوزیم میں پاکستان کے مشہور و معروف ماہرین آپ کو سیکھانے آئے ہیں اورمیں امید کرتا ہوں کہ آپ ان سے جتنا علم حاصل کر سکتے ہیں وہ کریںڈاکٹر افتخار احمد نے نوٹ بک کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر طلباء اس ورکشاپ میں اہم چیزوں کو اپنے پاس محفوظ کرے تاکہ مستقبل میں آپ تمام ان سے فائدہ لے سکیںکیونکہ یہی چیزیں مستقبل میں آپ طلباء کیلئے کامیابی اور ترقی کا ذریعہ بنیں گی۔
گومل یونیورسٹی کے مختلف شعبہ میں ہونیوالی ورکشاپ ، سیمینار اور سمپوزیم میں وائس چانسلر وویمن یونیورسٹی صوابی پروفیسر ڈاکٹر شاہانہ عروج کاظمی ،وائس چانسلر یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں پروفیسرڈاکٹر خیر الزمان'سابق ڈین آف سائنسز پشاوریونیورسٹی اور چیئر مین شعبہ فزکس پروفیسر ڈاکٹر محمد ریاض خان 'پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر آفاق احمد، مالاکنڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر رشید احمد، ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ڈاکٹر بنیامین،یونیورسٹی آف سوات کے ڈاکٹر رفیع الدین 'سربراہ شعبہ کلینکل مائیکروبائیالوجی لیب وویمن یونیورسٹی صوابی ڈاکٹر نین تارابخاری'میریٹوریس پروفیسر گومل یونیورسٹی ریٹائرڈ پروفیسر ڈاکٹر موسی کلیم ،ڈائریکٹرسی اے ڈی آرکامسیٹس یونیورسٹی ایبٹ آباد کیمپس پروفیسر ڈاکٹرجمشید اقبال (تمغہ امتیاز)'سینئر رپورٹر روزنامہ دی نیوز و اسسٹنٹ پروفیسر اباسین یونیورسٹی پشاور ،ڈاکٹر یوسف علی 'سابق چیئر پرسن شعبہ صحافت گومل یونیورسٹی ڈاکٹر روبینہ روشن 'شعبہ ہسٹرو پیتھالوجی ، پشاور میڈیکل کالج 'پروفیسر ڈاکٹر محمد ممتاز خان، انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، خیبرمیڈیکل یونیورسٹی کوہاٹ'ڈاکٹر محمد حارث 'ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (مردانہ )ڈیرہ مسرت حسین بلوچ 'ایم ڈی چشمہ شوگر ملز مرزا ندیم اور پلانٹ منیجر احد انٹرنیشنل فارما ڈاکٹر اصغر' نجی کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر ماجد خان اور بیونر کمپنی کے سی ای او شہاب خان اور ان کی ٹیم نے شرکت کی جبکہ آن لائن یو آئی ٹی ایم ملائیشیا،کورین یونیورسٹی، شفاتعمیر ملت یونیورسٹی اسلام آباد،بہائو الدین زکریا یونیورسٹی ملتان، این اے آر سی و دیگر اداروں کے تقریبا50ریسرچ شریک تھے جنہوں نے اپنے تجربات کی روشنی میں طلباء کو اپنے اپنے متعلقہ شعبہ میں رہنمائی فراہم کی۔
گومل یونیورسٹی زندہ باد پاکستان پائند باد